کراچی:
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ کچے کےعلاقوں میں اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں۔
آئی جی سندھ نے سینٹرل پولیس آفس میں کچے کےعلاقوں میں یکم جنوری سے جاری آپریشن ’نجات مہران‘ سے متعلق پریس کالنفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کے بارے میں سو فیصد نہیں کہا جاسکتا، آپریشن مکمل ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ کچے میں جاری نجات مہران آپریشن کے دوران 113 مقابلوں میں 27 نامی گرامی ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ 82 ڈاکو زخمی ہوئے اور123 کچے کے ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا، 15 مغوی شہریوں کو بازیاب کرایا گیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد اس بات کا عزم کیا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکووں کی رٹ کو مکمل طور پرختم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچے کے ڈاکو تاوان کی رقم سے اسلحہ خرید رہے تھے، ڈاکو پہلے صرف اے کے 47 خرید رہے تھے لیکن بعد میں جنگی ہتھیار بھی خریدنا شروع کر دیے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے بہتر جدید ہتھیارتھے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈاکوؤں کے پاس ایسی گولیاں تھیں جو ہماری اے پی سی کی چادر کو پھاڑ دیا کرتی تھیں جس سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن میں آج ڈاکو مارے جا رہے ہیں اور حکومت سندھ کی پالیسی کے تحت خود کو سرینڈر بھی کر رہے ہیں۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ڈاکو مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے تھے، ہماری کوشش تھی کہ ڈاکوؤں کو منہ توڑ جواب دینا ہے، حکومت کے حوصلے اور ساتھ دینے سے سندھ پولیس کی کمر مزید مضبوط ہوئی، پولیس کو لیڈر شپ کی ضرورت تھی اور انہیں دی گئی ہے آپ دیکھیں گے اب سب ڈاکو قانون کی گرفت میں آئیں گے اورہم انہیں عدالتوں میں پیش کریں گے۔