سب سے بڑا کام

اس جمی جمائی سیاست میں عمران خان کی دخل اندازی کی وجہ سے ایک زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے


Zaheer Akhter Bedari November 03, 2017
[email protected]

لاہور: سرمایہ دارانہ جمہوریت بنیادی طور پر سرمایہ دار طبقے کے مفادات سے ہم آہنگ ہوتی ہے لیکن اس کی بھی چند روایات ہیں جن میں انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی قیادت میں تبدیلی ایک اہم روایت ہے۔ دنیا کی کسی جمہوریت میں خاندانی سیاست، خاندانی حکمرانی کا کوئی وجود نہیں تھا۔

حکمرانی کی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد حکمران اپنی جگہ چھوڑدیتے ہیں اگر پارٹی فیصلہ کرتی ہے کہ ایک حکمران (صدر یا وزیراعظم) کو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تو وہ دوبارہ انتخابات میں حصہ لیتا ہے ورنہ وہ اپنی باقی زندگی اپنی طے کردہ نجی مصروفیات میں گزاردیتا ہے۔ جمہوری ملکوں میں کوئی فرد، کوئی خاندان نہ ناگزیر ہوتا ہے نہ اقتدار اور سیاست پر مستقل قابض رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کلچر کی وجہ حکومت میں مستقل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اور عوام کے مسائل حل کرنا حکمرانوں کی ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔

بد قسمتی سے پاکستان کا سیاسی کلچر شاہانہ طرز پر استوار ہے جہاں 70 سال سے چند خاندان سیاست اور اقتدار پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔ اب یہ کلچر سکڑکر صرف دو خاندانوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور باری باری کے ایسے کھیل میں بدل کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے ہماری سیاست جمود کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔ اس جمی جمائی سیاست میں عمران خان کی دخل اندازی کی وجہ سے ایک زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے اور اشرافیائی طاقتیں ہر قیمت پر شاہانہ سیاست کا دفاع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

عمران خان کا تعلق ایک درمیانے طبقے کے خاندان سے ہے اور وہ 70 سالہ خاندانی سیاست کو ختم کرنے کے دعوے کے ساتھ میدان سیاست میں متحرک ہے۔ عمران خان کی سیاست خاندانی حکمرانیوں، خاندانی سیاست کے لیے ایک زبردست خطرہ بن گئی ہے اور اشرافیہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری تیاری اور پورے وسائل کے ساتھ متحرک ہے۔ مقتدر خاندانوں میں اقتداری جھگڑے تو موجود ہیں لیکن وہ اپنے اقتداری جھگڑوں کو پس پشت ڈال کر اس مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ مزاحمت کررہے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے میڈیا کو استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

آج کے دور میں میڈیا خود ایک بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرا ہے خاص طور پر اقتداری سیاست میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس ''اسٹیٹس کو'' کو توڑنا ہے جو 70 سال سے ملک پر مسلط ہوکر رہ گیا ہے۔ اس میں تبدیلی کے بغیر نہ ملکی سیاست میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے نہ طرز حکمرانی میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ اس حوالے سے ایک بد قسمتی یہ ہے کہ قلمی اور فکری اشرافیہ کا موقف یہ ہے کہ لولی لنگڑی ہی سہی جمہوریت کو چلنے دیا جائے، وہ آہستہ آہستہ عوامی جمہوریت میں بدل جائے گی۔

اس قسم کے امکانات اس سیاست میں ہوتے ہیں جس پر چند خاندانوں کا قبضہ نہ ہو بلکہ ملٹی کلاس سیاست موجود ہو۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاست شاہانہ سیاست کا ایک ایسا مرکز بن گئی ہے جس میں ولی عہدی نظام کو پورے ہوش و حواس اور دانائی و بینائی کے ساتھ فروغ دیا جارہا ہے۔ اقتداری جماعتیں اپنی آل اولاد کو اپنے جانشینوں کے طور پر عوام میں بھرپور طریقے سے متعارف کرارہی ہیں اور اس جمہوریت اور عوام دشمن مہم میں میڈیا دانستہ یا نادانستہ شریک ہورہا ہے۔ حکومتی وسائل اور عوام کی دولت اس مہم میں بلا روک ٹوک استعمال ہورہی ہے۔ کروڑوں، اربوں روپوں کی عوامی دولت اس عوام دشمن مہم پر صرف ہورہی ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ملک میں قبائلی اور جاگیردارانہ روایات کی مضبوطی کی وجہ سے عوام سخت قسم کی شخصیت پرستی کے مرض میں مبتلا ہیں اور یہ احساس کیے بغیر کہ شخصیت پرستی خود ان کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی، شخصیت پرستی کے جنون میں بری طرح مبتلا ہیں۔ ہماری اشرافیہ عوام کی اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عوام میں شخصیت پرستی کے کلچر کو اور مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمارا میڈیا بھی اس کار خیر میں برابر کا شریک نظر آرہا ہے۔ اس کار خیر کو تقویت دینے کے لیے جلسوں، جلوسوں کا سہارا لیا جارہا ہے، ہر سیاسی جماعت میں سیاسی کارکن جماعت کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔

اشرافیائی سیاسی جماعتوں کو اس حقیقت کا ادراک ہے سو وہ معمولی معمولی مراعات دے کر اپنے سیاسی کارکنوں کو یہ ذمے داری سونپتے ہیں کہ وہ اشرافیہ کے جلسوں جلوسوں کی رونق بڑھانے کے لیے عوام کو کسی ترغیب کے ساتھ یا خاندانوں اور کمیونٹی کے حوالوں سے گمراہ کرکے الیٹ کے جلسوں جلوسوں میں شریک کریں۔ اس کام کے لیے بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور خدا کے فضل سے الیٹ کے پاس سرمائے کی کوئی کمی نہیں۔

نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جسے تفریح کے سرے سے کوئی مواقعے حاصل نہیں ہوتے جلسوں، جلوسوں کو تفریح کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں جب انھیں ان جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کے لیے آرام دہ ٹرانسپورٹ کی سہولت حاصل ہوجاتی ہے تو وہ دل پیشوری کرنے کے لیے چند گھنٹے ان جلسوں جلسوں کو دے دیتے ہیں۔ یوں الیٹ کے جلسوں، جلوسوں کی رونق میں اضافہ ہوجاتا ہے جسے الیٹ عوامی حمایت کا نام دیتی ہے۔

ہماری جمہوریت کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ حکمران طبقات اپنے منتخب نمایندوں کوکروڑوں روپوں کا فنڈ دیتے ہیں جس کا بہ ظاہر یہ مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ فنڈ عوام کے ترقیاتی کاموں میں خرچ کیے جائیںگے لیکن اہل علم اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ کروڑوں روپوں کے یہ فنڈ عموماً ایک رشوت ہوتی ہے جس کا معاوضہ منتخب ارکان قانون ساز اداروں کے اندر اور باہر حکومت کی جائز و ناجائز خدمات کی شکل میں ادا کرتے ہیں۔ ان خدمات میں حکمران طبقات کے جلسوں، جلوسوں کی رونق بڑھانا بھی شامل ہے۔ یہ محترم اراکین اپنے اپنے حلقۂ اثر میں سادہ لوح عوام کو اکٹھا کرکے جلسوں جلوسوں میں گھسیٹ لاتے ہیں اور یہی سادہ لوح اور سیاسی مقصد سے نابلد عوام الیٹ کے جلسوں، جلوسوں کی رونق بڑھاکر الیٹ کی طاقت میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔

اس بد ترین اسٹیٹس کو سے نکلے بغیر نہ یہ ملک ترقی کرسکتا ہے نہ ہی سیاست میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ عمران خان میں پچاس خرابیاں ہوسکتی ہیں لیکن وہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کا حامی ہے اور مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ عوام کی ہر طرف سے مایوس اکثریت عمران خان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے اس کے جلسوں میں عوام آتے ہیں لائے نہیں جاتے۔ جب ہمارے ملک، ہماری سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ ہی اسٹیٹس کو کو توڑنا ہے تو عوام کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا کہ وہ اس رہنما یا جماعت کی حمایت کریں جو کھلے عام اسٹیٹس کو کو توڑنے کی بات کررہاہے اور جس کا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ عمران خان کی ذمے داری ہے کہ وہ تبدیلی کے لیے امپائر کی انگلیوں کی طرف نہ دیکھے بلکہ اس حقیقت کو سمجھے کہ اول و آخر طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہوتے ہیں اور اس کا احساس عوام کو دلانا ہی سب سے بڑا کام ہے۔

مقبول خبریں