کراچی:
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی میں فشنگ ٹیکنالوجی میوزیم کا افتتاح اور ماہی دوست ایپ کی سافٹ لانچنگ کردی۔
میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ میں "ماہی دوست ایپ" کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیربحری امور جنید انوار چوہدری، چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل شاہد احمد، ڈی جی میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ منصور علی وسان سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اسسٹنٹ ڈائیریکٹر میرین فشریز شفاعت حسین نے ایپ سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ یورپ نے ایسی سی فوڈ پر پابندی لگائی ہے جوعالمی قوانین کی خلاف ورزی سے حاصل ہو، ماہی دوست ایپ پر مچھلیوں کی تعداد، مچھلیوں کی نسل اور کشتیوں سمیت تمام اہم ڈیٹا موجود ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ فشرمین اپنا، کشتی کی رجسٹریشن اور ڈیٹا کا اندراج ایپ پرکریگا، جی پی ایس کے ذریعے مچھلی پکڑنے کے مقام کا تعین با آسانی ہوسکے گا، کس جال سے مچھلی اور کتنی تعداد میں مچھلی پکڑی ہے سب معلومات ایپ پرموجود ہوگی، یہ ایپ یورپ اورامریکہ کی کمپلائیس میں مددگارثابت ہوگی۔
وفاقی وزیر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ دونوں منصوبے سی فوڈ برآمدات میں اہم کردار ادا کریں گے، ماہی دوست ایپ ماہی گیری میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنائے گی۔
وزیر بحری امور نے کہا کہ 2025 میں سمندری مصنوعات کی برآمدات 235 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، بلیو اکانومی پر فوکس کرنا وزیراعظم کا وژن ہے۔
انہوں نے کہا کہ فشنگ ٹیکنالوجی میوزیم تحقیق، تعلیم اور پالیسی سازی کا قومی مرکز ہوگا اور بلیو اکانومی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جدید ٹیکنالوجی پائیدار ماہی گیری کے اہداف کے حصول میں مدد دے گی۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ غیر قانونی اور غیر رپورٹ شدہ ماہی گیری کے خلاف مؤثر نگرانی ممکن ہوگی، ماہی دوست ایپ عالمی ماہی گیری معیارات سے ہم آہنگ ہے، ڈیجیٹل نظام سے سمندری غذائی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے، ماہی گیروں کو عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اقدامات بلیو اکانومی پالیسی اور ایس ڈی جی 14 سے ہم آہنگ ہیں، جدید ٹیکنالوجی نہ اپنائی تو دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔