خوف کی دو بڑی وجوہات

اس قدر رعب و دبدبے کے پیچھے اگر جھانک کر دیکھیں تو وہ خوف نظر آتا ہے جو احتساب کی شکل میں سامنے کھڑا ہے۔


Zaheer Akhter Bedari November 10, 2017
[email protected]

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اشرافیہ کے اکابرین کے خلاف احتساب کا آغاز ہوا ہے۔ اس آغاز سے اشرافیہ خوفزدہ بھی ہے اور بے حد مشتعل بھی ہے اور ہر قیمت پر اس احتسابی سلسلے کو روکنے کے در پے ہے۔ اس حوالے سے اشرافیائی عمائدین نے ایک نیا اور دلچسپ فلسفہ یہ پیش کیا ہے کہ فیصلوں کا اصل اختیار عدالت کو نہیں عوام کو ہے اور اس فلسفے کے جواز میں یہ دلچسپ دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ جمہوریت میں فیصلے کرنے کا اختیار رائے عامہ کے پاس ہوتا ہے۔ اس استدلال کے بعد عدلیہ کا کام ہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ عدلیہ کی ضرورت باقی رہتی ہے نہ قانون آئین اور انصاف کی۔

اس حوالے سے ہمارے عاقل و بالغ حکمرانوں نے عملی اقدامات کے شاندار مظاہرے بھی کیے جی ٹی روڈ پر مسمرائزڈ عوام کا ہجوم اکٹھا کرکے یہ نعرے لگوادیے کہ سپریم کوٹ کا فیصلہ نا منظور۔ بظاہر یہ کارروائی مایوس ایلیٹ کا ایک اضطراری عمل دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے مضمرات پر نظر ڈالیں تو یہ عمل نہ صرف قانون آئین اور انصاف سے بغاوت کا عمل ثابت ہوتا ہے بلکہ ملک ایک ایسی انارکی کا شکار ہوسکتا ہے جو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اشرافیہ احتساب کے حوالے سے اس قدر خوفزدہ اور مشتعل کیوں ہے؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ قیام پاکستان سے اشرافیہ ایک بے لگام گھوڑے کی طرح آزاد رہی ہے کسی کو ہمت ہی نہ تھی کہ وہ اشرافیہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ اس کے رعب و دبدبے کا عالم یہ رہا ہے کہ ماضی کے بادشاہوں کا رعب و دبدبہ اس کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے۔ اس کے آگے ہمیشہ جھکے ہوئے سروں کی قطاریں رہی ہیں کسی میں یہ ہمت اور جرأت نہیں چھوڑی گئی کہ وہ اشرافیہ کے سامنے سر بلند رہے۔

اس رعب و دبدبے کو قائم اور برقرار رکھنے کے لیے پروٹوکول کے نام باڈی گارڈ دستوں اور عمائدین کی اعلیٰ نسل کی کاروں کے قافلے حضور کے آگے چلنے کا رواج جاری کیا گیا۔ اس اعلیٰ مرتبتی کا عالم یہ رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نااہلی کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد بھی عدالتوں میں پیشیوں پر 50-50 قیمتی کاروں کے قافلوں کے ساتھ تشریف آوری رہی۔

اس قدر رعب و دبدبے کے پیچھے اگر جھانک کر دیکھیں تو وہ خوف نظر آتا ہے جو احتساب کی شکل میں سامنے کھڑا ہے۔ یہ اشرافیہ 70 سال سے جس طرح ظل الٰہی بنی ہوئی تھی اس کے لیے عدالتوں کے دھکے کھانا ججوں اور وکیلوں کے چبھتے ہوئے سوالوں کو برداشت کرنا اور ان کے جوابات دینے کو یہ اکابرین ایسی توہین سمجھتے ہیں جس سے ان کی انا کی مٹی پلید ہوجاتی ہے۔ آج کا دور میڈیا کی آزادی کا دور ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا احتساب اور اشرافیہ پر الزامات کو ایسی جلی سرخیوں میں پیش کرتا ہے کہ اشرافیہ کا کروفر مٹی میں مل جاتا ہے اور اس توہین کو برداشت کرنا اشرافیہ کی موت ثابت ہو رہا ہے۔

احتساب سے خوفزدہ ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ اگر احتساب بلا خوف وخطر ہوا تو عوام میں ایسی بے عزتی ہوجاتی ہے کہ 70 سال سے جو رعب و دبدبہ قائم ہے وہ بے غیرتی کی لہروں میں بہہ جاتا ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان رساں اثر یہ پڑتا ہے کہ رعب دبدبے اور طاقت کے زیر اثر ووٹ کاسٹ کرنے والے عوام اس رعب و دبدبے سے آزاد ہوکر اپنا ووٹ اپنی مرضی سے کاسٹ کرنے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔ یوں عملی فلور پر طاقت کمزوری میں بدل جاتی ہے اور انتخابی نتائج توقع کے خلاف ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے اشرافیہ کے خوف کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اپنے دور اقتدار میں جس ''جفاکشی'' اور ''فنی مہارت'' سے اربوں روپوں کی کرپشن کرکے دولت کے انبار لگائے گئے ہیں اگر یہ دولت احتساب کی زد میں آکر ہاتھوں سے نکل گئی تو اشرافیہ کی حالت جنگ میں مصروف اس فوجی کی ہوجائے گی جسے غیر مسلح کرکے اس کے سارے ہتھیار چھین لیے گئے۔

یوں ہماری جمہوریتوں میں کرپشن کی دولت کے علاوہ حکمران طبقہ قومی دولت اور ریاستی وسائل کو بھی بیدردی سے استعمال کرتا ہے اگر احتساب اس کی حکمرانی کا اختیار چھین لیتا ہے تو نہ اس کے پاس لوٹ مار کی دولت رہے گی نہ لوٹنے کے لیے حکومتی اختیارات رہیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا حال بے تیغ سپاہی کا ہوجائے گا اور وہ ملک میں تصویر عبرت بن کر رہ جائے گا۔

یہی وہ خوف ہے جو اشرافیہ کو بے چین کیے ہوئے ہے۔ کبھی وہ عوامی طاقت کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے کبھی وہ قانون اور آئین میں ضرورت کے مطابق ترامیم لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی ''پرانے سیاسی دوستوں'' کو دہائی دے رہا ہے کہ وہ اس نازک وقت میں اس کی مدد کریں۔کبھی بیرونی ملکوں کے رہنماؤں سے یہ کام لینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ماضی کی طرح اس نازک گھڑی میں اس کی مدد کریں کبھی اپنے ہم مشرب سیاستدانوں کو دہائی دے رہا ہے کہ وہ آگے آئیں ورنہ کل کو تم پر بھی وہی وقت آسکتا ہے جو آج ہم پر آیا ہے۔

بدقسمتی سے سرمایہ دارانہ نظام کی سرپرستی میں قانون اور آئین کا جو ڈھانچہ ترتیب دیا گیا ہے اس کا حال موم کی ناک کا ہے جسے جس طرف چاہو موڑا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہماری وکلا برادری کی فنی مہارتیں بھی اس حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور اس مہارت کو اشرافیہ بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

موجودہ حالات میں ایک بدقسمتی یہ ہے کہ وہ طاقتیں جو اپنی اصل میں اقتدار کی خواہش مند ہی ہیں لیکن اگر یہ طاقتیں اس کرپٹ مافیا کا نعم البدل بن جائیں تو ایک فائدہ بہرحال ضرور ہوسکتا ہے کہ اسٹیٹس کو میں تبدیلی آسکتی ہے اس خوف کی وجہ سے اقتداری اشرافیہ چاروں طرف سے اس طاقت پر حملہ آور ہو رہی ہے اور عوام کو بدظن کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے کئی منجھی ہوئی پروپیگنڈے کی ماہر ٹیمیں میدان سیاست میں اتار دی گئی ہیں کہ وہ کسی متبادل کو عوام میں جڑیں پکڑنے نہ دیں اور یہ متبادل بھی اپنی اشرافیائی خصلتوں کی وجہ سے قانون کی زد میں آیا ہوا ہے۔

یوں عملاً سیاسی میدان خالی ہے اور ملکی سیاست میں ایک خلا کی سی کیفیت موجود ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے بعض ایسی سیاسی طاقتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں کہ و ہ اس سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی ہمدردیاں حاصل کریں۔ لیکن ان کا ماضی اتنا داغدار ہے کہ وہ پروپیگنڈے اور ترغیب کا لاکھ طوفان اٹھائیں اس خلا کو پر نہیں کرسکتیں جو نظر آرہا ہے۔ اب اس ملک کے سیاسی مستقبل اور اشرافیائی کرپشن سے نجات کا دار و مدار قانون اور انصاف کے کردار پر منحصر ہے اگر قانون اور انصاف بلاامتیاز احتساب کا عمل جاری رکھتا ہے اور ان تمام ملزمان کے خلاف حرکت میں آتا ہے جو احتساب سے بچتی آرہی ہیں تو بہتری کی ایک شکل پیدا ہوسکتی ہے ورنہ۔۔۔۔!

مقبول خبریں