چیئرمین سینیٹ نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر خواجہ آصف کو طلب کرلیا

ٹلرسن نے کابل میں ایسا بیان دیا جیسے وائسرائے آ رہا ہو، رضا ربانی


Numainda Express October 25, 2017
سیاستدانوں کے ساتھ ججز اور جرنیلوں کے احتساب کا بھی قانون بنایا جائے، رضا ربانی۔ فوٹو : فائل

چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی نے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کی جانب سے دورہ کابل کے موقع پر پاکستان سے متعلق دیے گئے بیان پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ امریکی وزیر خارجہ کا کابل میں بیان پارلیمنٹ کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ان کابیان اور لب و لہجہ انتہائی غیرمناسب تھا۔

ایوان بالا کے اجلاس کے دوران چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ ریکس ٹلرسن پاکستان آنے سے قبل ایسے بیان دے رہے ہیںجیسے کوئی وائسرائے آرہاہو،ہم اس بات کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ریکس ٹلرسن نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم نے پاکستان کے سامنے تعلقات کی بہتری کے لیے شرائط رکھ دیے ہیںلیکن ہمیںان شرائط کے بارے میں کسی نے نہ تو آگاہ کیااورنہ اعتماد میں لیا۔

چیئرمین سینیٹ نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر آج سینیٹ میں طلب کر کے وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ دفتر خارجہ حکام امریکی وزیر خارجہ کو پاکستانی خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمنٹ کی سفارشات پڑھائیں، سفارشات کے ذریعے ان کے علم میں آجائے گاکہ پارلیمنٹ کاکیاردعمل ہے۔

رضا ربانی نے کہاکہ اگست 2017 میںخارجہ پالیسی سے متعلق سفارشات میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر کے بیان پر دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایاجائے اور خارجہ پالیسی مرتب کی جائے مگر حکومت نے مشترکہ اجلاس نہیں بلایا۔

علاوہ ازیں رضا ربانی نے حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہاہے نئے احتساب بل میں سیاستدانوں سمیت ججز اورجرنیلوں کے احتساب کابھی قانون بنایاجائے،سب کااحتساب ہونا چاہیے، اور اس بات پر قائم ہوں،اٹارنی جنرل آفس کو یہ اختیار کسی نے نہیٖں دیاکہ وہ سینیٹ کے حوالے سے ریمارکس دے ،احتساب آرڈیننس سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے پر حکومت کی جانب سے رواںسال اپریل سے نہیں لایاگیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ اپریل سے لیکر آج تک حکومت اس بل کو ایوان کے ایجنڈے پر لیکر نہیںآئی،اور اٹارنی جنرل نے کہاکہ پلی بارگین کو نہیں ماناجائے گا،اور کہاکہ بل سینیٹ میںالتوا کاشکار ہے،اٹارنی جنرل آ فس کو یہ اختیار کسی نے نہیٖں دیاکہ وہ یہ بات کرے وزیر قانون زاہدحامد نے کہاکہ حکومت اس آرڈیننس کو بل کی شکل میںلاناچاہتی ہے،جس کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں تجویز پیش کی کہ بازیاب کیے جانے والے گمشدہ افراد کو سینیٹ میںاپنے بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دی جائے اور اس کے علاوہ یہ بھی تجویز پیش کی کہ گمشدہ افراد کے بارے میں قائم کمیشن جس کی مدت 6 سال ہوگئی ہے وہ ختم کرکے نیاکمیشن بنایاجائے۔ عوامی اہمیت کے ایشوپر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ حال ہی میںحراست سے رہاکی گئی صحافی خاتون زینت شہزادی اور انسانی حقوق کے کارکن پنل ساریو کو گزشتہ ہفتے رہا کیا گیا لیکن وہ اپنے حراست کے دنوںکے متعلق بات کرتے ہوئے خوفزدہ ہیں۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیر بین الصوبائی رابطہ میاںریاض حسین پیرزادہ نے بتایاکہ پی سی بی کے ممبر بورڈ آف گورنرز نجم سیٹھی کو حاصل مراعات کے حوالے سے فی الحال معلومات نہیںہیں۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ اس حوالے سے تفصیلات حاصل کر کے ایوان کو آگاہ کیاجائے۔

اجلاس کے دوران رضاربانی نے کہاکہ طاہرمشہدی سے معذرت کرتاہوںکہ میری وجہ سے ان کو شکایت ہوئی،وہ سینئر ممبر ہیں، میںاس پر ان سے معذرت کرتاہوں۔

طاہرمشہدی نے کہاکہ چیئرمین نے پارلیمان کا وقار بلند کیا ہے، چیئرمین کو معذرت کرنے کی ضرورت نہیں تھی،وہ بہترین طریقے سے ایوان چلارہے ہیں، انھوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا، ان کا شکر گزار ہوں۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس بدھ کی شام 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

مقبول خبریں