زرعی شعبہ اور مہنگائی

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ مہنگائی سیلابی ریلے کی طرح نچلے اور درمیانے طبقے کو بہا کر لے جا رہی ہے۔


Editorial October 22, 2021
ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ مہنگائی سیلابی ریلے کی طرح نچلے اور درمیانے طبقے کو بہا کر لے جا رہی ہے۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مہنگائی کم کرنے سے متعلق اجلاس میں کم آمدنی والے افراد کو مہنگائی سے بچانے کے لیے احساس ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت بنیادی اشیاء کی خریداری پر رعایت ملے گی۔

وزیراعظم نے اجلاس میں کم آمدنی والوں کے لیے پٹرول پر سبسڈی دینے کا پلان بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ موٹر سائیکل ، رکشہ اور عوامی سواری کو سبسڈی پر پٹرول دینے کا پلان پیش کریں۔

دوسری جانب پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے چھٹے اقتصادی جائزے پر مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جب کہ معروف بین الاقوامی جریدے '' دی اکانومسٹ'' کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے 43ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے ، پاکستان میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 9 فی صد رہی ۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ مہنگائی سیلابی ریلے کی طرح نچلے اور درمیانے طبقے کو بہا کر لے جا رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ملک میں تیزی سے مڈل کلاس ختم ہورہی ہے جب کہ غربت کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔امراء کی دولت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

حکمرانوں کے لیے یہ حقائق باعث تشویش ہونا چاہیں کیونکہ پاکستان میں مہنگائی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور طبقاتی توازن ٹوٹنے کاخطرہ شدید ہوگیا ہے۔ مڈل اور لوئر مڈل کلاس سکڑ رہی ہے جب کہ غربت کی لائن پر موجود طبقہ اس لائن سے نیچے چلا گیا ہے۔

مہنگائی کی دُہائی صرف معاشی ماہرین یا عوام ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ اب حزب اختلاف کی جماعتیں بھی مہنگائی کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑا کرنے جا رہی ہیں اور انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف مہنگائی کے مسئلہ کو لے کر بھرپور احتجاج کیا جائے اور اس احتجاج کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے ۔

معاشی ماہرین طنز کرر ہے ہیںکہ ہمارے وزیر خزانہ اس ادارے کے پاس گئے ہیں جس کے بارے میں حکمران جماعت کے اکابرین بھی کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں معاشی بحران دراصل آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کئی شعبوں اور اشیاء پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی۔

اب کہا جارہا ہے کہ حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی دے گی، مگر کیا ایسا ممکن ہوسکے گا، کیونکہ آئی ایم ایف تو سبسڈی دینے سے منع کرتا ہے، بہرحال حکومت کم آمدنی والے طبقے کے افراد کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیتی ہے اور شفاف نظام بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ ایک اچھی پیش رفت ہوسکتی ہے۔

اکنامک منیجرز اور حکومت کو یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ گزشتہ تین سال میں کورونا وباء کی وجہ سے بعض درمیانے درجے کے کاروبار کو سخت دھجکا لگا ہے۔لاک ڈاؤن اور کورونا ایس او پیز کی وجہ سے نجی شعبہ ڈاون سائزنگ پر مجبور ہوا جس کی وجہ سے لاکھوں ہنرمند اور غیر ہنر مند ورکرز بے روزگار ہوئے ہیں، سرکاری اداروں کی نجکاری کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، ایسے حالات میں مہنگائی خصوصاً روزمرہ استعمال کی اشیاء کی مہنگائی نے عوام کے کس بل نکال دیے ہیں۔

اشیاء خورونوش اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے مڈل کلاس گھرانوں کے لیے ماہانا بجٹ بنانا مشکل کردیا ہے۔روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہو ئی ہے۔ آٹے،چینی، خوردنی گھی، خوردنی تیل، سبزیاں، گوشت، دودھ، دھی، ادویات اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتو ں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے جب کہ درمیانے اور نچلے طبقے کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہورہاجس کی وجہ ان کی قوت خرید میں کمی آئی ہے۔ انھیں گھر کا کچن چلانے اور بچوں کی اسکولنگ میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک رف اندازے کے تحت کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی آمدنی کے ذرایع انتہائی محدود ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے بھی پاکستانیوں کی فی کس آمدنی کو شدید متاثر کیا ہے۔معاشی تجزیہ کار اور ماہرین عالمی سطح پر آٹے، گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ داخلی سطح پر پرائس کنٹرول کے کمزور نظام اور ڈالر کی قیمت میں ہونے والے مسلسل اضافے کو بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میںپاکستان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے جارہا ہے،بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو حل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ روپے کی قدر کم کی جائے، درآمد کو مہنگے کیے جانے سے درآمدی اشیا کی مانگ کم ہو جائے گی لیکن درآمدی اشیاء اگر خام مال ہو یا انڈسٹریل مشینری ہو تو اس سے صرف نظر کیسے کیا جا سکتا ہے۔

ایسی صورت میں درآمد کردہ اشیاء مہنگی ہوجاتی ہیں جس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ یہ مہنگائی انڈسٹریل گڈز اور خام مال کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں صنعت بند ہونا شروع ہو جاتی ہے جیسے کہ 90 کی دہائی میں ہوا تھا۔ حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو عالمی رجحان قرار دے کر اسے کنٹرول کرنے میں اپنی معاشی حکمت عملی کی کمزوریوں کو چھپا نہیں سکتی۔ گراس روٹ لیول پر دیکھا جائے تو پاکستان میں مہنگائی ناقابل برداشت کی لائن پر کھڑی ہے۔

معاشی ٹیم اب بھی دعویٰ کررہی ہے کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔مشیر خزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی سطح پر کوکنگ آئل کی قیمت میں تقریباًپچاس فیصد کا فرق ہے جب کہ پاکستان نے یہ فرق تقریباً 30 فیصد رکھا ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت خطے میں سب سے کم ہے۔

ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف وزیر اور مشیر اپنے غیرمنطقی اور غیر حقیقی بیانات سے حکومت کا مذاق بنوا رہے ہیں۔میڈیا پر غیر ذمے دارانہ بیانات کی بھرمار ہے جس سے یہ عوام میں احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سرکار کو ان کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

جیسا کہ آج کل بعض وزرا یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمت برطانیہ اور یورپ کی نسبت ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات حقائق پر مشتمل ہو لیکن ہوسکتا ہے کہ یورپ اور خطے کے دوسرے ممالک میں دودھ، دہی، علاج معالجہ،ادویات وغیرہ سستی ہوں، اس لیے کسی دوسرے ملک میں کسی ایک آئٹم کی قیمت کو بنیاد بنا کر پاکستان میں مہنگائی کی شدت کو کم بیان کرنا درست حکمت عملی نہیں ہے۔

مہنگائی کی وجہ سے عوام اور حکومت ایک دوسرے کی مخالف سمت میں آچکے ہیں، حکومت جس بیانیے پر چل رہی ہے ، عوام کا بیانیہ اس کے برعکس ہے ۔ لہٰذا حکومت کو اپنے معاشی اور سیاسی بیانیے میں مثبت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ، ایک ایسا بیانیہ جس حکومت کو عوام کی حمایت مل سکے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت تک مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتا جب تک کہ وہ اپنی زرعی اجناس کی پیداواری صلاحیت کو بہتر نہیں کرتا، اس کے لیے زرعی مداخل کی قیمتوں میں انقلابی کمی، چھوٹے کاشتکار کو منڈی میں آڑھتی اور مڈل مین کی لوٹ مار سے بچانا،کاشتکار جب اپنی فصل شہر کی منڈی میں لے کر آتا ہے تو راستے میں کئی جگہوں پر سرکاری اہلکار اس کی جیب پر حملہ آور ہوتے ہیں، اسے اس راہزنی سے بچانا ضروری ہے۔

جدید انفرااسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے بھاری مقدار میں غذائی اجناس ضایع ہو جاتی ہیں، اس لیے جدید کولڈ اسٹوریج کو بھی انڈسٹری بنایا جائے۔ زرعی پیداوار میںکمی کا ایک سبب پانی کا ضایع ہونا بھی ہے۔ تقریبا آدھا پانی ضایع ہوجاتا ہے تو تمام مسائل پر قابو پانا چاہیے تاکہ ہماری زرعی اجناس کی پیداوار بہتر ہو اس سے مہنگائی کو کم کرنے میں بہت حد تک مدد ملے گی۔

سب سے پہلے تو حکومت کو اجناس اور خوراک کی پیدوار اور مہنگائی سے نمٹنے میں اپنی نااہلی کو تسلیم کرنا ہوگا، حکومت چھوٹے کاشتکار کو بچانے کے لیے قانون سازی کرے تاکہ اس کے حقوق کے نام پر غیرحاضر اور بڑے زمیندار مالی فوائد حاصل نہ کرسکیں۔

لہٰذا زبانی کلامی دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کے ذریعے زرعی شعبے کو ترقی دی جائے، اس طرح پاکستان میں سبز انقلاب آجائے گا، ملک خوارک میں خود کفیل ہوجائے گا، یوں بنیاد ضرورت کی اشیاء کی مہنگائی خود بخود کم ہوتی چلی جائے گی۔

مقبول خبریں