ٹاک شوز کے نئے مہمان

سیاست دنیا کا اولین مسئلہ بنی ہوئی ہے اس لیے سیاست ہمارے ٹاک شوز کا بھی مرکزی مسئلہ بنی ہوئی ہے


Zaheer Akhter Bedari April 19, 2018
[email protected]

PESHAWAR: الیکٹرانک میڈیا جہاں سیکنڈوں میں دنیا کے ایک سرے کی خبریں دنیا کے دوسرے سرے تک پہنچاتا ہے وہیں ملکوں کے اندر چپے چپے تک اس کی رسائی ہے ۔ ٹی وی میں ٹاک شوز ایک ایسا پروگرام ہے جسے ہم مقبول ترین پروگرام اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ اس پروگرام میں ملک کے اندر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ ہی نہیں کیا جاتا بلکہ دنیا بھر میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کیا ہو رہا ہے اس کا پتا منٹوں میں چل جاتا ہے۔

چونکہ سیاست دنیا کا اولین مسئلہ بنی ہوئی ہے اس لیے سیاست ہمارے ٹاک شوز کا بھی مرکزی مسئلہ بنی ہوئی ہے لیکن ہماری سیاست چونکہ چند خاندانوں کے گرد گھوم رہی ہے اس لیے ہمارے ٹاک شوز کا دائرہ کار بھی چند خاندانوں تک محدود ہے ان کے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے سے لے کر کھانسی بخار تک کی کوریج کی جاتی ہے اس شاہانہ کلچر کی وجہ سے عوام سوائے چند چہروں اور ان کے حوالے سے بننے والی خبروں تک ہی محدود ہوتے ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت کے مرکزی رہنماؤں کے ترجمان ٹی وی کے ٹاک شوز کے محترم مہمان ہوتے ہیں چونکہ ہماری جمہوریت بھی ابھی تک چند اشرافیائی خاندانوں کی اسیر بن کر رہ گئی ہے۔

سو سیاسی پارٹیوں کے نمایندوں کا سارا وقت جمہوری بادشاہوں کی مدح سرائی یا ان کے کرتوتوں کے دفاع میں گزر جاتا ہے ۔ اس پر ظلم یہ ہے کہ ان پارٹیوں کے درمیان اختلافات اب دشمنیوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں لہٰذا ٹاک شوز الزامات اور جوابی الزامات کو عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹاک شوز میں غیر جانبدار اور حالات حاضرہ سے واقف تجزیہ کار بھی ہوتے ہیں لہٰذا مختلف ایشوز پر تجزیے بھی ٹاک شوز میں شامل ہوتے ہیں۔

ہمارے تجزیہ کاروں کی فکری حدود ہماری شاہانہ جمہوریت تک محدود ہوتے ہیں سو اسی دائرے کے اندر رہتے ہوئے تجزیے پیش کیے جاتے ہیں اس دائرے کو توڑنے والے تجزیے عموماً مفقود ہوتے ہیں ۔ ہماری آج کی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ خاندانی حکمرانی کو توڑنا ہے کیونکہ اس خاندانی حکمرانی کے کلچر نے ہمارے ملک میں جمہوریت کی پیش رفت کو روک دیا ہے۔

کوئی تجزیہ کار اس حقیقت پر غور نہیں کرتا کہ جمہوریت میں بالادستی عوام کی ہوتی ہے اسی لیے جمہوریت کو متعارف کرانے والوں نے جمہوریت کی وضاحت اس طرح کی ہے ''عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے'' لیکن ہماری جمہوریت میں نہ عوام کی حکومت ہے نہ عوام کے لیے ہے صرف ہماری جمہوریت کی تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ ہماری جمہوریت عوام کے ذریعے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس میں بھی بے ایمانی دھاندلی مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اس جمہوریت کے جمہوری ڈھانچے کو توڑ کر اسے عوام کی حکومت، عوام کے لیے پر مبنی تجزیے ہمارے ٹاک شوز میں پرہیزی بن کر رہ گئے ہیں۔

ان اہل علم کو ان اہل دانش کو ان فلسفیوں کو ٹاک شوز کے قریب آنے نہیں دیا جاتا یا ان کا داخلہ ٹاک شوز میں ممنوع ہوتا ہے جو ہماری شاہانہ جمہوریت کو اس ملک کے 20 کروڑ عوام کے خلاف سازش سمجھتے ہیں اور اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ شاہانہ جمہوریت کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر نہ حقیقی جمہوریت آ سکتی ہے نہ اسے ہم عوامی جمہوریت کہہ سکتے ہیں۔ کیا یہ مسئلہ ہمارے ٹاک شوز میں زیر بحث رہتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب سے ہمارے ملک کا جمہوری مستقبل وابستہ ہے۔

ہمارے ملک میں ساڑھے چھ کروڑ مزدور رہتے ہیں، ہمارے ملک میں دیہی آبادی کا 60 فیصد حصہ ہاریوں، کسانوں پر مشتمل ہے، ہمارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں وکلا رہتے ہیں، ہمارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں ڈاکٹر رہتے ہیں، ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں اہل علم رہتے ہیں، ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ادیب رہتے ہیں، ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں فنکار رہتے ہیں۔ کیا ان کی نمایندگی ٹاک شوز میں ہوتی ہے؟ کیا کوئی اعلیٰ پائے کا تجزیہ کار اپنے تجزیے میں اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ ٹاک شوز میں کروڑوں افراد کی سرے سے کوئی نمایندگی نہیں ہوتی۔

کوئی دانشور ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا کوئی مفکر ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا ساڑھے چھ کروڑ مزدوروں کے نمایندے ٹاک شوز کے مہمان نہیں ہوتے 10 کروڑ کے لگ بھگ ہاریوں اور کسانوں کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا ہزاروں کی تعداد میں موجود ادیبوں شاعروں کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا۔ لاکھوں وکلا کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا۔ لاکھوں پر مشتمل ڈاکٹروں کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا۔ لاکھوں پر مشتمل اساتذہ کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا، لاکھوں بلکہ کروڑوں پر مشتمل طلبا کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا۔ لاکھوں پر مشتمل فنکاروں کا کوئی نمایندہ ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا۔ ہزاروں پر مشتمل سائنسدانوں کا کوئی رہنما ٹاک شوز کا مہمان نہیں ہوتا۔

ٹاک شوز کی اس کمزوری کا نتیجہ یہ ہے کہ ٹاک شوز اشرافیہ کی تعریف و توصیف کا ذریعہ یا الزام اور جوابی الزام کا فورم بن گئے ہیں۔ ہمارے ملک کو اس وقت سنگین قومی اور بین الاقوامی مسائل کا سامنا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اندرونی اور بیرونی مسائل کا ادراک رکھنے والے آفاقی وژن کے حامل لوگوں کو ٹاک شوز میں لایا جائے تاکہ ان کی اجتماعی رائے سے نہ صرف قومی مسائل کے حل میں مدد ملے بلکہ ہمارا ملک بین الاقوامی سطح پر جن سنگین دشواریوں کا شکار ہے ان سے نکلنے کا کوئی راستہ نکالا جاسکے۔

چند ماہ بعد ملک میں الیکشن ہونے والے ہیں ملک کی فضا میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے سپریم کورٹ کے محترم جج کے گھر پر فائرنگ سے حالات کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اگر صورت حال یہی رہی تو وقت پر الیکشن ہونے کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے اگر ایسا ہوا تو ملک ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے ہمارے ٹاک شوز میں جو تجزیہ کار آتے ہیں وہ بلاشبہ قومی مسائل خاص طور پر سیاسی کشیدگی کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبداری کے ساتھ اپنی آرا کا اظہار نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی تقسیم اتنی شدید ہوگئی ہے کہ غیر جانبدار تجزیہ کاری ایک مشکل امر بن گئی ہے۔

ہمارے عوام ضرورت سے زیادہ سادہ لوح ہیں اگر عوام میں پختہ سیاسی شعور ہوتا تو سیاست دانوں کے لیے انھیں اپنے مفادات میں استعمال کرنا آسان نہ ہوتا عوام کو ایک منظم سازش کے ذریعے سیاسی شعور سے محروم کرکے انھیں مختلف حوالوں سے تقسیم کرکے رکھ دیا گیا ہے اس تمام صورتحال کا ازالہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ٹاک شوز میں غیر جانبدارانہ اور مدبرانہ تجزیے ہوں۔

مقبول خبریں