افغان سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 32 شدت پسند ہلاک بم دھماکے میں 10 شہری مارے گئے

بم دھماکوں میں جلال آباد میں 2بچے، ننگرہار میں 6 شہری جاں بحق ہوئے جب کہ 2 اہلکار جھڑپ میں ہلاک ہوئے


News Agencies March 03, 2015
طالبان کی سرکوبی کرکے فیصلہ کن دھچکالگانے کیلیے آپریشن ذوالفقارکا آغاز،مٹی اوراینٹوں کے بنے ہوئے کمپاؤنڈز پرچھاپے، پوست کے کھیتوں کی طرف پیش قدمی۔ فوٹو: فائل

COLOMBO/ MALE: افغان نیشنل فورسزکے آپریشن میں 32 شرپسند ہلاک ہوگئے جبکہ 2بم دھماکوں میں 2بچوں سمیت 8شہری اور جھڑپ میں 2اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

افغان وزارت دفاع نے بیان میں کہاہے کہ صوبہ ہلمند، ننگرہار، غزنی اورخوست میں افغان نیشنل آرمی نے ایک آپریشن کے دوران 18 شرپسندوں کوہلاک کردیا جبکہ 11 زخمی ہوگئے۔ آپریشن کے دوران اسلحہ اور دھماکا خیزمواد قبضے میں لیا گیا۔ جھڑپ میں 2 اہلکار بھی جان کی بازی ہارگئے۔ اسی دوران وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہاکہ اہلکاروں نے مزید12 صوبوں میں 14 شرپسندوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ 18بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنایاگیا ہے۔ دریں اثنا جلال آباد شہر میں کاربم دھماکے میں اسکول کے 2بچے جاںبحق اور 2زخمی ہوگئے۔

صوبے ننگرہار کے مشرقی علاقے میں ایک گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکراگئی جس میںمزید 6شہری جاںبحق ہوگئے۔ علاوہ ازیں افغان فوج نے طالبان کے خلاف آپریشن ذوالفقارکا آغاز کردیا۔ کابل حکام کی طرف سے یہ فوجی کارروائی اس سال کے موسم بہارکے معمول کے جنگی سیزن سے پہلے ہی کرنے کا فیصلہ اس لیے کیاگیا ہے کہ افغان فوج طالبان جنگجوؤں کی بروقت سرکوبی کرکے انھیں ایک فیصلہ کن دھچکا لگانا چاہتی ہے۔ افغان فوج جنوبی صوبے ہلمند میں ایک زرخیز دریائی وادی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اسپیشل فورسزرات کے وقت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مٹی اوراینٹوں کے بنے ہوئے کمپاؤنڈز پرچھاپے ماررہی ہیں جبکہ زمینی فورسزآہستہ آہستہ پوست کے کھیتوں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہی فصلیں گزشتہ برسوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی نقد آمدنی کا سب سے بڑاذریعہ رہی ہیں۔ دوسری طرف افغانستان میں برفانی تودوں کی زدمیں آکر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 300 ہوگئی۔ یہ بات چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے وزراکونسل سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

مقبول خبریں