’’نواز شریف ماضی میں پھنس گئے تو مستقبل میں نہیں جا سکیں گے‘‘

پی پی مزیدغلطیاں نہ کرے، پی ٹی آئی قابل عمل منصوبے بنائے،سندھ ووٹ مل سکتے ہیں


Monitoring Desk May 18, 2013
ایم کیوایم کونئے تلخ نتائج کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا، ’’لائیو ودطلعت‘‘ میں تجزیے فوٹو : فائل

الیکشن 2013 گزر گیا لیکن تمام سیاسی جماعتوں کیلیے ابھی چیلنجز باقی ہیں، مسلم لیگ(ن) کی خواہش تو پوری ہو گئی لیکن اس کیساتھ ذمے داریوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے، بہت سے کام ہیں جو کرنے ہیں اور اتنے ہی کام ہیں جو نہیں کرنیوالے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں میزبان طلعت حسین نے الیکشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کے سامنے سب سے بڑا چیلنج قومی ضرورت اور سیاست کو اکٹھے رکھنا ہے، نوازشریف کو کسی کی ضرورت تو نہیں مگر ان کودل بڑا رکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام کیلیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیساتھ لوڈشیڈنگ میں فوری کمی ناگزیر ہے، عوام کو قرضے دینے سے معاملات ٹھیک نہیں ہونگے۔

وزارت خارجہ پر فوکس رکھنے سے بیرونی سرمایہ کاری میں بہتری آئیگی، کوئی لمبا چوڑا ایجنڈہ نہیں ہے لیکن اگر نواز شریف ماضی میں پھنس گئے تو پھر مستقبل میں نہیں جا سکیں گے، جنرل مشرف کیساتھ انصاف ہونا چاہیے مگر اس میں انتقام کی بو نہیں آنی چاہیے۔



پالیسیوں کو پروجیکٹ نہ سمجھیں، دانش اسکول،لیپ ٹاپ ،موٹروے یہ پالیسیاں نہیں پروجیکٹس ہیں، ووٹ بھی عوام کے ہیں اور نوٹ بھی عوام کے، اگر عوام کے پیسے سے عوام کیلیے کام کرینگے تو کوئی احسان نہیں کرینگے۔ ن لیگ کو پارٹی سے اپنے خاندان کا لیبل بھی ہٹانا ہو گا۔ تحریک انصاف کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنا ووٹ بینک پیداکیا جس میں مزید اضافہ بلدیاتی نظام میں بہتر پرفارمنس کیساتھ ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کیلیے کے پی کے میں حکومت بنانا چیلنج ہے اور اس کیساتھ نئے ووٹر کی سیاسی تربیت کرنا ہو گی۔

اندرون سندھ میں پی ٹی آئی کی بہت گنجائش ہے عوام نے پی ٹی آئی کو بہت ووٹ دیے ہیں، حکومت بناتے وقت انکو وہ منصوبے بنانے چاہئیں جن پر عمل ہوسکے۔ اگر90 دن میں کرپشن ختم نہیں ہوسکتی یا نیٹو سپلائی نہیں رک سکتی تو پہلے بتا دیں، پہلے تولیں پھر بولیں۔ پیپلزپارٹی اپنی غلطیوں کا ازسرنوجائزہ لے اور آنیوالے دنوں میں مزید غلطیاں نہ کرے۔ ایم کیوایم کو اپنی کارکردگی اور نئے تلخ نتائج کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا، کراچی میں مینڈیٹ اور زمینی حقائق کافی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں، اے این پی کی قربانیاں بہت ہیں عوام بھی مانتے ہیں لیکن جب وہ قربانیاں دیکھتے ہیں تو یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حکمراں امیر اور عوام غریب ہوتے جا رہے ہیں ۔

مقبول خبریں