لیاری یونیورسٹی زیڈ اے بھٹولا کالج کو الحاق دینے کی تیاریاں

تعلیمی ادارے کواس وقت تک الحاق نہیں دےسکتی جب تک یونیورسٹی کے پاس متعلقہ فیکلٹی،متعلقہ پروگرام اوراساتذہ موجود نہ ہوں۔


Staff Reporter August 13, 2012
الحاق دینے کی خلاف ضابطہ کوشش صوبائی محکمہ قانون کے خط کی روشنی میں کی جارہی ہے

شہید بینظیر بھٹو لیاری جنرل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے جامعہ میں کلیہ قانون کی عدم موجودگی میں زیڈ اے بھٹو لا کالج لیاری کو الحاق دینے کی تیاری شروع کردی ہے۔

لیاری لا کالج کو الحاق دینے کی یہ خلاف ضابطہ کوشش صوبائی محکمہ قانون کے ایک خط کی روشنی میں کی جارہی ہے جس میں یونیورسٹی کو زیڈ اے بھٹو لا کالج لیاری کو الحاق دینے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ شہید بے نظیربھٹو لیاری جنرل یونیورسٹی کی جانب سے اس مقصد کیلیے ایڈہاک بنیادوں پر وکلا کی خدمات حاصل کرکے ایک الحاق کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی کسی تعلیمی ادارے کو اس وقت تک الحاق نہیں دے سکتی جب تک یونیورسٹی کے پاس متعلقہ فیکلٹی، متعلقہ پروگرام اور اس فیکلٹی کے اساتذہ موجود نہ ہوں، ''ایکسپریس''کو معلوم ہوا ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو لیاری جنرل یونیورسٹی میں کلیہ قانون اور فیکلٹی اسٹاف موجود نہ ہونے کے سبب بعض وکلا پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جارہی ہے جو اس لا کالج کی الحاق کمیٹی کے طور پرکام کرے گی اور لا کالج کو الحاق دینے کیلیے وہاں کا دورہ کرکے موجودہ اکیڈمک سہولیات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی جس کی بنیاد پر لیاری یونیورسٹی فیکلٹی آف لا نہ ہونے کے باوجود زیڈ اے بھٹو لا کالج لیاری کو الحاق جاری کردیگی، واضح رہے کہ لیاری جنرل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی مطلوبہ تعداد نہ ہونے کے سبب اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے تاحال اسے تسلیم نہیں کیا گیا ہے، دوسری جانب لا کالج کو فیکلٹی کی عدم موجودگی کے باوجود الحاق دیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں