سینیٹ کمیٹی تجارت کا اجلاس سرمائے کی بیرون ملک منتقلی روکنے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز

اوورسیز پاکستانی انویسٹرز سے رابطے کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم


Khususi Reporter December 20, 2012
حسیب خان کابنگلہ دیش سے فارماسیکٹر میں معاہدے پر اعتراض، یورپی رعایتی تجارتی پیکیج سے سالانہ کروڑوں ڈالر فائدہ ہوگا، منیر قریشی کی بریفنگ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

KARACHI: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں سے رابطے کیلیے 3 رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین سینیٹر حاجی غلام علی کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری تجارت منیر قریشی نے بتایا کہ2010 کے سیلاب کے بعد پاکستان کیلیے یورپی یونین کی جانب سے اعلان کردہ رعایتی تجارتی پیکیج پر 15 نومبر 2012 سے عملدرآمد شروع ہوگیا ہے جس کے تحت 75 پاکستانی مصنوعات کی یورپی یونین کوایکسپورٹ پر عائد کسٹمز ڈیوٹی میں 2.5 فیصد سے لے کر 20.9 فیصد تک رعایت دی گئی ہے، پیکیج سے پاکستان کو سالانہ کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہو گا۔

انہوںنے بتایاکہ وزارت تجارت نے ترکمانستان حکومت سے 14 نومبر 2011 کو دو طرفہ تجارت میں اضافے کا معاہدہ کیا جس کے تحت سال 2011-12 میں پاکستان اور ترکمانستان کی تجارت میں3گنا اضافہ ہوا جو1.413 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.35 ارب ڈالر ہو گئی تاہم اس میں 80 فیصد سے زائد حصہ درآمدات کا ہے۔ اس موقع پر قائمہ کمیٹی کے رکن حسیب خان نے کہاکہ فاٹا اور پاٹا سے گھی و خوردنی تیل کی برآمد پر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی معاف کرنے کا فیصلہ ایک جرم ہے، مذکورہ فیصلے کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔

01

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے نام پر غلط معاہدہ کیا گیا جس سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ مذکورہ معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کی سیکڑوں دوائیں پاکستان برآمد کرنے کیلیے انہوں نے رجسٹرڈ کرا لی ہیں جبکہ پاکستان ایک فارما سیوٹیکل آئٹم بھی بنگلہ دیش برآمد کرنے کیلیے رجسٹرڈ نہیں کراسکا کیونکہ بنگلہ دیش نے مذکورہ معاہدہ میں یہ شرط شامل کرائی ہے کہ پاکستان کی صرف وہی فارماسیوٹیکل مصنوعات بنگلہ دیش برآمد ہو سکیں گی جو پاکستان یورپی یونین کو برآمد کررہاہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو پاکستانی دوائیں بھارت، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور نیپال میں برآمد ہوتی ہیں وہ بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ ہوتیں، یہ وزارت تجارت حکام کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔

بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹرغلام علی نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے کہا کہ سرمایہ کاروں کو جہاں بہتر منافع نظر آئے گا وہ اپنا سرمایہ وہیں لگائیں گے، حکومت کو چاہیے کہ سرمایہ دیگرممالک منتقل کرنے والے سرمایہ کاروں کو اچھی مراعات کی پیشکش کرے، انہیں 5 سے 10 فیصد ٹیکسوں میں رعایتی پیکیج دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ فاضل رکن جہانگیر بدر نے کہا کہ اس حوالے سے سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے رابطہ کیا جائے، بیرون ممالک میں ایسے پاکستانیوں کی اکثریت موجود ہے جنہوں نے ملک سے باہر جا کر کاروبار کیا اور ترقی کی، وہ اب پاکستان واپس آ کر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں انہیں اچھی پیشکش کی جائے۔

مقبول خبریں