راؤ انوارکی معطلی پر سندھ حکومت سے جواب طلب

خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کے لیے کی گئی کارروائی قانون کے مطابق تھی، راؤ انوار کا موقف


ویب ڈیسک September 19, 2016
خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپہ قانون کے مطابق مارا تھا لہذا معطلی کا حکم غیر قانونی ہے، راؤ انوار فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے راؤ انوار کی ایس ایس پی ملیر کے عہدے سے معطلی پر صوبائی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمدعلی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے راؤ انوار کی خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپے اور ان کی گرفتاری پر اپنی معطلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : راؤ انوار معطل

عدالت عالیہ کے روبرو راؤ انوار نے موقف اختیار کیا کہ خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کے لیے ان کی جانب سے کی گئی کارروائی قانون کے مطابق تھی۔ انہوں نے خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی کو بھی آگاہ کردیا تھا، اس لئے ان کی معطلی کا حکم غیر قانونی دے کر عہدے پر بحال کیا جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : خواجہ اظہار گرفتاری کے بعد رہا

واضح رہے کہ راؤ انوار نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن کے گھر پر بھاری نفری کے ہمراہ چھاپا مار کرانہیں گرفتار کرلیا تھا تاہم وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کردیا تھا۔

مقبول خبریں