میزائلوں کے تین تجربات
امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس بہت پہلے سے اس قسم کی صلاحیتیں رکھنے والے میزائل موجود ہیں
PESHAWAR:
کہا جاتا ہے کہ انسانی تہذیب کو موجودہ مقام تک پہنچنے کے لیے سیکڑوں سال کا سفر طے کرنا پڑااور کئی مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ غاروں اور درختوں سے شروع ہونے والا یہ سفر اب چاند، مریخ اور خلائی اسٹیشنوں تک جا پہنچا ہے اور اگر دنیا کے لیے نئے ٹرومن اس ترقی یافتہ تہذیب کو ملیامیٹ بلکہ کرۂ ارض سے انسانوں کو صفایا کرنے کا نیک کام انجام نہ دیں تو یہ عین ممکن ہے کہ انسانی تہذیب کا اگلا پڑاؤ مریخ اور خلائی بستیوں میں آباد ہونے کے قابل ہوتا ہے تو اس کی پہلی ذمے داری اور فرض یہ ہوگا کہ وہ ایٹمی سائنس دانوں اور اسلحے کی صنعت کو کرۂ ارض پر ہی رہنے دیں۔ مریخ اور خلائی بستیوںتک ہرگز نہ لے جائیں تاکہ خلائی بستیاں اور مریخ ایٹم بموں، ایٹمی میزائلوں کی زد سے بچے رہ سکیں۔
آج کے تاریخی مہذب معاشرے کاانسان کتنا بڑاقاتل بن گیا ہے، اس کا اندازہ کرۂ ارض پر لڑی جانے والی ان خونریز جنگوں سے ہوسکتا ہے جن میں لاکھوں نہیں کروڑوں معصوم اور بے گناہ انسان جن میں مرد، عورت اور معصوم بچے شامل ہیں ہلاک ہوگئے۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کا حکم دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم (امریکی) کے صدر ٹرومن نے دیا تھا۔
1945 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک فاشسٹ سے دنیا کو نجات دلانے کے لیے ایٹم بموں کا استعمال کیا گیا۔ اب اس مہذب دنیا میں مختلف نوعیت کے بے شمار فاشسٹ پیدا ہوگئے ہیں اور بے شمار ٹرومن بھی موجود ہیں جن کے ممکنہ ٹکراؤ سے ہیرو شیما اور ناگا ساکی سے بہت بڑی قیامتیں ٹوٹ سکتی ہیں۔ناگا ساکی اور ہیرو شما پر استعمال ہونے والے ایٹم بموں سے سیکڑوں گنا زیادہ خطرناک ایٹمی ہتھیار بنالیے گئے ہیں اور ان ہزاروں ہتھیاروں کے ذخائر پہ کرۂ ارض بیٹھا ہوا ہے جس پر 7 ارب انسان بستے ہیں، کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی ٹرومن ان ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے پر اتر آئے؟ کرۂ ارض پر ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔
48 گھنٹوں کے دوران تین مختلف ملکوں میں مختلف دوریوں تک مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ کیا گیا۔شمالی کوریا نے ایک بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے جو امریکا کی ریاست الاسکا کو نشانہ بناسکتا ہے۔ شمالی کوریاسخت اقتصادی پابندیوںکے باوجود خطرناک میزائلوں کا مسلسل تجربہ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اس کے پڑوس میں بیٹھے جنوبی کوریا پر امریکا بہادرکا تسلط ہے اور امریکا بہادر شمالی کوریا کو اپنا نظریاتی دشمن سمجھتا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ بین البراعظمی میزائل 39 منٹ تک 2800 کلو میٹر کی بلندی پر پرواز کرتا رہا اور اپنی مختصر عمرکے خاتمے کے بعد بحیرہ جاپان پر گر کر تباہ ہوگیا، بیان کے مطابق اس میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد شمالی کوریا، شمالی کوریا دنیا کے کسی بھی ملک کو نشانہ بناسکتا ہے۔ دنیا کا ہر ملک پہاڑوں، دریاؤں پر مشتمل نہیں ہے جب کہ ہر ملک میں انسان بہتے ہیں۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس بہت پہلے سے اس قسم کی صلاحیتیں رکھنے والے میزائل موجود ہیں اور غالباً شمالی کوریا ان ہی میزائلوں کا توڑ کرنے کے لیے یہ میزائل تیار کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے موصوف نے کہاہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے لیکیو فوجی طاقت سمیت تمام آپشن استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ چند ہی دن پہلے روس نے 3500 میل تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیاتھا۔4 جولائی کو شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کے تجربے کے دن ہی بھارت نے زمین سے فضا میں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا ہے۔
جس کی رینجر25 سے 30 کلو میٹر تھی۔ اس بھارتی تجربے کے دوسرے دن پاکستان نے نامعلوم مقام پر ایک بیلسٹک میزائل نصر کا تجربہ کیا جو 60،70 میل تک نشانہ لے سکتا ہے یعنی کراچی سے لگ بھگ حیدرآباد تک جاسکتا ہے۔ اس میزائل کی ہدف تک جاتی ہوئی تصویر بھی اخباروں کی زینت بنی ہے۔
امریکا کے پاس ہیرو شیما اور ناگا ساکی سے بیسیوں گنا زیادہ طاقت کے ہزاروں ایٹم بم ہیں کہا جاتا ہے کہ روس کے پاس امریکا کے ذخیرے سے بڑا ذخیرہ موجود ہے اور پاکستان اور بھارت جیسے پسماندہ ملکوں کے پاس بھی سیکڑوں ایٹم بم موجود ہیں۔ امریکا کے اتحادیوں کے پاس بھی ایٹمی ہتھیاروں کے بڑے بڑے ذخیرے موجود ہیں جو استعمال ہوں توسیکڑوں بار تباہ کرسکتے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کے عاقلوں نے مل بیٹھ کر دنیا کو جنگوں سے بچانے کے لیے ادارہ اقوام متحدہ نے بنایا لیکن یہ ادارہ غیر جانبداری سے دنیا کو لاحق جنگی خطرات سے بچانے کے بجائے امریکا کی وکیل بن کر رہ گیا۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا جنگ کے دہانے پر کھڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی پشت پر امریکا کھڑا ہے، خدانخواستہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ ہوجاتی ہے تو کیا یہ جنگ ایٹمی جنگ کے علاوہ کوئی اور جنگ ہوسکتی ہے اور اگر ایٹمی جنگ ہوگئی تو دنیا میں کیا کوئی جاندار بچ سکتا ہے؟