بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی اعتبار سے اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک یہ خطہ بیرونی طاقتوں، ریاست دشمن عناصر اور ان کے مقامی سہولت کاروں کی سازشوں کا مسلسل نشانہ بنتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے مربوط اور منظم حملے اسی طویل دشمنی اور پراکسی جنگ کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد نہ صرف امن و امان کو تہہ و بالا کرنا تھا بلکہ بلوچستان کے عوام اور ریاستِ پاکستان کے درمیان اعتماد کی خلیج پیدا کرنا بھی تھا۔ ان حملوں کا دائرہ کار، ان کی منصوبہ بندی اور ان میں معصوم شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ یہ محض چند مقامی شدت پسندوں کی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک منظم بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
31 جنوری 2026 کو کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی جیسے مختلف اور جغرافیائی طور پر دور دراز علاقوں میں ایک ہی دن میں دہشت گردانہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن نے بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایک ہمہ جہت منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ یہ حملے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، سیکیورٹی فورسز کو دباؤ میں لانے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیے گئے۔ تاہم سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس تیزی، پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کے ساتھ ان حملوں کا جواب دیا، اس نے دشمن کے تمام تر اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کلیئرنس آپریشنز کا آغاز کیا اور دو خودکش بمباروں سمیت ڈیڑھ سو کے لگ بھگ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیاگیا ہے۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ریاست اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مقامی آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ جنگ عوام کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے تحفظ کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
ان دہشت گردانہ حملوں کا سب سے دلخراش پہلو معصوم شہریوں کی شہادت ہے۔ گوادر اور خاران میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں کو نشانہ بنانا کسی بھی طور پر کسی سیاسی یا نظریاتی جدوجہد کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ بے گناہ شہریوں کی شہادت دراصل اس سفاک ذہنیت کا اظہار ہے جو انسانی جان کی کوئی قدر نہیں کرتی۔ یہ وہ لوگ تھے جو روزی روٹی کے حصول، گھریلو ذمے داریوں اور معمول کی زندگی میں مصروف تھے، مگر دہشت گردوں نے انھیں محض اس لیے نشانہ بنایا تاکہ خوف کی فضا قائم کی جا سکے اور یہ تاثر دیا جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے اس بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
اسی دوران وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے 17 جوان پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ ان بہادر سپوتوں نے جان کی پروا کیے بغیر دشمن کا مقابلہ کیا اور اس سرزمین کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ شہادت کا یہ رتبہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسی عظیم قربانی ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی، امن اور خودمختاری مفت میں حاصل نہیں ہوتیں۔ ان شہداء کے اہلِ خانہ کا حوصلہ، صبر اور عزم اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں جس طرح واضح طور پر کہا گیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد سرغنوں نے کی اور دورانِ کارروائی ان کا براہ راست رابطہ موجود تھا، وہ دراصل پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ یہ کوئی نیا الزام نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کے شواہد وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔
کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، دہشت گرد نیٹ ورکس کے اعترافات اور انٹیلی جنس رپورٹس اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے بیرونی ہاتھ سرگرم ہیں۔گزشتہ دو دنوں میں فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے مجموعی طور پر 142 دہشت گردوں کا انجام کو پہنچنا اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے نہ صرف چوکس ہیں بلکہ بھرپور اور مسلسل کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ سینیٹائزیشن آپریشنز کا تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ کسی بھی دہشت گرد، اس کے سہولت کار یا معاون کو چھپنے کا موقع نہیں دیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی علاقے میں کیوں نہ ہو۔
یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ بلوچستان ہی کیوں دہشت گردوں کا ہدف بنتا ہے۔ اس کا جواب صوبے کی اسٹریٹجک اہمیت، قدرتی وسائل اور مستقبل کے معاشی امکانات میں پوشیدہ ہے۔ گوادر بندرگاہ، سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتیں ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہی ہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے سرمایہ کاری کا ماحول خراب کرنا، عوام میں بداعتمادی پیدا کرنا اور ریاستی رٹ کو کمزور دکھانا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے عوام میں یہ شعور بیدار ہو رہا ہے کہ دہشت گردی ان کے مسائل کا حل نہیں بلکہ ان کی مشکلات میں اضافے کا سبب ہے۔ یہ عناصر نہ تو بلوچ عوام کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی ان کے حقوق کے لیے مخلص۔ ان کا مقصد صرف اور صرف بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی معصوم جانیں کیوں نہ قربان کرنی پڑیں۔
ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر بھی ایسے اقدامات کرے جو بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں مزید مضبوطی سے شامل کریں اور محرومی کے احساس کو کم کریں۔وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن’’ عزمِ استحکام‘‘ اسی جامع حکمت عملی کا مظہر ہے۔ اس وژن کا مقصد محض عسکری کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ انتہاپسندی کے اسباب کا تدارک، غیر قانونی مالی معاونت کی روک تھام، سرحدی سلامتی کا مؤثر نظام، اور ریاستی اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ہے۔ جب تک یہ تمام عناصر یکجا ہو کر کام نہیں کریں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔
اس ضمن میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ دشمن کی ایک بڑی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خوف، مایوسی اور انتشار کو فروغ دیا جائے۔ افواہوں، منفی پروپیگنڈے اور آدھی سچائیوں کے ذریعے عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں ذمے دارانہ صحافت، تصدیق شدہ معلومات کی ترسیل اور قومی یکجہتی کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر فرد پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں کو آگے پھیلانے سے گریز کرے اور دشمن کے بیانیے کا نادانستہ آلہ کار نہ بنے۔
آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملے اور ان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں پاکستان کے عزم، حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا عملی ثبوت ہیں۔ معصوم شہریوں کی شہادتیں اور جوانوں کی قربانیاں ایک عظیم امانت ہیں جن کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحد رہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے پہلے بھی دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کیا ہے اور اسے شکست دی ہے، اور آج بھی ان شاء اللہ یہ جنگ کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔
یہ وقت مایوسی یا انتشار کا نہیں بلکہ عزم، اتحاد اور استقامت کا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اور اس دل پر وار کرنے والوں کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ یہ قوم اپنے دفاع، اپنے عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ دشمن چاہے جتنی بھی سازشیں کر لے، پاکستان کے امن، ترقی اور خودمختاری کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ یہ ملک اپنے شہداء کے خون، اپنے عوام کے حوصلے اور اپنے محافظوں کی جرات سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔