دہشت گردی کی بیماری ختم کر دینگے وزیر اعظم عسکری و سیاسی قیادت کی طالبان سے مذاکرات پر مشاورت

پاک افغان سرحدپردہشتگردوں کی نقل وحرکت روکنے پرغور،شورش زدہ علاقوں میں پولیو ورکرزکے تحفظ کو یقینی بنائیں گے،نواز شریف


Numaindgan Express December 20, 2013
اسلام آباد:وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہورہا ہے، آرمی چیف ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف شریک ہیں ۔ فوٹو : اے پی پی

KARACHI: کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کی فالو اپ میٹنگ جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت یہاں وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی جس میں دو روز قبل ہونے والے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی راہ پر چلنے والوں کی کراس باڈر نقل و حرکت روکنے کیلیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے طالبان قیادت سے مذاکرات کے حوالے سے بالواسطہ رابطوں کے امکانات اور پیش رفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ چونکہ طالبان قیادت مجموعی طور پر انتشار اور بے یقینی کی صورتحال کا شکار ہے اس لیے وہ حکومت پاکستان کے رابطہ کاروں سے رابطے بحال کرنے میں بے اعتمادی اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ تفصیلی بحث کے دوران اجلاس کے شرکا میں اس بات پر عمومی اتفاق پایا گیا کہ موجودہ صورتحال میں طالبان قیادت سے مذاکرات کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اس کے باوجود حکومت طاقت کا استعمال کرنے سے پہلے اپنی آخری سنجیدہ کوشش ضرور کرے گی۔ اجلاس میں ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے پولیو کے قطرے پلانے وال ورکرز پر ہونے والے حالیہ حملوں کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام حساس اداروں کو شرپسندوں کے قلع قمع کرنے کیلیے انٹیلی جنس شیئرنگ کو فوری اور یقینی بنانا چاہئے۔

اجلاس میں وزیر داخلہ، مشیر خارجہ، وزیر خزانہ، وزیر اطلاعات معاون خصوصی برائے خارجہ، سیکریٹری خارجہ، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی نے بھی شرکت کی۔ آپریشن کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کمیٹی کا ایک مزید اجلاس یکم جنوری سے پہلے ہو گا۔ آن لائن کے مطابق اجلاس میں طالبان کی جانب سے مذاکرات کی حکومتی پیشکش مسترد کئے جانے اور کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پرعملدرآمد، پاک افغان سرحد پرسیکیورٹی اقدامات کوفوری طورپربڑھانے کے امور پر غور کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی پالیسی کے مسودے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ طالبان سے مذاکرات کی پالیسی کو آگے بڑھایا جائے تاہم یہ پالیسی محدود وقت کیلیے ہو گی اور اگر مذاکرات کے حوالہ سے کوئی پیشرفت نہیں ہوتی تو دیگر آپشنز پرغور کیا جائے گا۔ وقائع نگار خصوصی کے مطابق وزیراعظم نوازشریف سے جمعرات کو وزیر اعظم ہاؤس میں بِل اور ملنڈا گیٹ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر کرس ایلیئس نے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور وہ شورش زدہ علاقوں میں بلاخوف و خطر پولیو مہم جاری رکھتے ہوئے پولیو مہم میں شامل عملے کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔



وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی بھی ایک بیماری ہے اگر اس بیماری کو ختم کر دیا گیا تو تمام بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان سے دہشت گردی کی بیماری کو ختم کر دیں گے۔ حکومت بِل اینڈ ملنڈا گیٹ فاؤنڈیشن کے تجربات سے پورا فائدہ اٹھائے گی تاکہ پولیو کا خاتمہ کیا جا سکے اور بچوں میں ہونے والی اموات پر قابو پایا جا سکے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے بل اور میلنڈا گیٹ فاونڈیشن کو سراہا اور پاکستان کے لوگوں کی طرف سے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ بِل اینڈ میلنڈا گیٹ فاؤنڈیشن کے وفد کی فاٹا اور کراچی میں پولیو کے کیسز پر خدشات کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم شورش زدہ علاقوں میں پولیو مہم کے کارکنوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر کرس ایلیئس نے اس موقع پر بچوں کی صحت کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ ادھر ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے وزیر اعظم وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے اجلاس میں ایران کی شرکت فورم پرمشترکہ اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی عکاس ہے۔ پاکستان، ایران اور ترکی ڈی ایٹ کے اہم ممالک ہونے کے ناطے اپنے عوام کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے مقاصد کے حصول کیلیے مزید فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے ایران اورپی فائیوپلس ون کے درمیان ایٹمی معاہدے پرایران کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان علاقے میں امن اوراستحکام کیلیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم افغانستان،بھارت اورایران سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خود مختاری اور علاقائی سلامتی کیلئے باہمی احترام کے بنیادی اصول پر دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ جاویدظریف نے کہاکہ پاکستان کی جمہوری قیادت کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کاتہیہ کررکھاہے۔

ہم دوطرفہ تعاون کومزیدمضبوط بنائیں گے۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم نواز شریف کو ایران کے صدر کی طرف سے اپنے ملک کے دورہ کی دعوت دی جو وزیراعظم نے قبول کر لی۔ خبرایجنسیوں کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف سے ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو نے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خطے کی صورتحال اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ ترکی کے ساتھ تجارت کا حجم دگنا کرنے کیلیے تمام ترکوششیں بروکار لائی جائیں گی۔ ترکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کو بین الاقوامی تعلقات میں ہر ممکن حمایت فراہم کریں گے۔

مقبول خبریں