این ای ڈی یونیورسٹی مالی بحران کے سبب بینکوں کے قرضوں تلے دب گئی

80کروڑ روپے کا ’’کمرشل بینک لون‘‘واجب الاداہے، سالانہ 8کروڑروپے سود کی مدمیں اداکیے جارہے ہیں،ڈاکٹرافضل الحق


Safdar Rizvi April 19, 2013
تنخواہوں میں سالانہ اضافے اورگرانٹ میں کٹوتی کے سبب یونیورسٹی پر80کروڑ روپے کا’’کمرشل بینک لون‘‘واجب الادا ہے. فوٹو: فائل

MONZA: این ای ڈی(نادرشاہ ادلجی دنشاہ) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی بجٹ خسارے کی وجہ سے بدترین مالی بحران کے بعداب نجی بینکوں کے قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔

تنخواہوں میں سالانہ اضافے اورگرانٹ میں کٹوتی کے سبب یونیورسٹی پر80کروڑ روپے کا''کمرشل بینک لون''واجب الادا ہے، جس کے سبب یونیورسٹی کوسالانہ8کروڑروپے کی رقم صرف سود کی مدمیں نجی بینکوں کوادا کرنی پڑرہی ہے، بینکوں کے قرضے اورسود کی ادائیگی کے سبب این ای ڈی یونیورسٹی کو4کروڑ20لاکھ ماہانہ بجٹ خسارے کاسامناہے۔

اس بات کاانکشاف وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرافضل الحق نے کیا، واضح رہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے ماسٹرزپروگرام کی فیسوں میں اضافہ کیاجا چکا ہے تاہم اس اضافے کے باوجودبجٹ خسارہ قابوپانا ناممکن ہوگیاہے اوریونیورسٹی کی تجربہ گاہوں میں سائنسی آلات کی خریداری بھی رک جانے کااندیشہ پیداہوگیا ہے۔



این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے بتایاکہ بجٹ نہ ہونے کے سبب کئی ''رجسٹرڈسپلائر''کوان کے بلوں کی ادائیگی نہیں کی جاسکی جس کے باعث این ای ڈی یونیورسٹی کوتجربہ گاہوں کے لیے آلات کی خریداری سمیت دیگرضروری سازوسامان کی خریداری میں شدید مشکلات درپیش ہیں، انھوں نے بتایاکہ این ای ڈی یونیورسٹی کے ماہانہ اخراجات144ملین روپے ہیں۔

جبکہ فیسوں اورایچ ای سی کی جانب سے حاصل ہونے والی گرانٹ کے بعدماہانہ آمدنی بمشکل 102ملین تک پہنچ پاتی ہے، ہرماہ یونیورسٹی 42ملین روپے کے خسارے سے دوچار رہتی ہے، واضح رہے کہ یونیورسٹی مالی بحران کے سبب ایوننگ پروگرام میں کام کرنے والے جز وقتی ملازمین کودسمبر کے بعدسے تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کرسکی جبکہ دسمبر 2012 تک کی ادائیگی بھی حال ہی میں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں