اندرون سندھ سے آنے والا ایک لاکھ لیٹرغیرمعیاری دودھ ضبط

اوّلین ترجیح خوردنی اشیا کے معیار کو برقرار رکھنا ہے،کھلا خوردنی تیل صحت کے لیے انتہائی مضر ہے


Staff Reporter February 07, 2020
سیکڑوں ٹن ناقص کھلا تیل بازاروں میں دستیاب ہے ، کارروائی کریں گے ، (فوٹو: فائل)

سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل امجد علی لغاری نے کہاہے کہ اندرون سندھ سے کراچی آنے والا ایک لاکھ لیٹرغیر معیاری دودھ ضبط کیاجاچکا ہے۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل امجد علی لغاری کے مطابق کھلے خوردنی تیل کی فروخت غیرقانونی قراردی جاچکی ہے، جس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی۔ جب کہ اندرون سندھ سے کراچی آنے والا ایک لاکھ لیٹرغیر معیاری دودھ ضبط کیاجاچکا ہے۔ رینجرز کی مدد سے ہائی وے پرچیک پوسٹ قائم کی جائیں گی۔

یہ بات انھوں نے جمعرات کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی، انھوں نے کہاکہ پورے ملک کے لیے یکساں اسٹینڈرائزیشن پر عمل پیرا ہیں، سائنٹیفک پینل میں صنعت کاروں کو نمائندگی دی جائے گی اس کے لیے کاٹی کو بھی اپنا فوکل پرسن مقررکرنے کی دعوت دیتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہماری اوّلین ترجیح خوردنی اشیا کے معیار کو برقرار رکھنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم بزنس کی اہمیت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں اس لیے اتھارٹی کی کارروائیوں کو مشتہر نہیں کیا جاتا۔

قبل ازیں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے اس کی مدد سے صحت عامہ کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی،کھلا خوردنی تیل صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور تاحال اس کی فروخت جاری ہے، انھوں نے کہا کہ سینکڑوں ٹن ناقص کھلا تیل بازاروں میں عام دستیاب ہے، اس کے خلاف فوری اور سخت کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے۔

اتھارٹی خوراک کے معیار کی بہتری کے لیے جو قدم اٹھائے گی اس کا ساتھ دیں گے تاہم اچھی ساکھ رکھنے والے صنعت کاروں اور بزنس مین اور جعل سازوں کے مابین امتیاز برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مثبت طریقے سے کام ہوگا تب ہی بہتری آئے گی اس لیے اتھارٹی کے حکام کا صنعت کاروں کے ساتھ رویہ بھی مثبت ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملکی اداروں کو جتنا مضبوط کریں گے ہمارا ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔ عمر قاسم عمرسن نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان ملک میں سیاحت کے فروغ پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں اس کے لیے ہوٹل، ریستورانوں اور فوڈ انڈسٹری میں معیارات کا نفاذ انتہائی ضروری ہے تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو کھانے پینے کی اشیا سے متعلق شکایات پیدا نہ ہوں۔

مقبول خبریں