ٹیسٹ میچز کی کمی پر پاکستانی کپتان مصباح الحق بھی مایوسی کا شکار

صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز کے لیے طویل وقفے بعد خود کو فٹ  رکھنا اور اچھی فارم دکھانا آسان نہیں ہوتا، مصباح


Sports Desk October 29, 2015
صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کرکٹرز کے لیے طویل وقفے بعد خود کو فٹ  رکھنا اور اچھی فارم دکھانا آسان نہیں ہوتا، مصباح۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

ٹیسٹ میچز کی کمی پر پاکستانی کپتان مصباح الحق بھی مایوسی کا شکار ہیں، انھوں نے سال میں 7، 8 مقابلوں کو اپنے جیسے صرف سینئر فارمیٹ تک محدود کرکٹرز کیلیے ناکافی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سال بھر میں بہت کم ٹیسٹ میچز کھیلنے پر کپتان مصباح الحق بھی خاصے فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ وہ کرکٹرز جو صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں ان کے لیے ٹیسٹ سیریز کے دوران طویل وقفے میں خود کو فٹ اور اچھی فارم دکھانا آسان نہیں ہوتا۔ انھوں نے اس سلسلے میں اپنی اور لیفٹ آرم اسپنر ذوالفقار بابر کی مثال دی جو سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز کے بعد اب انگلینڈ کیخلاف کھیل رہے ہیں۔ مصباح نے کہاکہ حالیہ مقابلوں کے بعد ٹیم کی ممکنہ اگلی ٹیسٹ سیریز آئندہ سال انگلینڈ میں ہوگی۔ واضح رہے کہ آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام میں اب دو طرفہ ٹیسٹ سیریز کرکٹ بورڈز خود طے کر رہے ہیں۔

پی سی بی نے بگ تھری کی حمایت اسی بنا پر کی تھی کہ یہ تینوں بڑے ممالک انگلینڈ آسٹریلیا اور بھارت پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز کھیلا کریں گے، مگر بھارت روایتی حریف سے کھیلنے کے لیے تیار نہیں، دنیا کے دیگر تمام ممالک رواں برس کئی ٹیسٹ میچز کھیل رہے ہیں مگر گرین کیپس کو اس طرز کے کم میچز میں صلاحیتوں کے اظہار کا موقع میسر آیا ہے۔اس سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس نے بھی زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے پر زور دیا تھا۔ انھوں نے کپتان مصباح کے ساتھ اس ضمن میں دبئی میں بورڈ چیئرمین شہریارخان سے ملاقات بھی کی تھی، اس موقع پر درخواست کی گئی کہ پاکستانی ٹیم کے ٹیسٹ میچز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں