پارلیمانی قرارداد پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے سعودی وزیر

دونوں ملکوں کے درمیان بہترین قریبی تعلقات قائم ہیں اور یہ ہمیشہ قائم رہیں گے، الشیخ صالح بن عبدالعزیز


دونوں ملکوں کے درمیان بہترین قریبی تعلقات قائم ہیں اور یہ ہمیشہ قائم رہیں گے، الشیخ صالح بن عبدالعزیز فوٹو: فائل

سعودی عرب کے وزیرمذہبی امورالشیخ صالح بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا داخلی معاملہ ہے، دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ بہتررہیں گے، چیئرمین عرب پارلیمنٹ نے پاکستانی پارلیمان کے موقف پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ صالح بن عبدالعزیز5 رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر اتوار کو اسلام آباد پہنچے، وہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر مذہبی امور سرداریوسف سے الگ الگ ملاقاتیں کرینگے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق سعودی وزیر نے ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بہترین قریبی تعلقات قائم ہیں اور یہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے، سعودی عرب پاکستان سے بہتری کی امید رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ العمار نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی قوم کا موقف ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہیے، ثالثی کی بات کرنا مذاق کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ نے کہاکہ پاکستان سے ہر بات پر مشورہ کرتے ہیں، یمن میں کارروائی پر بھی مشورہ ہوا ہوگا۔ جے یو آئی جموں و کشمیرکے 16 رکنی وفد نے بھی سعودی مشیر سے ملاقات کی ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فرانسیسی ہم منصب لوراں فابیئس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے، امید ہے ایران یمن میں حوثی باغیوں کی مدد سے دستبردار ہوجائیگا۔ انھوں نے کہا کہ یمن میں ایران کے کردار نے مسئلے کو بگاڑدیا ہے اور اس کی وجہ سے ملک میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ شہزادہ سعودالفیصل نے کہا کہ ایران ہمیں یمن میں لڑائی ختم کرنے کے لیے کیسے کہہ سکتا ہے، ہم یمن میں ایک مجاز اتھارٹی کے دفاع کیلیے گئے اور ایران یمن کا داروغہ (انچارج) نہیں۔ 6 بڑی عالمی طاقتوں اور ایران میں جوہری معاہدے پر سعودالفیصل نے کہا کہ یہ خطے کی سیکیورٹی میں اضافے کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر فرانسیسی وزیرخارجہ نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی مہم کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں سعودی عرب کی سیاسی حمایت کیلیے آئے ہیں۔ آن لائن کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ حملے جاری رہیں گے اور ایران کو اس تنازعے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ادھر عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین احمد بن محمد الجروان نے پاکستانی پارلیمنٹ کے یمن کی صورتحال میں غیرجانبدار رہنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ عرب اور اسلامی ممالک کے موقف کے متضاد ہے۔

مقبول خبریں