تھائی لینڈ کے کھاؤ یائی نیشنل پارک میں ایک جنگلی ہاتھی نے سیاح جوڑے پر حملہ کر دیا جس میں ایک شخص ہلاک جب کہ خاتون کو بچالیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے صوبے لوپ بوری صوبے کے سیاحتی علاقے میں مقیم سیاح جوڑا اپنے خیمے کے قریب ورزش کے لیے نکلا تھا۔
اچانک ان کا سامنا اس قاتل ہاتھی سے ہوگیا جس نے انھیں سونڈ میں دبوچ کر زمین پر پٹخا اور گھسیٹتا ہوا دور لے گیا۔ جب سیاح ادھ موا ہوگیا تو اپنے بھاری قدموں تلے کچل دیا۔
سیاح کی چیخ و پکار سن کر پارک کے سیکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور سیاح کی اہلیہ کو ہاتھی کے چنگل سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔
تاہم مرد سیاح کی شدید چوٹوں کے باعث موقع پر ہی موت واقع ہوگئی تھی۔ جسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے میت کو آبائی وطن روانہ کردیا گیا۔
پارک حکام نے بتایا کہ اس جنگلی ایل گینڈا (بل ہاتھی) جس کا نام پلائی اوئی وان ہے اس سے قبل بھی دو انسانوں کو ہلاک کرچکا ہے۔
اس بات کا بھی امکان ہے یہی ہاتھی ایسی اموات کا بھی ذمہ دار ہو جن کی موت کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا تھا۔
البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بدمست ہاتھی ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب مرد ہاتھی میں جنسی ہارمون بڑھ جاتے ہیں جس سے وہ جارح مزاج ہوجاتا ہے۔
خیال رہے کہ تھائی لینڈ میں جنگلی ہاتھیوں کے انسانوں کو حملہ کرکے مارنے کے واقعات ایک مستقل مسئلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
محکمہ نیشنل پارکس، وائلڈ لائف اینڈ پلانٹ کنزرویشن کے مطابق 2012 سے اب تک 220 سے زائد افراد جنگلی ہاتھیوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
پارک حکام نے اعلان کیا ہے کہ جمعے (6 فروری) کو ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اس خطرناک ہاتھی کے لیے آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
امکان ہے کہ ہاتھی کو پارک سے دور دراز علاقے میں منتقل کردیا جائے یا اس کے جارحانہ برتاؤ میں تبدیلی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اسی اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اسے محفوظ طریقے سے ہٹایا جائے یا دیگر انتظامی اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ تھائی لینڈ کا کھاؤ یائی نیشنل پارک قدیم اور مشہور ترین پارکس میں سے ایک ہے جو نہ صرف جنگلی حیات کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے بلکہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے جہاں جابجا جنگلی ہاتھیوں کی نقل و حرکت جاری رہتی ہے۔