کس بلڈ گروپ میں کینسر کے خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟ نئی تحقیق میں انکشاف

کچھ مخصوص بلڈ گروپس کے حامل افراد میں پیٹ کے کینسر کا امکان دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا


ویب ڈیسک February 06, 2026

عام طور پر لوگ خون کی قسم کو صرف ایمرجنسی میں خون کی فراہمی یا ٹرانسفیوژن تک محدود سمجھتے ہیں، مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ گروپ انسان کی مجموعی صحت سے متعلق کئی پہلوؤں پر روشنی ڈال سکتا ہے، حتیٰ کہ بعض خطرناک بیماریوں کے امکانات سے بھی آگاہ کر سکتا ہے۔

حالیہ سائنسی تحقیقات میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ مختلف بلڈ گروپس رکھنے والے افراد میں کینسر کے خطرات کس حد تک مختلف ہو سکتے ہیں۔

کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پس منظر میں ہونے والی ایک تحقیق نے خاص طور پر معدے کے کینسر اور خون کی اقسام کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔

طبی جریدے بی ایم سی کینسر میں 2019 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کچھ مخصوص بلڈ گروپس کے حامل افراد میں پیٹ کے کینسر کا امکان دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا۔ پیٹ کا کینسر، جسے طبی زبان میں گیسٹرک کینسر کہا جاتا ہے، معدے کی اندرونی جھلی میں خلیوں کی غیر معمولی نشوونما سے پیدا ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق بلڈ گروپ اے اور اے بی رکھنے والے افراد میں اس بیماری کا خطرہ نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلڈ گروپ اے رکھنے والوں میں یہ خدشہ او بلڈ گروپ کے مقابلے میں تقریباً 13 سے 19 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اے بی گروپ والوں میں یہ شرح 18 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ بعد میں مختلف مطالعات کے میٹا تجزیے نے بھی ان نتائج کی تائید کی۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ بلڈ گروپ اے رکھنے والے افراد میں ہیلی کوبیکٹر پائلوری نامی بیکٹیریا سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جو معدے کے کینسر کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم تحقیق کے مطابق اس انفیکشن کے بغیر بھی اے گروپ کے افراد میں خطرہ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ اے بی گروپ کے حامل افراد میں اگر یہ جراثیم موجود ہوں تو بیماری کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بلڈ گروپ کو براہِ راست کینسر کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، مگر مختلف خون کی اقسام میں جسمانی سوزش پر قابو پانے کی صلاحیت، مدافعتی نظام کا ردعمل، خلیوں کے درمیان رابطہ اور معدے میں تیزاب کی مقدار جیسے عوامل میں فرق پایا جاتا ہے، جو بیماری کے خدشات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق معدے کا کینسر کئی عوامل کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے، جن میں غیر متوازن خوراک، سگریٹ نوشی، الکحل کا استعمال، موٹاپا، بعض انفیکشنز اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ یہ بیماری ایشیا، مشرقی یورپ اور لاطینی امریکا کے کچھ حصوں میں زیادہ عام پائی جاتی ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق مردوں میں اس کی تشخیص خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔

ماہرین صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، متوازن غذا استعمال کریں، تمباکو نوشی سے اجتناب کریں اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں، کیونکہ یہ اقدامات معدے کے کینسر سمیت متعدد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں