صوبائی اسمبلی سندھ کی میزبانی میں بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس اختتام پذیر

خواتین و حضرات کی باوقار موجودگی نے کانفرنس کو حقیقی وقار بخشا


ویب ڈیسک February 06, 2026

صوبائی اسمبلی سندھ کی میزبانی میں بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کا آج تیسرا روز تھا جس کے اختتام کا وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق علاقائی پارلیمانی تعاون کے ذریعے جمہوری اعتماد کو مضبوط بنانے کے موضوع پر اختتامی سیشن منعقد کیا گیا تھا۔

اسپیکر کی جانب سے کراچی چارٹر پیش کیا گیا۔ 7 فروری 2026 کو 7ویں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و ساؤتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس میں جمہوری حکومت، آئین، پارلیمانی جواب دہی، شمولیت، ذمہ دار جدت اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ عزم کو دہرایا گیا۔

پارلیمنٹس کے کردار کو تسلیم کیا گیا جو جمہوری اعتماد قائم رکھتی ہیں، ایگزیکٹو کی جواب دہی کو یقینی بناتی ہیں، بنیادی حقوق کا تحفظ کرتی ہیں اور شہریوں کی بدلتی ہوئی توقعات کا جواب دیتی ہیں۔

کانفرنس میں چیلنجز کا ذکر کیا گیا جیسے عوام کا اعتماد کم ہونا، سیاسی پولرائزیشن، غلط معلومات، موسمیاتی خطرات، سماجی بے دخلی اور ٹیکنالوجی میں تیز تبدیلی شامل ہے۔

جمہوریت کے مستقبل کے لیے شمولیتی، شفاف اور مستقبل بین پارلیمنٹس کو اہم قرار دیا گیا جو سماجی ہم آہنگی، ذمہ داری، جدت اور امن کو فروغ دیں۔ کثیر الجہتی اور پارلیمانی سفارتکاری کو اعتماد سازی، امن کے فروغ اور جمہوری مضبوطی کے بنیادی ستون قرار دیا گیا۔

پارلیمانی نگرانی، کمیٹی سسٹم اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے کردار کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا تاکہ مالی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی وسائل کا ذمہ دارانہ انتظام یقینی بنایا جا سکے۔

شمولیت اور نمائندگی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، خاص طور پر خواتین، نوجوانوں، معذور افراد، مذہبی اقلیتوں اور پسماندہ کمیونٹی کے لیے۔

پارلیمانی قوانین، ضوابط اور ادارتی عمل کی اصلاح پر زور دیا گیا تاکہ شمولیت کے رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اثرات کو تسلیم کیا گیا، غلط معلومات، نفرت انگیز تقریر اور ڈیجیٹل غلط کاری کے خلاف اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا اور پارلیمانی تعلیم، شہری خواندگی، اوپن پارلیمنٹ اور ڈیجیٹل گورننس ٹولز کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

اسپیکر اویس قادر شاہ کا کہنا تھا کہ خواتین و حضرات کی باوقار موجودگی نے کانفرنس کو حقیقی وقار بخشا۔ معزز مہمانوں کی شرکت سے کانفرنس بامعنی اور کامیاب رہی۔ شرکاء کی آراء اور تجاویز کانفرنس کی کامیابی کا بنیادی سبب ہیں۔

کانفرنس میں اعتماد، شمولیت، جدت اور امن پر مبنی جمہوریت کے فروغ پر گفتگو کی گئی اور پارلیمانی احتساب کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کی شمولیت پر اتفاق رائے کیا گیا جبکہ پارلیمانوں کو امن اور جمہوری استحکام کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا۔

سیکریٹری جنرل کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن یو کے اسٹیفن ٹویگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ساتویں سی پی اے ایشیا ریجن کانفرنس میں شرکت اعزاز کی بات ہے۔ اسپیکر اور ان کی ٹیم کی قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

اسٹیفن ٹویگ نے قیادت اور انتظامات کو کانفرنس کی کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور سی پی اے ایشیا ریجن کی سالانہ کانفرنس کے تسلسل پر اعتماد کا اظہار کیا۔

اسٹیفن ٹویگ نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لیے واضح حدود مقرر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ سی پی اے بڑے اور چھوٹے دونوں طرح کی پارلیمانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

مقبول خبریں