ایرانی عوام ہوشیار باش

ہمیں ایرانی مہنگائی اور ایرانی غریب اور امیر کے درمیان فرق کا اندازہ یقینا نہیں ہے


Zaheer Akhter Bedari January 12, 2018
[email protected]

جس طرح دنیا کی ہر برائی میں سرمایہ دارانہ نظام کا ہاتھ ملتا ہے، اسی طرح دنیا کے ہر سیاسی انتشار میں امریکا کا ہاتھ ہونا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ آج کل ایران مظاہروں اور احتجاج کی زد میں ہے اس احتجاج اور مظاہروں کی سنگینی کا اندازہ ان المناک حقائق سے کیا جاسکتا ہے جن کے مطابق اب تک چودہ افراد ہلاک اور بے شمار زخمی ہوچکے ہیں۔

مظاہرین پولیس اسٹیشنوں اور فوجی اڈوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں اور احتجاج کی وجہ مہنگائی اور غریب اور امیر کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بتائی جا رہی ہے۔ ایران کا حکمران طبقہ احتجاجی عوام سے اپیل کر رہا ہے کہ پرامن احتجاج ان کا حق ہے لیکن تشدد اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ حکمران طبقات کی وارننگ زدہ اپیل ہے جو ہر عوامی احتجاج کے موقع پر حکمرانوں کی طرف سے کی جاتی ہے۔

ایران عرصہ دراز سے ایک پرامن ملک کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے چونکہ ایران مذہبی حوالے سے ایک ہی فقہ کے ماننے والوں کا ملک ہے لہٰذا ایران کے عوام میں مذہبی انتشار کی جگہ مذہبی یکجہتی ایک مضبوط فیکٹر کی حیثیت سے ایرانی معاشرے میں موجود ہے۔

ایران کو ہمیشہ امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ سیاست کا سامنا رہا ہے لیکن عوام کی طاقت کے ذریعے امریکا اور اس کے لے پالک اسرائیل کی جارحانہ سیاست کو ناکام بنایا جاتا رہا۔ عوام کے درمیان یکجہتی سامراجی ملکوں کو ہمیشہ خوفزدہ کرتی رہتی ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی سر پیر کا زور لگاتے رہے لیکن ایرانی حکومت ان سامراجی حربوں کا ہمیشہ کامیابی سے مقابلہ کرتی رہی۔ یہی عوامی طاقت امریکا اور اسرائیل کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی ہے۔

ہمیں نہیں معلوم کہ ایران میں مہنگائی پاکستان سے زیادہ ہے یا کم، ہمیں نہیں معلوم کہ ایران میں غریب اور امیر کے درمیان فرق پاکستان سے زیادہ ہے یا کم لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی اور امیر اور غریب کے درمیان فرق عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے لیکن مہنگائی جب حد سے بڑھ جاتی ہے اور غریب اور امیر کے درمیان فرق حد سے بڑھ جاتا ہے تو عوامی بے چینی عوامی بغاوت میں بدل جاتی ہے۔

ہمیں ایرانی مہنگائی اور ایرانی غریب اور امیر کے درمیان فرق کا اندازہ یقینا نہیں ہے۔ لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ عوام ان مسائل کی وجہ مشتعل ہیں اور سڑکوں پر آرہے ہیں۔ ایران میں پاکستان کی طرح سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کی نہ بھرمار نظر آتی ہے نہ پاکستانی حکمرانوں کی طرح اربوں کی لوٹ مار کی خبریں ہماری نظروں سے گزری ہیں۔

بلاشبہ ایران میں سیاستدانوں اور سیاسی رہنماؤں کی پاکستان کی طرح بھرمار نظر نہیں آتی نہ اپوزیشن کی وہ رنگا رنگی نظر آتی ہے جو پاکستان میں دیکھی جاسکتی ہے اس کے باوجود ایران جس پرتشدد احتجاج کی زد میں ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام حالات سے سخت مشتعل ہیں پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور کرپشن کی زد میں ہے مہنگائی کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جاسکتا ہے کہ عوام کے روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ دو سو روپے کلو ٹماٹر اور دیگر سبزیاں سو روپے کلو تک پہنچ گئی ہیں۔

غریب اور امیر کے درمیان فرق کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی اشرافیہ اربوں کی دولت اور جائیداد پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے اور پاکستان کا غریب طبقہ نان جویں سے محتاج ہے بلکہ بھوک اور غربت کے مارے عوام انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں۔

اس خوفناک مہنگائی بے لگام کرپشن اور زمین اور آسمان کے معاشی فرق کے باوجود پاکستان کے عوام صبر و رضا کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران میں پاکستان سے زیادہ بدتر حالات ہیں؟ عوامی تحریکوں کی قیادت سیاسی رہنما کرتے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ ایران میں عوامی تحریک کی قیادت سیاسی رہنما کر رہے ہیں یا نہیں۔ البتہ اخباری خبروں کے مطابق ایران کی نوبل انعام یافتہ وکیل شیریں عبادی کہہ رہی ہیں کہ ''ملک میں جاری بدامنی ایک بڑی تحریک کا نکتہ آغاز ہے اور یہ تحریک 2009ء میں ہونے والے احتجاج سے بھی زیادہ دوررس نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔''

حکمرانوں کی نااہلیوں اور بداعمالیوں کے خلاف احتجاج ہر جمہوری ملک کے عوام کا حق ہوتا ہے لیکن اس حق کو بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران ایک طویل عرصے سے امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کی زد میں ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امریکا نواز حکمرانوں کے مقابلے میں ایران ہمیشہ امریکا اور اس کے حواریوں کا سختی سے مقابلہ کرتا آیا ہے ایٹمی مسئلے پر امریکا نے ایران پر نہ صرف بدترین اقتصادی پابندیاں لگائیں بلکہ اسے اپنا تیل بیچنے سے بھی روک دیا گیا۔

اسرائیل اس خطے میں ایران کو اپنا بدترین دشمن قرار دیتا ہے اور امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اس خطے میں امریکی مفادات کو کسی ملک سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے تو وہ ملک ایران ہے یوں ایران امریکا کے صف اول کے دشمنوں میں شامل ہے۔

ان بدترین حقائق کا ذکر ہم نے اس لیے کیا ہے کہ سامراجی ملک اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کی خاطر اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال کر متاثرہ ملکوں کی بدنظمی اور سیاسی تحریکوں کی آگ پر ڈالر کا پٹرول چھڑک کر ''دشمن ملک'' میں نراج کی کیفیت پیدا کردیتے ہیں۔

اس حوالے سے خود ہمارے تجربات بڑے تلخ ہیں۔ 1977ء میں جب پنجاب کی چند سیٹوں پر دھاندلی کے الزام میں 9ستاروں نے بھٹو کے خلاف تحریک شروع کی تو امریکا اس تحریک میں ڈالروں کے ڈھیروں کے ساتھ شامل ہوا۔ اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ بھٹو نے ایٹمی پروگرام کو ترک کرنے کے امریکی حکم کو ماننے سے انکار کردیا تھا اس جرأت پر امریکا کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ ہم بھٹو کو نشان عبرت بنا دیں گے۔

امریکا افغانستان سے روس کو نکالنے کے لیے اپنی فوجیں نہیں لایا تھا بلکہ ضیا الحق کے پیداکردہ طالبان کو استعمال کیا تھا۔ 1977ء کی تحریک میں بھی امریکا اپنے ڈالروں کے ذخائر کے ساتھ بھٹو مخالف تحریک پر پٹرول چھڑکتا رہا۔

یہ حوالہ اس لیے دینا پڑ رہا ہے کہ ایران صرف امریکا ہی کا حریف نہیں بلکہ اسرائیل کا بھی بدترین دشمن ہے ایرانی عوام اگر مہنگائی اور غربت کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن ایرانی عوام کو اس بات کا سختی سے خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی تحریک کو دنیا بھرکے عوام کے دشمن امریکا اور اسرائیل ہائی جیک نہ کرلیں۔ اگر ایسا ہوا تو ایران کی حالیہ تحریک کا انجام بھی 1977ء کی پاکستانی تحریک سے مختلف نہیں ہوسکتا۔

مقبول خبریں