شاہ حسین شاہ اولمپکس تمغہ جیتنے کے لیے پُراعتماد

والد کی طرح ٹائٹل پانے کیلیے کوئی دبائو نہیں ہوگا، سخت محنت کی ہے، جوڈوکا


Sports Desk August 03, 2016
والد کی طرح ٹائٹل پانے کیلیے کوئی دبائو نہیں ہوگا، سخت محنت کی ہے، شاہ حسین. فوٹو: فائل

پاکستان کے اولمپئن باکسر حسین شاہ کے بیٹے شاہ حسین شاہ ریو اولمپکس میں تمغہ جیت کر پاکستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں.

ریو ڈی جنیرو روانگی سے قبل بی بی سی کوانٹرویو میں شاہ حسین شاہ نے کہا کہ میں نے اولمپکس کے لیے بھرپورتیاری کی اور اچھے نتائج کی امید ہے، شاہ حسین شاہ کو جاپانی کوچز کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا ، اس بار ان کی توجہ خاص کر اسٹیمنا پر رہی، انھوں نے بتایا کہ میں نے اسٹیمنا پر بہت توجہ دی تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت مقابلہ کرسکوں اور تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں، جب اسٹیمنا بہتر ہو تو آپ ذہنی طور پر بھی مضبوط ہوتے ہیں، میں نے سخت ترین مقابلوں کے لیے بھرپور ٹریننگ کی ہے۔

شاہ حسین شاہ کے لیے والد کا اولمپک میڈل ہمیشہ سے حوصلہ بڑھانے کا سبب بنا، انھوں نے کہا کہ میرے والد کا یہ میڈل میرے لیے بہت کچھ ہے، میں جب چھوٹا تھا تو سوچا کرتا تھا کہ ان کی طرح اولمپکس میں جا کر جیتنا میرے لیے ممکن نہ ہوگا لیکن جب بڑا ہوا اور ہائی اسکول و یونیورسٹی میں آیا تو میرے اندر اپنے والد کی طرح کامیابی کا جذبہ بڑھتا چلا گیا۔دو سال قبل گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے شاہ حسین شاہ نے بتایا کہ مجھے اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنے بڑے مقابلے ہیں، اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں زیادہ سخت ٹریننگ کرتا، میں ان مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت سکتا تھا لیکن اب مجھے یہ معلوم ہے کہ اولمپکس کی کیا اہمیت ہوتی اور میں نے ٹریننگ کے لیے دن رات محنت کی ہے۔

شاہ حسین شاہ نے مزید کہا کہ میں خود پر یہ دبائو محسوس نہیں کرتا کہ میرے والد نے میڈل جیتا تو میرے لیے بھی جیتنا لازمی ہے، سخت ٹریننگ نے سب ڈر دل سے نکال دیا ہے، جوڈو کا کھیل اپنانے کی وجہ بتاتے ہوئے شاہ حسین نے کہاکہ یہ دوسروں کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔ جوڈو جاپان کا قومی کھیل ہے، یہاں کراٹے اور ریسلنگ بھی مقبول ہے لیکن والدین نے مجھے جوڈو اپنانے کا مشورہ دیا۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنا سکھاتا ہے، انسان میں ڈسپلن پیدا ہوتا ہے، یہی ہمارے مذہب کی تعلیم بھی ہے اسی لیے مجھے یہ کھیل پسند آیا۔شاہ حسین شاہ ابھی سے 2020 کے اولمپکس پر نظریں لگائے ہوئے ہیں جو ٹوکیو میں منعقد ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ جوڈو میں کھلاڑی کا کیریئر 30،31 سال کی عمر میں ختم ہوجاتا ہے۔27 اور28 سال کی عمر میں کیریئر عروج پر ہوتا ہے،ٹوکیو اولمپکس کے وقت میری عمر27 سال ہوگی لہٰذا اچھا پرفارم کر سکتا ہوں۔

مقبول خبریں