دہشت گردی کیخلاف اے پی سی آج ہوگی ن لیگ کا ہتھیار ڈالنے والے طالبان کو معافی دینے پر غور

حکومتی پیشکش نہ ماننے پرسخت کارروائی کی جائے گی،کل جماعتی کانفرنس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بریفنگ دینگے


Monitoring Desk/Numaindgan Express September 09, 2013
حکومتی پیشکش نہ ماننے پرسخت کارروائی کی جائے گی،کل جماعتی کانفرنس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بریفنگ دینگے. فوٹو: آئی این پی

ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلیے متفقہ قومی پالیسی تشکیل دینے اورلائحہ عمل طے کرنے کیلیے وفاقی حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیزکانفرنس آج 11 بجے وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں ہوگی۔

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی اورڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنینٹ جنرل ظہیرالاسلام بریفنگ دیںگے،انتظامات کوآخری شکل دیدی گئی ہے۔اے پی سی میں اہم پارلیمانی سیاسی جماعتوںکے سربراہوں اورپارلیمانی لیڈروں کو دعوت دی گئی ہے۔پیپلزپارٹی کی جانب سے خورشید شاہ ، تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان اوروزیراعلیٰ پرویزخٹک، جمعیت علمائے اسلام(ف)کی جانب سے مولانافضل الرحمٰن،عبدالغفورحیدری، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے محمود اچکزئی،بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے میرحاصل بزنجو اورڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، قومی وطن پارٹی کی جانب سے آفتاب شیر پائو، ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار جبکہ گورنر خیبرپختونخوا خصوصی مہمان کی حیثیت سے اے پی سی میں شریک ہوں گے، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد اور مسلم لیگ ضیا کے صدر اعجاز الحق کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔

آل پارٹیز کانفرنس کے سلسلے میں اتوار کو وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اہم اجلاس جاتی امرہ میں ان کی رہائش گاہ پر ہوا ، ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگر طالبان حکومت کی درخواست پر مذاکرات کے ذریعے ہتھیارپھینک دیتے ہیں توانھیں عام معافی بھی دی جاسکتی ہے تاہم اگرطالبان ایسا نہیں کرتے تو حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلیے سخت کارروائی کرے گی،حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔ اے پی سی میں وفاقی کابینہ کے ارکان،چاروں وزرائے اعلیٰ،گورنر صاحبان، ڈی جی انٹلیجنس بیورو، ڈی جی رینجرز اور سیکریٹری داخلہ بھی شریک ہوں گے، کانفرنس کے دو سیشن ہوں گے، پہلے سیشن کے بعد کھانے کا وقفہ ہوگا جبکہ دوسرے سیشن میں پارٹی سربراہوں اور رہنمائوں کو اظہار خیال کا موقع دیا جائے گا، کانفرنس کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک دوسرے پرتنقیداورماضی کے غیرضروری قصوں سے اجتناب کی درخواست کی جائے گی۔



آئی این پی نے بتایاکہ آج کی کانفرنس کے شرکاسے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی طے کرنے کیلیے تجاویز بھی لی جائیں گی جس کے بعداعلامیہ مشترکہ قرارداد کی صورت میں آئے گا۔ وزیراعظم نوازشریف اختتامی خطاب میں اس کااعلان کریںگے،تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے مشاورت کے بعدمتفقہ سیکیورٹی پلان تیار کیاجائیگا،کراچی کی صورتحال کے علاوہ طالبان سے مذاکرات کامعاملہ بھی زیرغور لایاجائے گاجبکہ کانفرنس کے اختتام پرقومی سلامتی پالیسی سے متعلق اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔کل جماعتی کانفرنس ان کیمرہ ہوگی اورمیڈیاکوکوریج کی اجازت نہیں دی جائیگی۔حکومت کی ہدایت پر آل پارٹیزکانفرنس کیلیے خفیہ اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کی مجموعی صورتحال اورکراچی پرالگ الگ بریفنگ دیں گے۔سوال وجواب کا سیشن بھی ہوگا،کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کامینڈیٹ بھی دیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کے مطالبے پر اے پی سی سے قبل ان کی عسکری قیادت سے ملاقات کاامکان ہے۔دوسری طرف حکومت نے پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینزکے احتجاج کے بعدپارٹی کے صدرامین فہیم کوبھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیدی ہے۔ چوہدری نثار نے اتوارکوفون پر رابطہ کرکے امین فہیم کو دعوت دی اورکہاکہ میں نے اس سے قبل بھی آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔بتایاگیاہے کہ حکومت نے کانفرنس میں شرکت کیلیے پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے سربراہوں کودعوت دی لیکن پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینزکے صدر امین فہیم کو نہ بلایاگیا جس پر پارٹی نے شدید احتجاج کیا۔خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت نے تحفظات دورکردیے ہیں،پیپلزپارٹی اے پی سی میں شرکت کرے گی،کراچی کے حالات کی بہتری کیلیے تمام جماعتوں کوایک ہوناپڑے گا،کراچی کے تمام علاقوں میں آپریشن ہوناچاہیے۔

مقبول خبریں