وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بلوچستان واقعے پر بحث سمیٹ دی جب کہ بلوچستان میں دہشتگردی کاروائیوں کی مذمت اور عسکری اداروں کوخراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی واقعات کی شدید مذمت کرتا ہے، دہشت گرد کارروائیوں میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشت گردانہ کارروائیوں میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔
اس میں کہا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال زبردستی ذہنی دباؤ اور بلیک میننگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی پاکستانی اور بلوچ اقدار کی سراسر منافی ہے، ایوان سیکیورٹی فورسز قانون نافذ کرنے والے اداروں صوبائی حکومت بلوچستان اور سول انتظامیہ کے بروقت اور موثر اقدامات کو سراتا ہے۔
اس میں کہا گیا کہ ایوان شہداء زخمیوں کے اہل خانہ سے مکمل یکجتی کا اظہار کرتا ہے، شہری ابادی خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں، ریاست ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اصول پر فیصلہ کن کاروائی کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں موجود تمام جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی، سمجھنے کی ضرورت ہے یہ آذادی کی جنگ نہیں دہشت گردی ہے، اس جنگ کو مقصد پاکستان میں عدم استحکام پھیلانا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں لوٹ مار کر رہی ہیں، بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے ، باغی کے قریب 5 ارب ڈالرز مالیت کے منصوبہ جات پر کام شروع ہوا ہے ، پاکستان ترقی کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بدامنی کا مقصد پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری کو روکنا ہے، بد امنی کا مقصد پاکستان کے اسٹریٹجک پارٹنر چین کو دور بھیجنا ہے، ظلم ذیادتی گمشدہ علاقوں اور محرومی کا بیانیہ دہشت گردی کو چھپانے کے لیے بنایا جاتاہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پنجاب سے این ایف سی کے تحت چالیس فیصد ذیادہ حصہ ملتا ہے، بلوچستان میں 13 کیڈٹ کالجز ہیں 2 لاکھ آبادی والے شہروں میں ائیرپورٹ ہیں، بلوچستان میں 321 ٹیکنیکل تعلیمی ادارے ہیں، بلوچستان میں 13 ہسپتال بنیادی صحت کے مراکز 757 اور 25000 سے زاید سڑکیں ہیں، این ایف سی کے تحت بلوچستان کو پنجاب اور سندھ سے فی کس کے حساب سے دو گنا سے زیادہ رقم ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ91 فیصد پیسے بلوچستان میں وفاق کی جانب سے دئیے جاتے ہیں، اگر حقوق کی جنگ ہے تو حملہ صرف اسکولز اور ہسپتالوں پر کیوں کیا جاتا ہے، بینک عوام کی سہولت کے لیے بنائے گئے ہیں، پلوں اور رابطہ سڑکوں کو کیوں اڑایا جاتا ہے، اسکول بینک اور کاروبار چل رہے ہوں تو محرومیوں کا بیانیہ کیسے بنے گا، پاکستان گمشدہ افراد کے اعتبار سے ترقیافتہ ممالک سے بہتر ہے، یورپ اور امریکہ میں پاکستان سے ذیادہ گمشدہ لوگ ہیں۔
آپریشن کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچے، اسی ایوان میں ایک بڑی جماعت نے جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت نہیں کی، سی ڈی ایف اور وزیر اعظم کوئٹہ گئے، پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں شرکت نہیں کی، انٹیلی جینس کی کامیابی کی وجہ سے بچت ہو گئی ہے، بلوچستان میں مختلف اوقات میں سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا، ہرنائی اور پنجگور میں تین درجن سے زائد دہشت گرد مارے گئے، انٹیلی جینس معلومات کی وجہ سے ہماری فورسز الرٹ تھیں، آپریشن میں کل 177 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ٹی ٹی پی داڑھی رکھ کر مذہب کا لبادہ اوڑھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے بغیر داڑھی کے لسانیت کا لبادہ اوڑھتی ہے، دہشت گردوں نے بلوچ خواتین کو بے دردی سے شہید کیا، دہشت گرد چاہتے ہیں آپ کرکٹ کاروبار تفریح سب بند کر دیں، دہشت گرد یہ چاہتے ہیں دنیا کو لگے ہم مفلوج ہو چکے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر تفصیلی بریفننگ ایوان کو دینے کو تیار ہیں، افغانستان کے ٹریننگ کیمپوں اور بھارت کی فنڈنگ سے متعلق کئی شواہد عالمی دنیا کو دئیے ہیں، بھارتی چینلز پر کرکٹ میچ کی طرح بلوچستان واقعے پر کمنٹری کی گئی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ بلوچستان کے حالیہ حملوں پر سوالات ہی سوالات ہیں، اگر 147دہشتگرد مارے گئے تو باقی کہاں گئے؟ کئی کئی گھنٹوں تک ری ایکشن کیوں لیٹ ہوا؟ ہم دہشتگردی کی ہرگز حمائت نہیں کرتے، اس وجہ کو جانا جائے کہ بلوچستان میں خواتین کیوں خود کش حملہ اور بن رہی ہیں؟ خداکے لئے بلوچستان کی نوجوان نسل کو خود کش بننے سے بچا لیجئے، دہشتگردی کی وجوہات کا جڑ سے خاتمہ کریں۔
ایم کیو ایم رکن صوفیہ سعید نے کہا کہ دہشتگردوں یا ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والوں کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہونا چاہئے، دہشتگردی کے خلاف قومی یکجتی چاہئے تو بلدیاتی نظام چاہئے۔
جے یو آئی رکن عثمان بادینی نے کہا کہ حقائق یہ ہیں جب بلوچستان کے بچوں کو آپ نے کچھ نہیں دیا تو دشمن نے دے دیا، آج دشمن ہمارے بچوں کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے، بلوچستان کو چوبیس گھنٹوں میں ایک گھنٹہ بجلی دیتے ہو یہ حق یے؟ سی پیک دیا تو اسکالرشپ پر پنجاب کے بچے گئے بلوچستان کے بچے کیوں نہیں گئے؟ چار اضلاع کے بارہ مقامات پر بیک وقت حملے ہوئے تو آپ کہاں تھے؟ بلوچستان کے لوگ بھکاری نہیں، جب حق نہیں دوگے تو پھر ردعمل تو آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی یہ مشورہ بھی سننے کو تیار نہیں کہ مسئلہ حل کیسے کیا جائے، بلوچستان نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا آج اس چاغی میں کیوں آگ لگی ہے، بلوچستان کے بچے کیوں باغی ہورہے ہیں وجہ جان لیں، بلوچستان کے بتیس اضلاع میں سے صرف آٹھ اضلاع میں پیٹرول پمپس ہیں۔
بلوچستان کے نواب اور سردار بلوچستان میں بے بس ہوچکے ہیں، بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو کوئی پڑھا لکھا ہی سمجھا جاسکتا ہے، سپیکر صاحب، آپ ارکان پارلیمنٹ یا باہر سے آئین و پاکستانی پرچم کو ماننے والوں کو بڑھائیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہم مشکل میں ہیں ہمارا لیڈر جیل میں ہے، ملک کے سب سے بڑے لیڈر کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری اور جیل میں ان لاء فل ہے، جوڈیشلی سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے، جمہوریت اور انصاف ہوگا تو ملک آگے بڑے گا، ایک صوبے کو اس لیے بنیادی حقوق سے محروم رکھ رہے ہیں کہ وہ آپکا سیاسی مخالف ہے، جبکہ دوسرے صوبے کا وزیر اعلی جہازوں میں گھوم پھر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں دو، ایران اور امریکہ بات کرسکتے ہیں انڈیا پاکستان ہاٹ لائن پر رابطہ کرسکتے ہیں، ہمارا سارا کاروبار افغانستان سے جڑا ہوا ہے، ہم ہر حال میں دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم نیشنل ایکشن پلان اور پاکستان کو عظیم ملک بننا چاہتے ہیں، اتنی بڑے بڑے دورے کیے بیرون ملک کے ایک کوئی تجارتی معاہدہ بتا دیا جائے جو ہوا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انڈیا کے کے جہاز گرنے کی باتیں کرتا رہا آج ٹریڈ ایگریمنٹ کر رہا ہے، ہمیں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے چاہیے، ریاست ماں کی طرح ہونی چاہیے، بانی پی ٹی آئی اس وجہ سے جیل میں ہیں کیونکہ وہ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔
اعجاز الحق نے کہا کہ وزیر دفاع کہتے ہیں تیل کی اسمگلنگ روکنے پر کاروائیاں کی جا رہی ہیں، ایف سی دفاعی و عسکری ادارے موجودگی میں تیل اففانستان سے لاہور تک کیسے پہنچاتا ہے، تیل کی سپلائی روکنے پر کاروائیاں شروع ہوگئیں، بلوچستان کے اندر کئی کل بھوشن یادیو موجود ہیں، جو لوگوں کو ٹریننگ دے رہی ہیں، افغانستان کے 11،12جگہوں پر حملہ چھوٹی بات نہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے ساتھ بات چیت نہیں ہونی چاہیے، گزشتہ 20سال کااین ایف سی نکال لیں اور دیکھ لیں کتنا لگا، بلوچستان میں ڈویلپمنٹ کے تمام فنڈز جیبوں میں جا رہے ہیں، ڈویلپمنٹ فنڈز کے نام پر کرپشن کرنے والوں کو سر عام سزائیں دی جائیں،
اجلاس میں یوم یکجہتی کشمیر پر کشمیری عوام سے اظہار یکجتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، قرارداد پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون نے پیش کی۔
قرارداد کے متن کے مطابق جموں و کشمیر ایک عالمی تنازع ہے قرارداد متن، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کا حل کیا جائے، ایوان برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر میں ہونے والی بحث خوش آیند قرار دیتا ہے۔