ایک گمراہ لڑکے کا انجام
جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو حکومت نے ملک و قوم کے بھلے میں رائف بدوی کے کان اینٹھنے کا بادلِ نخواستہ فیصلہ کیا۔
اکتیس سالہ سعودی نوجوان رائف بدوی تیرہ جون انیس سو چوراسی کو پیدا ہوا۔اس کی شادی تیرہ برس پہلے ہوئی مگر اس کی بیوی اور تین بچے اس وقت کینیڈا کے شہر آٹوا میں پچھلے دو برس سے سیاسی پناہ گزین ہیں اور ان دنوں سوائے اس کے کوئی کام نہیں کہ رائف کی رہائی کے لیے پلے کارڈ اٹھائے شہر کی کسی برفیلی فٹ پاتھ پر کھڑے رہیں۔مگر رائف نے اپنے اور اہلِ خانہ کے لیے یہ مصیبت خود مول لی اور اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں۔
بھلا کوئی بتائے کہ اپنی بلاگر ویب سائٹ قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی اور وہ بھی سعودی فری لبرلز فورم کے نام سے اور وہ بھی سعودی عرب میں۔چلیے اس نام سے ویب سائٹ بنا ہی لی تو پھر سیاسی و تنقیدی بلاگز لکھنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ لکھنے کے لیے سیکڑوں غیر سیاسی موضوعات اور مسائل بھی تو ہیں۔ مگر نہیں صاحب راتوں رات شہرت کے حصول کے لیے سیاست پر اپنی رائے کی ٹانگ اڑانا لگ بھگ ہر آزاد خیال نوجوان نے آج کل ایک مجرب نسخہ سمجھ رکھا ہے، سو یہی راستہ رائف بداوی نے بھی اختیار کیا۔
شروع شروع میں تو سعودی حکام یہ سمجھے کہ نوجوان کسی کے بھڑکائے میں بہکاوے میں آگیا ہے لہذا اسے دو ہزار آٹھ میں بس ایک دن کی پوچھ گچھ کے بعد تنبیہہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔لیکن رائف نے اس تنبیہہ کو خاطر میں لانے اور ہوش کے ناخن لینے کے بجائے حسبِ سابق سیاسی بقراطی جاری رکھی۔چنانچہ سرکاری عمال نے مجبوراً بس اتنا کیا کہ دو ہزار نو میں رائف کے بیرونِ ملک سفر کا حق محدود کردیا اور بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کردیا۔مگر مجال ہے ہٹیلے رائف کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔وہ حسبِ سابق مملکتی امور اور قابلِ احترام علمائے کرام پر طنز و تنقید کے نشتر برساتا رہا اور ایک مثالی نظامِ حکومت میں بہانے بہانے سے کیڑے نکالتا رہا۔
جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو حکومت نے ملک و قوم کے بھلے میں رائف بدوی کے کان اینٹھنے کا بادلِ نخواستہ فیصلہ کیا اور سترہ جون دو ہزار بارہ کو رائف بدوی کی ویب سائٹ بند کرکے اسے حراست میں لے کر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی کہ رائف بدوی نے امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے کے لیے ویب سائٹ قائم کی اور اس پر حکومتِ وقت کی تابعداری کو چیلنج کیا اور علما کا مذاق اڑایا۔دسمبر میں جدہ کی ضلعی عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی اور ایک ہفتے بعد فردِ جرم میں شرک پھیلانے کے الزام کا بھی اضافہ ہوا جس کی عمومی سزا موت ہے۔تاہم معزز عدالت نے سات ماہ تک مقدمے کی سماعت کے بعد کمالِ مہربانی سے کام لیتے ہوئے نادان ملزم کو سزائے موت سنانے کے بجائے محض دس برس قید اور چھ سو کوڑوں کی سزا دینے پر اکتفا کیا نیز اسلامی اقدار کے منافی لبرل اقدار کا پرچار کرنے والی ویب سائٹ بند کرنے کے احکامات کی بھی توثیق کردی۔
توقع تھی کہ رائف بدوی کو اب اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا اور وہ شاہی معافی کا خواستگار ہوگا اور عین ممکن ہے کہ حکومت درگزر سے کام لیتے ہوئے اس گستاخ کی معافی قبول کرلے۔لیکن رائف کی اکڑ قائم رہی۔ مزید غضب یہ ہوا کہ انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رائف بدوی کو ضمیر کا قیدی قرار دے دیا۔چنانچہ رائف کی سزا پر نظرِ ثانی ہوئی اور مئی دو ہزار چودہ میں سزائے قید سات برس سے بڑھا کر دس برس کر دی گئی جب کہ چھ سو کوڑے بڑھ کے ایک ہزار قرار پائے۔کوڑوں کی سزا بیس ہفتہ وار قسطوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا اور ایک ملین ریال کا جرمانہ بھی الگ سے عائد کیا گیا۔
اس دوران رائف بدوی کے وکیل ولید ابوالخیر کو جانے کیا دورہ پڑا کہ اس نے ''مانیٹر آف ہیومین رائٹس ان سعودی عربیہ'' نامی ایک تنظیم قائم کرلی۔گویا یک نہ شد دو شد۔چنانچہ موکل کے بعد وکیل کو بھی بلالائسنس تنظیم قائم کرنے اور اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے حکومت اور اہلکاروں کی شہرت کو بٹہ لگانے ، حکومت سے وفاداری کا عہد توڑنے ، عوام الناس کو حکومت کے خلاف اکسانے اور توہینِ عدلیہ کی فردِ جرم کے تحت پندرہ برس قید اور قید مکمل ہونے کے بعد اگلے پندرہ برس بیرونِ ملک سفر پر پابندی کی سزا سنائی گئی۔ ( ویسے بھی جو وکیل موکل کو نہ بچا سکے اس کا جیل سے باہر رہنا کیا معنی ؟ )۔
عدالتی فیصلے کی روشنی میں نو جنوری دو ہزار پندرہ بروز جمعہ رائف بداوی کو جدہ کی ایک مسجد کے باہر پچاس کوڑے لگا کر ایک ہزار کوڑوں کی پہلی قسط پوری کی گئی۔لیکن اس کے بعد والے جمعہ کو دوسری قسط اس لیے وصول نہیں کی گئی کیونکہ رائف کی حالت پہلی قسط کے وصولنے میں ہی غیر ہوگئی تھی۔اس دوران حکومت نے عالمی ہا ہا کار کے سبب رائف بدوی کا مقدمہ نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ کے ملاحظے کو بھیج دیا ہے۔دیکھئے سزا میں تخفیف ہوتی ہے کہ مزید اضافہ۔۔۔
اب آپ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ رائف بدوی نے اپنے بلاگز میں ایسا کیا لکھ دیا کہ دس برس قید ، ایک ہزار کوڑوں اور ایک ملین ریال جرمانے کا مستوجب ٹھہرا۔تو پھر کچھ اقتباسات پڑھئے۔
'' جیسے ہی کوئی شخص مقدس موضوعات کی تازہ تشریح کی کوشش کرتا ہے۔اس کے مرتد ہونے کے بارے میں سیکڑوں فتوے آجاتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ حالات نہ بدلے تو مختلف انداز سے سوچنے والے باشندے روایتی علما کی تلوار سے خود کو بچانے اور سانس لینے کے لیے تازہ ہوا کی تلاش میں کثیر تعداد میں اپنی سرزمین خیر آباد کہنے پر مجبور ہوں گے ( بارہ اگست دو ہزار دس )''۔
'' روشن خیالی کا مطلب ہے سب کی عزت کرو اور کسی کی توہین نہ کرو۔روشن خیالی ہی ہمارے ملک سمیت تیسری دنیا کو پہلی دنیا کے درجے تک پہنچا سکتی ہے ( اٹھائیس ستمبر دو ہزار دس) ''۔
'' میں کسی بھی عرب زمین پر اسرائیلی قبضے کے شدید خلاف ہوں مگر یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسرائیل سے جان چھوٹنے کے بعد کوئی خطہ ایسے مذہبیوں کے ہاتھ میں چلا جائے جن کا نظریہ امید افزا جدیدیت کے بجائے موت اور جہالت پھیلانا ہو اور ہمارا عقیدہ تبدیلی کے باوجود رجائیت کے بجائے خوف کی بنیاد پر کھڑا رہے''۔
'' نیویارک کے چند مسلمانوں کی جانب سے یہ مطالبہ ناقابلِ فہم ہے کہ منہدم ورلڈ ٹریڈ ٹاورز کی جگہ ایک مسجد تعمیر کی جائے۔کیا ہم یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ خود کو عیسائی یا یہودی کہنے والا کوئی شخص ہماری سرزمین پر حملہ کرے اور حملے کی جگہ ایک گرجے یا یہودی معبد تعمیر کا ہم سے مطالبہ کرے ؟ اگرچہ ہم پر (سعودی عرب) کسی عیسائی نے حملہ نہیں کیا پھر بھی یہاں چرچ تعمیر کرنا ممنوع ہے۔ہمیں یہ بات نہیں چھپانی چاہیے کہ ہم میں سے کئی لوگ (سعودی) غیر مسلموں کو تو جانے دیجیے خود غیر حنبلیوں (سرکاری فقہہ)کو بھی اچھا مسلمان نہیں سمجھتے۔اس سوچ کے ساتھ ہم چھ ارب انسانوں کے ساتھ کیسے معمول کا تعلق بنا سکتے ہیں جب کہ ان میں سے ساڑھے چار ارب مسلمان ہی نہیں ''۔۔۔۔
'' یہ انقلاب جس کی قیادت طلبا اور محروم طبقے کررہے ہیں نہ صرف مصر بلکہ ہر اس عرب خطے کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتا ہے جہاں آمرانہ سوچ حاوی ہے۔امید ہے مصر اس تکلیف دہ صورتِ حال سے نکل کر محکومی اور ظلم کا جوا اتار پھینکے گا۔( فروری دو ہزار گیارہ ) ''۔
'' میرے نزدیک روشن خیالی ( لبرل ازم ) کا مطلب ہے جئیو اور جینے دو۔تاہم سعودی سماج کے لیے روشن خیالی کا کیا مطلب ہوسکتا ہے ؟ اس کی حدود اور شکل کی وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ فریقِ ثانی نہ صرف سچائی پر بزور مسلط ہے بلکہ وہ اپنے سے مختلف سوچ یا تشریح کو بنا سمجھے ہی فوراً گناہ قرار دے دیتا ہے۔ یہ طبقہ عوام الناس کو لبرل سوچ سے متنفر کرنے اور اس کے حقیقی معنوں کی ان تک رسائی روکنے میں اب تک کامیاب رہا ہے۔مگر سماج اور لوگوں کے دماغوں کو اس فکری قبضے سے آزاد کرانا ایسا ہی ہوگا جیسے غبار کو ہوا اپنے ساتھ لے جائے۔( مئی دو ہزار بارہ )''۔۔
اب آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ جس نوجوان کے خیالات بھلا اس قدر بے لگام ہوں۔اسے راہِ راست پر لانے کے لیے ہزار کوڑوں کی سزا بہت زیادہ ہے کیا ؟
چپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبال
کرتا کوئی اس بندہِ گستاخ کا منہ بند
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے )