اعلیٰ بھارتی شخصیات کرپشن کی دلدل میں

بھارت اپنے گناہوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اکثر اوقات پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتا ہے۔


Tanveer Qaisar Shahid March 18, 2013
[email protected]

تسلیم کہ پاکستان میں بھی کرپشن اور بدعنوانی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اِس حوالے سے سپریم کورٹ نے کئی کرپٹ افراد کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوا کر قومی خزانے میں جمع کرانے کے بے مثال فیصلے صادر کیے لیکن جب ہم اِسی ضمن میں اپنے ہمسایہ ملک، بھارت، کے سرکاری اداروں اور بڑے بڑے سرکاری افسران کا جائزہ لیتے ہیں تو حقائق سے آنکھیں کھُلی کی کھُلی رہ جاتی ہیں۔ خصوصاً بھارت کے دفاعی شعبے میں بعض ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر نہ صرف کاری ضرب لگائی بلکہ خود بھارتی حکومتیں اپنے ہی ملک میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔

مثال کے طور پر ہووٹزر فیلڈ گن اور بوفورس توپوں کے اسکینڈل سے بھارتی حکومت اور سیاستدانوں کے منہ پر کالک مل دی گئی۔ بو فورس توپوں کے اسکینڈل میں سابق بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے بڑے صاحبزادے وزیرِ اعظم راجیو گاندھی ملوث پائے گئے۔ اربوں روپے کی اِس کرپشن نے ساری دنیا میں خاصی شہرت حاصل کی۔ اِس دفاعی اسکینڈل نے اتنی شدت اختیار کی کہ یہ راجیو گاندھی کی حکومت ہی کو نگل گیا۔ یوں ''دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت'' کا بھانڈا عین چوراہے میں آ کر پھُوٹا۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ راجیو کے مرنے کے بعد آج تک نہرو خاندان کا کوئی شخص برسرِ اقتدار نہ آ سکا ہے۔ سونیا گاندھی کا راستہ بھی روک دیا گیا اور راہول گاندھی بھی ابھی راستے ہی میں بھٹک رہے ہیں۔ اب راہول گاندھی تو یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دے رہے ہیں کہ نہ تو وزیرِ اعظم بنوں گا اور نہ ہی شادی کروں گا۔ گویا نہرو خاندان کا ہر طرف سے خاتمہ ہونے جا رہا ہے؟

بو فورس توپوں کے اسکینڈل کی بازگشت کئی برس تک سنائی دیتی رہی ہے اور آنجہانی راجیو گاندھی، جو بعد ازاں ایک خودکش حملہ آور کے ہاتھوں مارے گئے، بھارتی عوام سے منہ چھپاتے رہے ہیں۔ اب جب کہ اِس تاریخی اسکینڈل کی بازگشت تقریباً معدوم ہونے جا رہی تھی، بھارت میں ایک اور بڑے کرپشن اسکینڈل نے سر اُٹھا لیا ہے۔ اِس کا شہرہ بھی عالمی سطح کا ہے اور اِس کا تعلق بھی بھارتی دفاعی شعبے سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ مالی بدعنوانی، کرپشن اور کِک بیکس کے اِس اسکینڈل کو ''آگسٹا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر'' کا عنوان دیا گیا ہے جس میں مبینہ طور پر اربوں روپے خرد بُرد کر لیے گئے ہیں۔

خبروں کے مطابق بھارتی ایئر فورس کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی (ششندر پال تیاگی) مالی بدعنوانی کا سرغنہ یا مرکزی کردار قرار دیے جا رہے ہیں۔ تیاگی صاحب تقریباً چار برس انڈین ایئر فورس کے چیف رہے۔ بھارتی ایئر فورس کا سابق سربراہ اور کرپشن کی دلدل میں لتھڑا ہوا؟ یہ ایک شرمناک منظر کی کہانی سناتا ہے۔ رواں مہینے کی تیرہ تاریخ کو ایس پی تیاگی اور اُن کے دیگر درجن بھر ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔ اُن کے ساتھیوں میں اُن کے کزن (جولی، دسکا، سندیپ) وغیرہ بھی شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر تیاگی کے نام پر بھاری بھر کم رقمیں پکڑیں۔

کہا جا رہا ہے کہ ''آگسٹا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر'' خریدنے کے سودے میں تیاگی نے 68 ملین ڈالر یا چار ہزار کروڑ بھارتی روپے، کِک بیکس کے نام پر، انیٹھ لیے۔ پیسے خود نہیں پکڑے بلکہ فرنٹ مینوں اور درمیان داروں نے رقمیں کھری کیں۔ اِن مہنگے ہیلی کاپٹر کی تعداد ایک درجن بتائی جاتی ہے جن میں سے تین خریدے بھی جا چکے ہیں۔ کِک بیکس یا رشوت کی یہ رقم لندن، سوئٹزر لینڈ، تیونس اور ماریشئس میں بیٹھے مخصوص افراد نے تیاگی کے متعلقین کے حوالے کی۔ چار ہزار کروڑ بھارتی روپے یا 68 ملین ڈالر کی یہ مبینہ رشوت ہیلی کاپٹروں کے کُل سودے کا دس فیصد بنتی ہے۔ اِس پس منظر میں ایس پی تیاگی کو ''بھارت کا مسٹر ٹین پرسنٹ'' بھی کہا جا رہا ہے۔

بھارت آبادی اور رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے کئی گُنا بڑا ملک ہے۔ وہاں غربت بھی بے پناہ ہے اور امارت بھی نئے انداز میں اُچھل رہی ہے۔ ایس پی تیاگی کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر اور لی گئی مبینہ رقم کو سامنے رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں کرپشن اور بدعنوانی بھی بے پناہ ہے اور پاکستان سے کہیں زیادہ۔ گویا اِس میدان میں بھارت، پاکستان پر بازی لے گیا ہے۔ جُوں جُوں بھارتی سی بی آئی اِس اسکینڈل کے بارے میں تفتیش کرتا جا رہا ہے، تُوں تُوں اُس پر کرپشن کے نئے نئے دروازے کھُلتے چلے جا رہے ہیں۔ سی بی آئی کے اعلیٰ افسران ایس پی تیاگی کی سرمایہ کاری، جو پراپرٹی اور بینکوں میں کی گئی ہے، کی تفتیش بھی کر رہے ہیں اور اِس تحقیقاتی ادارے کے اعلیٰ افسران گزشتہ چند ایام کے دوران دلّی ، گوڑ گائوں اور چندی گڑھ کے ساتھ ساتھ بھارت کے بارہ شہروں میں چھاپے بھی مار چکے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی ایئر فورس کے سابق سربراہ اور مبینہ مرکزی ملزم ایس پی تیاگی کے گھر پر بھی سولہ مارچ 2013ء کو چھاپہ مارا گیا۔ گویا بھارت میں جب کرپٹ افراد کے خلاف سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے تو انڈین ایئر فورس کے سابق سربراہ ایسے بڑے صاحبوں کے گھر بھی نہیں بچتے۔ بے دریغ اُن کے خلاف بھی تفتیش کار بروئے کار آتے اور اپنی اتھارٹی تسلیم کراتے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پورے ثبوت ہیں کہ یہ بھاری رشوتی رقمیں کیونکر تیاگی کے کزنوں اور قریبی رشتہ داروں تک پہنچیں اور یہ کہ اِن کا اصل مالک اور آقا کون ہے۔

انڈین ایئر فورس کے سابق سب سے بڑے صاحب پر لگنے والے کرپشن الزامات نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گلی گلی اور کوچے کوچے میں اِس کے چرچے ہیں اور ''دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت'' کے دعوے دار ندامت و شرمندگی کے پانی میں ڈوبے جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کے ایک متنازعہ اسلحے کے ڈیلر ابھیشک ورما نے بروکر کا کردار ادا کیا۔ خیر سے یہ ابھیشک ورما اور اُن کی اہلیہ محترمہ پہلے بھی اِسی قسم کے اربوں روپے کے معاملات میں بھارتی عدالتوں کو مطلوب ہیں۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے سودے میں لیے گئے اربوں روپے کے کِک بیکس میں بھارتی حکومت کے ایک سابق وزیر سنتوش برگو دیا کا بھائی بھی ملوث پایا گیا ہے۔

گویا کرپشن کی یہ زنجیر دُور تک پھیلی ہوئی ہے۔ ملین آف ڈالرز کا یہ اسکینڈل ڈاکٹر من موھن سنگھ کی وزارتِ عظمیٰ میں سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف سنگھ گورنمنٹ کو سخت دھچکا پہنچایا ہے بلکہ کانگریس پارٹی کے منہ پر بھی کالک مَل دی ہے۔ بھارتی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایس پی تیاگی اور اُن کے دیگر ساتھیوں پر لگنے والے رشوت خوری کے یہ الزامات بھارت میں ہونے والے آیندہ انتخابات کے دوران کانگریس کی جیت میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی بن سکتے ہیں۔ دنیا کی کونسی ایسی نیوز ویب سائٹ ہے جہاں اِس بھارتی اسکینڈل کا تذکرہ نہیں ہو رہا۔

لیکن اِس شرمناک اسکینڈل کے دوران بھارتی حکومت کوشش کرتی رہی کہ پاکستان پر مختلف النوع الزامات عائد کر کے بدعنوانی کی بازگشت کو دبا دیا جائے لیکن ایسا پھر بھی نہ ہو سکا۔ اِس اسکینڈل کے منظرِ عام پر آنے کے دنوں میں ہی سری نگر میں وہ واقعہ پیش آیا جس میں چند بھارتی سیکیورٹی فورس کے اہل کار مارے گئے۔ بھارت نے اِس واقعہ کو غنیمت جان کر پروپیگنڈہ کی توپیں پاکستان کی طرف کھول دیں۔ جذبات کی رَو میں بہہ کر بھارتی فوج کے سربراہ نے بیان داغ ڈالا: ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ نان سینس! واقعہ یہ ہے کہ بھارت اپنے گناہوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اکثر اوقات پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتا ہے۔ اب یہ اُس کی عادتِ ثانیہ بن چکی ہے۔

مقبول خبریں