آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ کچے کے ڈاکو ایک بڑا مسئلہ تھا۔ اغوا برائے تاوان بڑھ گیا تھا۔ ہنی ٹریپ سے لوگوں کو وہاں بلوا کر قید کرلیا جاتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی نے کہا کہ سستی چیزیں فروخت یا خاتون کی آواز میں بات کر کے بلوایا جاتا تھا۔ کے پی کے ، بلوچستان اور پنجاب سب بھی لوگوں کو بلوا کر اغوا کیا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اغوا سے حاصل ہونے والے رقوم سے اسلحہ خریدتے تھے۔ پہلے صرف اے کے 47 ہوتی تھی لیکن بعد میں جنگی ہتھیار بھی انکے پاس تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم سے بہتر انکے پاس ہتھیار تھے۔ ایسی گولیاں تھی جو ہماری اے پی سی پھاڑ دیتی تھی۔ ان کے ویڈیو بیانات میں انکے حوصلے کا اندازہ ہوتا تھا۔ وہ مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے تھے۔ ہماری کوشش تھی کہ ڈاکوؤں کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔
جاوید عالم کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش تھی کہ یاتو انکا خاتمہ کیا جائے جائے انہیں سرینڈر ہونے پر مجبور کیا جائے۔ حکومت نے بڑا حوصلہ اور ساتھ دیا، ہماری کمر مضبوط ہوگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس ساتھ مل کر کام کر رہی ہے بلکہ سندھ رینجرز اور پنجاب رینجرز بھی ساتھ کام کررہی ہے۔ پنجاب کا آئی جی بھی سندھ کا ہی رہنے والا ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ کوآرڈینیشن پہلے سے بہتر ہو جائے گی۔ اس وقت فوکس کبہ ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں اور کہیں پولیسنگ نہیں ہورہی۔