دہشت گردی کے چیلنج سے کیسے نمٹا جائے ؟

پاکستان میں زیادہ تر دہشت گردی کے حملے سرحد پار افغان سرزمین سے ہورہے ہیں


سلمان عابد February 06, 2026

دہشت گردی ریاست پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ یا چیلنج ہے۔ دہشت گردی کے چیلنج سے مختلف حکمت عملیوں کی بنیاد پر نمٹنے کی کوشش کی جاری ہے۔ ان حکمت عملیوں میں سیاسی ،انتظامی اور بیانیے کی حکمت عملیاں بھی موجود ہیں ۔

اس کے باوجود دہشت گردی یا انتہا پسندی سمیت پرتشدد رجحانات قومی سیاست اور معاشرے میں بڑے خطرے کا منظر پیش کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے بہت سے ماہرین کے بقول پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع،کثیر الجہتی اور خود انحصاری پر مبنی سیاسی اور سیکیورٹی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ نقطہ بنیادی طور پر ہماری پالیسیز پر بھی مختلف نوعیت کے سوالات اٹھاتا ہے اور غوروفکر کی دعوت بھی دیتا ہے ۔

پاکستان کا مسئلہ محض دہشت گردی کے تناظر میں داخلی نوعیت کا نہیں بلکہ ان مسائل کا ایک بڑا تعلق ہماری علاقائی سیاست یا علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔

ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور داعش خراسان جیسی تنظیمیں ہیں جو پاکستان کو براہ راست عدم استحکام اور دہشت گردی سے نہ صرف دوچار کرنے کا سبب بن رہی ہیں بلکہ ان کو پاکستان مخالف قوتوں بالخصوص بھارت اور افغانستان کی بھی براہ راست حمایت وسرپرستی حاصل ہے ۔

اس وقت افغانستان اور بھارت کے درمیان جو باہمی رابطے مضبوط ہورہے ہیں جس کی بنیاد پاکستان دشمنی پر ہے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی نئے خطرات کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔

پاکستان میں زیادہ تر دہشت گردی کے حملے سرحد پار افغان سرزمین سے ہورہے ہیں جو علاقائی سلامتی کو چیلنج کر رہے ہیں ۔اس تناظر میں ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر افغانستان سے بھی کافی سنگین نوعیت کے اہم مسائل کا سامنا ہے جو پاکستان کے تحفظات کو براہ راست نظرانداز کرکے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی نہ صرف حمایت بلکہ اس کی سرکاری سرپرستی بھی کرتا ہے ۔

اس سارے عمل میں افغانستان کی بڑی طاقت بھارت ہے جو افغانستان کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مدد فراہم کررہا ہے۔حالیہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات نے نہ صرف ہمیں جنجھوڑا ہے بلکہ پیغام یا وارننگ دی ہے کہ ہمارے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ اس وقت براہ راست حالت جنگ میں ہیں ، جہاں افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر موجود ہے، ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے نئی سیاسی اور انتظامی یا سیکیورٹی حکمت عملی درکار ہے ۔

ایک محاذ تو براہ راست سفارت کاری یا ڈپلومیسی کا میدان ہے جہاں اس وقت ہمارے کافی نئے امکانات ہیں اور پاکستان کا حالیہ عرصہ میں سفارت کاری میں بہت سے نئے امکانات کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔

ایک طرف عالمی سفارت کاری جس میں امریکا ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس یا پھر علاقائی سطح پر چین ، روس،سعودی عرب ،قطر،ترکی جیسے ممالک کے ساتھ بھارت اور افغان باہمی گٹھ جوڑ یا پاکستان مخالف کردار یا دہشت گردی یا دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور سرپرستی پر عالمی اور علاقائی حمایت کا حصول اور بھارت اور افغانستان پر دباوبڑھانے کا عمل ہی ہم کو کچھ بہتر نتائج دے سکے گا۔

اس کے لیے ہمیں سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر سرگرم اور فعالیت پر مبنی کردار جس میں جذباتیت کی جگہ اعداد وشمار اور شواہد پر مبنی ڈپلومیسی کو ترتیب دینا اور پاکستان میں موجود سابق سفارت کارو ں کی اس سلسلے میں ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانا سمیت عالمی اور علاقائی دنیا کو پاکستان مخالف دہشت گردی کی پالیسی کے ساتھ جوڑ کر رکھنا ہے ۔

ہمیں عالمی اور علاقائی فورمز پر اس نقطہ نظر پر تواتر کے ساتھ زور دینا ہوگا کہ اول بھارت اور افغان گٹھ جوڑ کیسے پاکستان سمیت خطہ میں دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور دوسری طرف ہمیں علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسے علاقائی میکنزم کی تشکیل پر زور دینا ہے جہاں پاکستان اور بھارت سمیت سب ایک دوسرے کو جوابدہ ہوں اور دہشت گردی کے خاتمہ میں مشترکہ حکمت عملی اور تعاون سامنے آئے ۔

اسی طرح داخلی محاذ پر پاکستان کو بہت کچھ کرنا چاہیے اور اپنی ترجیحات کا درست تعین کرکے اتفاق رائے پر مبنی حکمت عملی ہماری پہلی ضرورت بنتی ہے۔ہم نے نیشنل سیکیورٹی پالییسی،نیشنل ایکشن پلان،پیغام پاکستان، دختران پاکستان،قومی انسداد دہشت گردی پالیسی ،سائبر کرائم یا سائبر پالیسی اور صوبائی سطح پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں سی ٹی ڈی میں پی ای وی کی بنیاد پر سینٹر آف ایکسلینس آن کاونٹرننگ وائلنٹ انتہا پسندی سی وی ای بھی تشکیل دیے گئے ہیں ۔

اصل میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہماری حکمت عملی دو حصوں پر مشتمل ہونی چاہیے اول سیاسی اور علمی و فکری نوعیت پر مبنی جہاں ہم دہشت گردی ،انتہاپسندی اور پرتشدد رجحانات کے خاتمہ اور پرامن بیانیہ کی تشکیل اور اس عمل میں کسی اگر مگر کے بغیر ریاست اور ملک کے مفاد میں مشترکہ کوششوں کی حمایت ہونی چاہیے۔

دوسری طرف جہاں ہمیں انتظامی اور طاقت کی بنیاد پر سیکیورٹی کے معاملات سے نمٹنا ہے اس کی سیکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت بھی شامل ہونی چاہیے۔ایک بڑا مسئلہ دونوں صوبے جو اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں یا جہاں ان کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہوا ہے ان کی گورننس کا نظام،عدالتی اور انصاف کا نظام ہو یا عام لوگوں کے مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے روزمرہ کے بڑھتے ہوئے مسائل اور بنیادی حقوق سے محرومی کی سیاست نے ان علاقوں کو آتش فشاں بنایا ہوا ہے۔

ایک مسئلہ سیاسی ڈیڈ لاک کا بھی ہے ۔اس وقت وفاقی حکومت اور مقامی سیاسی قیادت کے درمیان عملا بداعتمادی کا ماحول ہے۔ ہمیں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سطح پر براہ راست دہشت گرد کا سامنا ہے تو اس کی حکمت عملی باقی دو صوبوں کے مقابلے میں مختلف ہوگی۔

وفاقی حکومت،چاروں صوبائی سطح پر موجود حکومتوں اور وفاقی یا صوبائی ملٹری یا سول انٹیلی جنس سطح پر موثر رابطہ کاری اور باہمی تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہماری ترجیح کا بڑا حصہ ہونا چاہیے۔اس کی پہلی شرط یہ بھی ہے، سیاسی مسائل حل کیے جائیں ۔

ہمیں نئی نسل کو بنیاد بنا کر تعلیم کے نظام پر ابتدا سے لے کر ہائیر ایجوکیشن بشمول مدارس کی تعلیم، میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا لٹریسی ،تعلیمی نصاب میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں،اساتذہ کی تربیتی نظام کو موثر بنانا اور علمائے کرام کے کردار کو بہتر بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔

اس کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنی سیاسی اور دفاعی یا سیکیورٹی حکمت عملی کو ترتیب دینا ہوگا اور ان میں ایک دوسرے کے درمیان توازن بھی پیدا کرنا ہوگا۔بالخصوص ہمیں عالمی سطح پر انحصار کم کرکے اپنے داخلی مسائل کا علاج زیادہ موثر انداز میں اور موثر حکمت عملی کے تحت خود تلاش کرنا ہوگا۔کیونکہ یہ جنگ ہماری ہے اور ہمیں ہی خود کو اس جنگ سے باہر بھی نکالنا ہے اور اسی میں ہماری بقا بھی ہے۔

مقبول خبریں