سندھ میں نیب زدہ افسران کی عہدوں پر بحالی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

کئی افسران کو بحال اور کئی کو برطرف کردیا گیا، سیکریٹری سروسز


کورٹ رپورٹر December 21, 2020
کئی افسران کو بحال اور کئی کو برطرف کردیا گیا، سیکریٹری سروسز

سندھ ہائیکورٹ نے نیب زدہ افسران کی عہدوں پر بحالی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عدنان الکریم پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو نیب زدہ افسران کی عہدوں پر بحالی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ چیف سیکریٹری نے نیب زدہ افسران سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔ عدالت نے استفسار کیا پلی بارگین اور رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے افسران کتنے ہیں؟، جن پر کرپشن کیسز ہیں اور وہ سرکاری عہدے پر براجمان ہیں ان کی فہرست دیں۔

سیکریٹری سروز نے بتایا کہ ہم نے ایسے افسران کی فہرست جمع کرائی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کریمنل کیسز کا سامنا کرنے والوں کو کیس کے دوران معطل کیوں نہیں کیا جاتا؟۔ سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ رضاکارانہ رقم واپس کرنے والے افسران کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔

جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ نے تو کہا تھا ایسے افسران عہدوں پر نہیں رہ سکتے۔ آپ نے 4 سال میں کیا کام کیا؟ سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ ایسے افسران کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی کی گئی۔ کئی افسران کو بحال کردیا گیا کئی افسران کو برطرف کردیا گیا۔

جسٹس عدنان الکریم نے ریمارکس دیئے کرپشن کا اعتراف کرکے رقم واپس کرنے والے افسران کو عہدوں پر کیسے بحال کردیا گیا؟۔ سیکریٹری سروسز نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے پابند کیا تھا 25 لاکھ روپے سے کم کرپشن کے افسران کو زیادہ سے زیادہ سزا نہ دی جائے۔

ایم کیو ایم کے وکیل نے موقف دیا کہ 25 لاکھ روپے سے زائد کرپشن کے کئی افسران اب بھی عہدوں پر ہیں۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیئے ہم سپریم کورٹ کے پرانے احکامات کی روشنی میں حکم جاری کریں گے۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

مقبول خبریں