پولیس مکان پر قبضے کیلیے اغوا کیے گئے لڑکے کو بازیاب نہ کراسکی

ماں نے تفتیش دوسرے تھانے منتقل کرنے کی درخواست دیدی،محلے والے مکان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے نہ بیچنے پربیٹے کواغواکرلیا


کورٹ رپورٹر January 12, 2021
6 ماہ سے بیٹااغواہے،اغواکاروں کے نام دیے پولیس نے کچھ نہ کیا،والدہ،مقدمہ بند کر دیا، تفتیشی افسر، پیشرفت رپورٹ طلب ۔(فوٹو، فائل)

پولیس کے روایتی ناقص تفتیشی طریقہ کار کے باعث 13 سالہ بیٹے کی بازیابی کے لیے ماں درددر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی۔

سندھ ہائیکورٹ نے تفتیش ایک تھانے سے دوسرے تھانے منتقل کرانے کی درخواست پر تفتیشی افسر سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی، ہائیکورٹ میں 13 سالہ بیٹے کی بازیابی سے متعلق تفتیش ایک تھانے سے دوسرے تھانے منتقل کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

بچے کی بازیابی کے مقدمے میں تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوا، درخواست گزار والدہ نے بتایا کہ تھانہ پاکستان بازار میں تفتیش ٹھیک نہیں ہو رہی، ملزمان کے نام دیے مگر پولیس کچھ نہیں کررہی، میرا بیٹا محمد اسد 24 جون 2020 کو اغوا ہوا، محلے کے لوگ میرے گھر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، گھر بیچنے سے انکار پر محلے داروں نے بیٹے کو اغوا کرلیا، 6 ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں، بیٹے کا کچھ پتہ نہیں۔

تفتیشی افسر انسپکٹر جاوید نے بتایا کہ میں اس کیس کا تیسرا تفتیشی افسر ہوں، بچے کا کچھ پتہ نہیں چلا، ملزمان کی عدم شناخت پر مقدمہ اے کلاس کردیا ، عدالت نے تفتیشی افسر سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

مقبول خبریں