جائز حقوق کیلئے اسلام آباد کا رخ کریں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں


ویب ڈیسک February 01, 2026
فوٹو: ایکسپریس نیوز

خیبر:

خیبر پختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل افریدی نے کہا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اس سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے سے خطاب میں سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اسلام آباد جانے سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ تمام متاثرہ علاقوں کی اجتماعی رائے سامنے آ سکے، جس کے بعد تمام قبائلی اضلاع کا ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد کر کے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے اور اپنے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پوری دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال بہتر رہی، تاہم رجیم چینج آپریشن کے ذریعے بیرونی سازش کے تحت عمران خان کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا، جس کے بعد صوبے پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حالات کی خرابی سے خبردار کیا تھا مگر ان خدشات کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا گیا، حتیٰ کہ اس وقت کی وفاقی حکومت نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے بتایا گیا کہ دہشت گرد پہاڑوں تک پہنچ چکے ہیں مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، پھر آگاہ کیا گیا کہ وہ وادی میں اتر آئے ہیں لیکن کسی نے توجہ نہیں دی، بعد ازاں دہشت گرد گھروں تک پہنچ گئے اور بندوق کی نوک پر کھانا لینے لگے، اب لوگ جاتے تو کہاں جاتے اور کیا کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ دہشت گردوں نے کھانا کیسے لیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ گھروں تک پہنچے کیسے اور انہیں روکنے والی سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کے بعد گھروں پر ڈرون حملے شروع ہوئے، تیراہ میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا، حتیٰ کہ ایک معصوم بچی کو شہید کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مزید قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام اقدامات ملٹری آپریشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کیے گئے۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی نشان دہی کی تھی کہ تیراہ میں آپریشن کے ذریعے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ علاقے میں برف باری متوقع تھی، مگر ان کی بات نہیں مانی گئی، بار بار منع کرنے کے باوجود تیراہ کے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا اور جب بند کمروں کے فیصلے ناکام ہوتے نظر آئے تو پریس ریلیز کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ لوگ خود علاقہ چھوڑ رہے ہیں، یہ پریس ریلیز درحقیقت اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف قبائلی عوام پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، یہ ہمارے ساتھ مذاق ہو رہا ہے مگر اس بار صوبے کے عوام اس مذاق کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ثابت کریں گے کہ قبائلی عوام دہشت گرد نہیں بلکہ غلط پالیسیاں دہشت گردی کو جنم دے رہی ہیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دراصل وفاق کی ذمہ داری تھی جو صوبائی حکومت اپنے وسائل سے پوری کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ سابقہ آپریشنز کے دوران وفاق نے بے گھر افراد کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا، آئی ڈی پیز سے کیے گئے وعدے بھی پور ے نہیں کیے گئے جبکہ صوبائی حکومت اب تک اپنے وسائل سے 7 ارب روپے سے زائد ادا کر چکی ہے حالانکہ آئی ڈی پیز کے 52 ارب روپے تاحال وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں اور اس کے علاوہ مجموعی طور پر صوبے کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمہ ہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ متاثرین کے لیے چیف منسٹر ریلیف اکاؤنٹ کھولا جائے گا اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حقوق کے معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ملاقات کی دعوت ملی ہے، جس میں وہ صوبے کے عوام کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ دیگر قبائلی اضلاع کے دورے بھی کریں گے کیونکہ تمام قبائل نے پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ان واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے اور شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

مقبول خبریں