کوئٹہ سے موصولہ تازہ اطلاعات کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے گزشتہ 40 گھنٹوں کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کارروائیوں میں 145 دہشت گرد ہلاک ہوئے، 17 سیکیورٹی اہلکار شہید جب کہ 31 معصوم شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار صرف اطلاع نہیں بلکہ ایک عمیق انسانی اور سیاسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس میں بلوچستان کی مشکلات، سیکیورٹی فورسز کی قربانی اور معاشرتی ذمے داری سب شامل ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گردی کوئی نئی حقیقت نہیں۔ یہ صوبہ کئی دہائیوں سے شدت پسند گروہوں اور دہشت گرد نیٹ ورک کے نشانے پر رہا ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی پوزیشن، قدرتی وسائل اور بین الاقوامی سرحدیں اسے داخلی و خارجی خطرات کے لیے حساس بناتی ہیں۔ دہشت گرد بلوچستان میں اپنی کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف شہریوں کی جانیں لیتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور ترقی کے راستے میں رکاوٹیں بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں سیکیورٹی فورسز کی قربانی اور حکومت کی حکمت عملی ایک ایسا ستون بنتی ہے جو صوبے میں امن کے قیام کی بنیاد رکھتی ہے۔
بلوچستان ایک طویل عرصے سے امن و امان، ترقی اور استحکام کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریاستی اداروں کی جانب سے بارہا اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح علیحدگی پسند گروہ بھارت کی خفیہ حمایت کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان دعوؤں نے نہ صرف ملکی سلامتی کے خدشات کو بڑھایا ہے بلکہ خطے میں جیو اسٹریٹجک کشیدگی کو بھی نمایاں کیا ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے منسلک عناصر بلوچستان میں دہشت گرد حملوں، سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ریاست کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں محض داخلی شورش نہیں بلکہ ایک منظم بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا اور خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ بھارت ان گروہوں کو مالی وسائل، تربیت اور خفیہ مدد فراہم کر کے بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔
یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے کہ آیا کسی ریاست کو دوسرے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ دہشت گردوں کی ہلاکت صرف ایک حفاظتی اقدام نہیں، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے پُر عزم ہے اور کسی بھی شدت پسند گروہ کو عافیت کی گنجائش نہیں دی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف دہشت گردی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام میں بھی یقین پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔تاہم، دہشت گردی کے اس مقابلے میں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو ہے وہ معصوم شہریوں کی جانوں کا ضیاع ہے۔
گزشتہ کارروائیوں میں 31 شہری جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ انسانی المیہ نہ صرف دلسوز ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے ذریعے معصوم لوگوں کی زندگیوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے۔ ایسے میں حکومت کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کے لیے جدید حکمت عملی اپنائے اور عوام کو اس معاملے میں فعال شراکت دار بنائے۔
سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانی اس مسئلے کا ایک اور پہلو ہے۔ 17 جوان اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عوام کی حفاظت کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ ان کی قربانی کو سلام پیش کرنا ہر شہری کا فرض ہے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف محاذ پر ڈٹے رہ کر وطن کو محفوظ بناتے ہیں۔ شہداء کی قربانی اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا یہ واضح پیغام کہ ’’ ریاست دہشت گردوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگی اور شہداء کے خون کا بدلہ لیا جائے گا‘‘ ایک مضبوط عزم کی نشانی ہے۔ یہ بیان محض سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ عملی عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کا اظہار عوام کے لیے امید کی کرن ہے اور دہشت گردوں کے لیے انتباہ ہے کہ ان کی کارروائیوں کے نتائج بھاری ہوں گے۔ ایسے بیانات عوام میں حوصلہ پیدا کرتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلوں کو مزید بلند کرتے ہیں، جو کسی بھی کامیاب دفاعی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گردی کی جڑیں پیچیدہ ہیں۔ یہ صرف مذہبی یا سیاسی انتہا پسندی تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی محرومی، سماجی ناانصافی اور خطے کی جغرافیائی حساسیت بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم اور روزگار کے مواقع میں کمی انھیں شدت پسند گروہوں کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ معاشرتی، اقتصادی اور تعلیمی اصلاحات بھی لازم ہیں۔ ریاست کو نوجوانوں کو مثبت راستوں پر لے جانے کے لیے وسائل فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ دہشت گردانہ سوچ سے دور رہیں اور اپنے خطے کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے بیان کے مطابق دہشت گردوں کی لاشیں حکومتی تحویل میں ہیں۔
یہ اقدام نہ صرف سیکیورٹی نقطہ نظر سے اہم ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری ہے۔ دشمن معاشرتی انتشار پھیلانا چاہتا ہے، اس لیے حکومت کی بہتر حکمت عملی عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے اور کسی منفی پروپیگنڈا کے مواقع کو محدود کرنے کے لیے اہم ہے۔بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے صرف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کافی نہیں۔ یہ سب کی مشترکہ ذمے داری ہے جس میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، میڈیا، مذہبی رہنما اور ہر شہری کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے معاشرتی شعور، معلومات کی شفافیت اور عوامی تعاون ضروری ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود مشکوک افراد کی فوری اطلاع دیں تاکہ سیکیورٹی فورسز موثر طریقے سے کارروائی کر سکیں۔
بلوچستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ خطہ صبر، قربانی اور حوصلے کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کے عوام نے ہر دور میں مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی ضروری ہے کہ عوام متحد رہیں، دہشت گردوں کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں اور اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ یہی حوصلہ اور عزم بلوچستان کو ایک محفوظ اور ترقی یافتہ صوبے میں تبدیل کر سکتا ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری یہ جنگ ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہے، لیکن وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ ریاست اس بحران کے سامنے کمزور نہیں ہے۔ شہریوں کی جانوں کے نقصان کے باوجود، حکومت کا عزم عوام کے لیے امید کی کرن ہے کہ دہشت گردوں کی سرگرمیاں ختم ہونے سے پہلے ہی بلوچستان میں امن قائم ہوگا۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمے داری ہے۔ شہداء کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے اور ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف معلومات فراہم کرے، اپنے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم اور شعور کی روشنی میں پروان چڑھائے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرے۔ بلوچستان کی ترقی اور امن کا خواب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ہر شہری اپنی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے نہ سمجھے۔ وزیرِ اعلیٰ کا بیان اور سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں امید کی علامت ہیں، لیکن حقیقی فتح تبھی ممکن ہے جب پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہو۔ یہی بلوچستان، اور یوں پاکستان، کو ایک محفوظ، مستحکم، اور ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کر سکتا ہے۔
آخرکار، بلوچستان کا امن پاکستان کے امن سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت سمیت تمام علاقائی قوتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پراکسی جنگیں پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہیں۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے جو دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔