حافظ نعیم کے 14 فروری دھرنے پر شارع فیصل بند نہیں کرنے دیں گے سخت اقدامات ہوں گے، وزیراعلیٰ سندھ

حافظ نعیم سیٹ چھوڑیں تاکہ کوئی اور آجائے۔ منتخب کرنے والے حلقے کی عوام کو حافظ نعیم نے پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے


اسٹاف رپورٹر February 02, 2026

کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سنا ہے کہ 14 فروری کو حافظ نعیم الرحمن دھرنا دیں گے۔ شارع فیصل پر ٹریفک روکنے نہیں دیں گے آئندہ سخت اقدامات ہونگے۔ حافظ نعیم سیٹ چھوڑیں تاکہ کوئی اور آجائے۔ منتخب کرنے والے حلقے کی عوام کو حافظ نعیم نے پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول چنیسر گوٹھ میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر کمشنر کراچی سید حسن نقوی، صوبائی وزراء اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سات روزہ انسدادِ پولیو مہم 8 فروری تک جاری رہے گی، جس کے دوران سندھ بھر میں ایک کروڑ پانچ لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مہم کی کامیابی کے لیے 80 ہزار پولیو ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کی سیکیورٹی کے لیے 21 ہزار پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔مراد علی شاہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیو پاکستان کے لیے باعثِ شرمندگی ہے، کیونکہ یہ مرض اب دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود رہ گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی ادارۂ صحت نے بارہا تصدیق کی ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور اس سے بچوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔وزیراعلیٰ سندھ نے علماء کرام، سماجی رہنماؤں اور بااثر شخصیات سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام میں پولیو کے خلاف آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں انسدادِ پولیو مہم متاثر ہوئی، ڈونرز کی تعداد میں بھی کمی آئی، تاہم بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ مہم چل رہی ہے، لیکن اچانک کیسز سامنے آ جاتے ہیں۔مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے بچوں کو سب سے پہلے پولیو کے قطرے پلا کر مثال قائم کی تھی، اور آج بھی ہر طبقے کے تعاون کے بغیر پولیو کا خاتمہ ممکن نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے سیاسی معاملات پر بھی کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ 14 فروری کو حافظ نعیم الرحمن دھرنے کا اعلان کر رہے ہیں، لیکن شارع فیصل پر ٹریفک بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، آئندہ ایسے اقدامات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کو سندھ اسمبلی میں عوام نے دو نشستیں دی تھیں، ایک رکن اسمبلی میں موجود ہیں جبکہ دوسرے نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا۔ اگر حافظ نعیم کو آئین کے تحت حلف اٹھانے میں دشواری ہے تو وہ نشست چھوڑ دیں تاکہ کوئی اور عوام کی نمائندگی کر سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دھرنوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو پریشان کرنا بند کیا جائے، کیونکہ منتخب حلقے کی عوام اس صورتحال سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جوڈیشل انکوائری کا انتظار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو ایک چھتری کے نیچے لایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ سانحے میں شہید ہونے والے ہر فرد کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ اب تک 26 چیکس متاثرہ خاندانوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک غلط عمل ہے۔مراد علی شاہ نے میڈیا پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر میں انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے نیوز بلیٹن میں صرف 10 سیکنڈز دینے کی درخواست کی گئی، لیکن کسی چینل نے وقت نہیں دیا، جبکہ پیڈ مواد بار بار نشر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے قومی مسئلے پر میڈیا کو اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں