ثنا یوسف قتل کیس میں پیش رفت، گواہوں کے بیانات درج

عمر حیات کے وکیل نے بتایا کہ ملزم کو خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے


ویب ڈیسک February 03, 2026

اسلام آباد میں 17 سالہ معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے مقدمے کی تازہ سماعت میں عدالت نے استغاثہ کے مزید ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کیا ہے اور کیس کی کارروائی اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی، جس میں سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور استغاثہ نے اپنے دلائل مضبوط بنانے کے لیے مزید گواہان کے بیانات درج کروائے۔

فیصلے سے قبل ملزم عمر حیات کے وکیل نے عدالت میں درخواست کی کہ ملزم کو قیدی بیرک میں تبدیلی کی اجازت دی جائے، کیونکہ وہ موجودہ قید میں خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے، تاہم عدالت نے ابھی اس بارے میں فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

جج نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو متعلقہ ہدایات بھی جاری کیں تاکہ قیدی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت میں مقدمے کا تمام مالِ مقدمہ جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں ثنا یوسف کے قتل سے متعلق تحقیقات اور استغاثہ کے شواہد شامل ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت 10 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے، جس میں استغاثہ اپنے باقی گواہان کے بیانات قلمبند کرے گا اور عدالتی کارروائی تیز ہوگی۔

کیس کی سماعت سے قبل ثناء یوسف کیس میں ملزم عمر حیات عرف کاکا کو مبینہ دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمرہ عدالت سے مشتبہ لڑکا گرفتار کر لیا گیا۔

ملزم کے وکیل نے بتایا کہ مجھے اور ملزم کو کہا گیا ہے کہ تمہارے قتل کی سپاری لے لی گئی ہے۔ وکیل نے الزام لگایا کہ مشتبہ لڑکے نے ملزم عمر حیات عرف کاکا کے بہنوئی کو دھمکی کےلیے پرچی دی تھی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے مشتبہ لڑکے کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دےیا۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ میں جیل میں ملزم عمر حیات کے ساتھ تھا، میں نے نیکی کی ہے اور عمر حیات کو ملنے آیا ہوں۔

جج محمد افضل مجوکہ نے پولیس کو ہدایت کی کہ اس معاملے کو قانون کے مطابق دیکھے۔ مشتبہ لڑکے اسامہ کو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

واضح رہے کہ ثنا یوسف کو 2 جون 2025 میں ان کے گھر سیکٹر G-13، اسلام آباد میں ایک مسلح حملہ آور گولی مار دی تھی۔ پولیس نے عمر حیات نامی شخص کو 20 گھنٹے کے اندر فیصل آباد سے گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد ہوا تھا۔

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ عمر حیات ثنا یوسف سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور ان کے انکار پر اسے قتل کر دیا، جس پر بعد میں ملزم نے سیکشن 164 کے تحت بیان دیتے ہوئے اعتراف جرم بھی کیا تھا۔

مقبول خبریں