کیا ایم کیو ایم لندن کو سیاست کی اجازت ملنی چاہیے

سپریم کورٹ کی روزانہ کی سماعت اور فریقین کی پریس کانفرنسیں پانامہ کو ہر لمحہ زندہ رکھے ہوئے ہیں


مزمل سہروردی January 07, 2017
[email protected]

SWAT: پانامہ کی لڑائی اپنے جوبن پر ہے۔ سپریم کورٹ کی روزانہ کی سماعت اور فریقین کی پریس کانفرنسیں پانامہ کو ہر لمحہ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دوبارہ سماعت کے آغاز نے مردہ پانامہ میں جان ڈال دی ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں میں سمجھتا ہوں کہ پانامہ کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کراچی میں ایم کیوایم لندن اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان بڑھتا تناؤ شاید کہیں نہ کہیں پانامہ سے اہم ہے۔ایم کیو ایم لندن دوبارہ سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے پر بضد ہے جب کہ ریاستی ادارے اس کو یہ اجازت دوبارہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ شاید کہیں نہ کہیں یہ سوچ موجود ہے کہ بمشکل اس جن کو بوتل میں بند کیا گیا ہے۔ اب دوبارہ یہ جن بوتل سے نکل آیا تو پھر کون بند کرے گا۔ تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ ایم کیو ایم لندن بھی کسی فائنل راؤنڈ کی تیاری کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے عوامی طاقت کا مظاہرہ کر دیا ہے۔ فاروق ستار نے ایک عوامی شو کر کے ایم کیو ایم پاکستان کی عوامی لانچنگ بھی کر دی ہے۔ دوسری طرف مصطفیٰ کمال بھی آہستہ آستہ اپنی جماعت کو عوامی اجتماعات کی طرف لا رہے ہیں۔ ایسے میں ایم کیو ایم لندن کے لیے میدان سے باہر رہنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب آئندہ الیکشن کی تیاری ہے۔ فاروق ستار کی ایم کیوایم پاکستان کی خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کا سارا ووٹ بینک اسے مل جائے۔ تاہم پاک سر زمین پارٹی اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب کہ ایم کیو ایم لندن سمجھتی ہے کہ کراچی کا سارا مہاجر ووٹ بینک اس کی ملکیت ہے جس پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

یہ مہاجر ووٹ بینک کس کا ہے۔ اب تک کے انتخابی نتائج میں تو یہ الطاف حسین کا ہی تھا۔ لیکن کیا الطاف حسین کی22 اگست کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد یہ الطاف حسین کا ہے۔ میرے نزدیک یہ سوال اہم ہے۔ لیکن جب ایم کیو ایم لندن سے یہ سوال کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ اول تو الطاف حسین اپنی 22 اگست کی تقریر پر معافی مانگ چکے ہیں۔ دوسرا ان کا موقف ہے کہ اس سے پہلے بھی الطاف حسین پر جناح پور کی سازش جیسے الزمات لگے ہیں لیکن ان الزمات کو الطافٖ حسین کے ووٹ بینک نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اس لیے الطاف حسین کا ووٹ بینک قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اگر ایسا ہے تو یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔

ایم کیو ایم لندن کی اس وقت ایک ہی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کو اس حد تک سیاسی سرگرمیوں کی اجازت مل جائے کہ وہ اگلا الیکشن لڑ سکیں۔ تاہم اس کو روکنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ صورتحال کیسے اور کب تک چلے گی۔ ایم کیو ایم لندن نے حکمت عملی بدل لی ہے اور اب ایک نئے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمی کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم لندن پاکستان قومی موومنٹ نامی تنظیم کے ساتھ ملکر استحکام پاکستان ریلی نکال رہی ہے۔ بظاہر پاکستان قومی موومنٹ پر تو کوئی علانیہ و غیر علانیہ پابندی نہیں ہے۔ اس لیے ایم کیو ایم لندن نے اس کا سہارا لے لیا ہے۔ لیکن فی الحال ایم کیو ایم لندن ایسی آگ ہے جس سے جو بھی لپٹے گا جل جائے گا۔

یہ بھی کوئی اہم بات نہیں کہ کیا پاکستان قومی موومنٹ 21 جنوری کو ایم کیو ایم لندن کے ساتھ مل کر استحکام پاکستان ریلی نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے کہ نہیں۔ کیونکہ زیادہ اہم بات یہ ہو گی کہ کیا ایم کیو ایم لندن اگلا انتخاب بھی ایسے ہی کسی پلیٹ فارم سے لڑنے کا فیصلہ تو نہیں کر رہی۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیا ہو گا۔ اگر ایم کیو ایم لندن انتخابات سے قبل کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے جو کاغذات میں تو موجود ہے لیکن میدان میں نہیں ۔ اور اس کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیتی ہے تو کیا ہوگا۔تھرڈ پارٹی کی مدد سے زندگی وینٹی لیٹر کی زندگی کے ہی مترادف ہو گی۔ ایسے میںاگر ایم کیو ایم لندن ایم کیو ایم پاکستان کو ہی تائید دے دے تو زیادہ بہتر ہو گا ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا الطاف حسین کو معافی ملنی چاہیے۔ کیا ان کی جانب سے معافی مانگ لینا کافی ہے۔ کیا ایک معافی سے ان پر سیاست اور میڈیا کے دروازے واپس کھل جانے چاہیے۔ اس حوالہ سے دونوں طرف دلائل میں وزن ہے۔ یقینا پاکستان مخالف تقریر کوئی اتنا چھوٹا اور نظر انداز کرنے والا جرم نہیں کہ بس ایک معافی سے مسئلہ حل ہو جائے۔ یہ ناقابل معافی جرم ہے اور سخت سزا ہونی چاہیے۔ تو پھر اس کا بھی کوئی قانونی راستہ ہونا چاہیے۔ جو بہر حال ابھی تک اختیار نہیں کیا گیا۔ کم ازکم ایم کیو ایم لندن کو ایک دہشت گرد تنظیم ہی قرار دے دیا جائے تا کہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ دوسری طرف دلیل یہ ہے کہ الطاف حسین محب وطن ہے کہ نہیں اس کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہو گا۔ اور ایم کیو ایم لندن کو اگلا انتخاب لڑنے کی اجازت دی جائے اگر عوام نے الطاف حسین کے نام ووٹ دے دیے تو ٹھیک اور اگر عوام کی عدالت نے سزا دے دی تو ٹھیک۔

مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ابھی تک ایم کیو ایم لندن کے مسئلہ کا مستقل حل کسی کے پاس نہیں ہے۔ ایک طرف امید ہے کہ عوام ایم کیو ایم پاکستان یا پاک سرزمین پارٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں گے تو دوسری طرف امید ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اب بھی ناکام ہونگی۔ ووٹ بینک الطاف حسین کا تھا اور رہے گا۔جب ان سے زیادہ بحث کی جائے تو نیپ جیسی سیاسی جماعتوں کے واقعات بتاتے ہیں جب سیاسی جماعتوں کو غدار قرار دینے کی پالیسیاں ناکام ہوئیں۔ ابھی تک کی تو صورتحال یہی ہے کہ ایم کیو ایم لندن میدان چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اور ریاستی ادارے انھیں میدان دینے کے لیے تیار نہیں۔

ایم کیو ایم لندن کے لیے ایک محفوظ راستہ تو یہی ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے اگلے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دے۔اس طرح دونوں فریقین کے درمیان ایک سیز فائر ہو سکتا ہے۔ لیکن شاید ایم کیو ایم لندن کو بھی کہیں نہ کہیں خوف ہے کہ اگر انھوں نے بائیکاٹ کیا تو ان کا ووٹ بینک ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ متبادل کی جگہ بن جائے گی۔ انھیں بھی کہیں نہ کہیں احساس ہے کہ یہ اب ان کی بقا کی جنگ ہے۔

دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ الطاف حسین سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرتے ہوئے ندیم نصرت کو اپنا جانشین مقرر کر دیں۔ شاید اس طرح بھی کوئی راستہ نکل آئے۔ اگر انھیں یہ دونوں کام نہیں کرنے تو پھر الطا ف حسین کو ایم کیو ایم لندن کی ساری قیادت کے ساتھ پاکستان آنے کا اعلان کرنا ہو گا۔پاکستان آنا ہو گا اور پاکستان کے قانون کا سامنا کرنا ہو گا۔ یقینا یہ ایک مشکل راستہ ہے لیکن بحالی کا یہ واحد انقلابی راستہ ہے۔ وہ پاکستان آئیں پاکستان کی مٹی کو سجدہ دیں۔ اور پاکستان کی عوام اور قانون کا سامنا کریں۔ ورنہ لندن سے بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول سے راستے تلاش کرنا اب عملا ناممکن نظرآرہا ہے۔

مقبول خبریں