خطے کی صورتحال اور پاکستان

پاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کے حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا کر رہا ہے نئی کسی الجھن میں پڑنے کے لیے آمادہ نہیں


Editorial October 25, 2021
طالبان کے متعدد دھڑوں میں امریکا کے دوست موجود ہیں فوٹو: فائل

پاکستان نے امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کہ '' افغانستان کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کے لیے امریکا کے ساتھ کوئی مفاہمت ہے '' کی سختی سے تردید کی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ایسے کسی معاہدے پر بات چیت نہیں ہورہی ۔ پاکستان اور امریکا کا علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی پر دیرینہ تعاون ہے اور دونوں فریق اس سلسلے میں باقاعدہ مشاورت میں بھی مصروف عمل رہے ہیں۔ موجودہ بدلتی ہوئی صورت حال میں امریکا کی خواہش ہے کہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش جیسے شدت پسند گروہوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان امریکا کو اپنی فضائی حدود میں رسائی فراہم کرے کیونکہ امریکا کو اِن گروہوں کے خلاف فضائی کارروائی کرنے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کی ضرورت ہے مگر پاکستان کے لیے امریکا کو یہ سہولت فراہم کرنا مشکل ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پاکستان کے لیے کئی نئے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔

پاکستان جو پہلے ہی دہشت گردی کے حوالے سے بہت سے مسائل کا سامنا کر رہا ہے نئی کسی الجھن میں پڑنے کے لیے آمادہ نہیں۔ افغانستان میں امریکی جنگ کے پاکستان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے اور وہ دہشت گردوں کی لسٹ پر آ گیا۔اگر اب ایک بار پھر پاکستان امریکا کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو دہشت گردی کا عفریت جس میں کافی حد تک کمی آ چکی ہے ایک بار پھر تقویت پکڑ سکتا ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔

البتہ پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ امریکا افغانستان کے منجمد اثاثے اور اس کی امداد بحال کر دے تاکہ افغان عوام کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی آسکے۔ پاکستان افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کررہا بلکہ ریجنل اَپروچ کو اِختیار کرتے ہوئے چین، روس، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ پالیسی اپنانے کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے تاکہ خطے میں اِستحکام حاصل ہو سکے جب کہ امریکا کے ساتھ بھی متوازن باہمی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے کیونکہ امریکا جیسے مضبوط معاشی، سیاسی اور فوجی طاقت سے نا ہموار تعلقات بھی اس کے مفاد میں نہیں ہے۔

پاکستان عالمی برادری پر زور دے رہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان حکومت کوتسلیم کرلے تاکہ وہاں امن اور استحکام قائم ہو، مگر مغربی ممالک اس کے لیے تیار نہیں۔ چونکہ پاکستان کی تجارت، امداد اور قرضہ یورپ اور امریکا سے جڑا ہے اس لیے پاکستان کو ان سے بھی خوشگوار تعلقات قائم رکھنے ہیں۔ ادھر امریکی ترجیحات میں اب بھارت سے بہتر تعلقات شامل ہیں، امریکا، چین کے خلاف ایک نئی سرد جنگ کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی چین کے خلاف گھیرا تنگ اور اقتصادی راہداری ''ون بیلٹ ون روڈ'' منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چین نے سرمایہ کاری، تجارت اور سفارتکاری کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں ذرایع آمدو رفت اور اداروں کا ایک ایسا جال بچھا دیا ہے کہ جس میں ہر ایک پالیسی ہر آنے والے منصوبے کو اس طرح تقویت دے کہ پورا خطہ اس کی بانہوں میں سمٹ آئے لیکن ایشیاء پر اپنی معاشی، فوجی اور سیاسی قوت سے بالادستی قائم کرنے کی پالیسی اپنا کر امریکا اس کے لیے کئی مسائل پیدا کر رہا ہے۔

بیجنگ افغانستان کو ''ون بیلٹ ون روڈ ''منصوبے میں شامل کرکے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے لہٰذا اس کے دنیا میں بڑھتے معاشی اور سیاسی اثرورسوخ کو روکنے کے لیے ایک گریٹ گیم جا ری ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالرزکے ترقیاتی منصوبوں کے معاہدوں پر جہاں بعض حلقے اطمینان اور خوشی کا اظہارکر رہے ہیں وہیں بعض ممالک میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔چینی کمپنیوں کی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری سے جدید ٹیکنالوجی منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو خطے میں مزید مستحکم ہونے کے مواقعے میسر آ رہے ہیں۔

پاکستان کی داخلی سلامتی کی بات کی جائے تو افغانستان کی جیلوں سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی رہائی کے بعد سے سابق فاٹا کے علاقوں اور بلوچستان میں دہشت گردی بڑھی ہے۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ طالبان پاکستان میں فوجی و نیم فوجی دستوں، اور چینی افراد اور ان کے مفادات پر حملے کیوں کر رہے ہیں؟ ایسا اس لیے ہے کہ طالبان کی تاریخ سے واقف حال لوگ خوب جانتے ہیں کہ متحارب رہنے کے باوجود کسی مرحلے پر بھی امریکا اور طالبان کے روابط منقطع نہیں رہے۔ طالبان کے متعدد دھڑوں میں امریکا کے دوست موجود ہیں۔

بھارت نے بھی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے لیے چاروں جانب سے کئی دوسرے محاذ کھول رکھے ہیں، اسی مقصد کے تحت خطے میں بدامنی کو ہوا دے کر سابق کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کیاگیا۔ بھارت کے جارحانہ عزائم پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہیں۔

درحقیقت افغانستان میں اپنے مذموم توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے کی گئی خطیر سرمایہ کاری کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر امریکا،بھارت اور اس کے اتحادی اب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں لہٰذا ان کی طرف سے پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ مشترکہ حکمت عملی طے کرنا بعید از قیاس نہیں۔ ملک دشمن عناصر نے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ''ایف اے ٹی ایف''کی بلیک لسٹ میں شامل کرانے کے لیے جو مذموم کوششیںکی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں حالانکہ دنیا اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش کردار ادا کرتے ہوئے80ہزار کے لگ بھگ جانوں اور کروڑوں ڈالرز کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف20برس تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران خراب حالات سے شدید متاثر ہونے کے باوجود امن،مصالحت، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھتے ہوئے پاکستان نے ہی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن مودی اور غنی کے لگائے گئے بے سروپا الزامات سے ''امن عمل'' کوشدید دھچکا لگا جس کا خمیازہ آج خطے کے دیگر ممالک کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔

افغانستان کی سرزمین پر سوویت یونین کے خلاف جب امریکا نے گوریلا جنگ شروع کی تو بڑی تعداد میں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا جس سے جہاں کلاشنکوف کلچر کو فروغ ملا وہیں معیشت پر اضافی بوجھ بھی پڑا لیکن واشنگٹن نے عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سلامتی اور خودمختاری کے معاملے میں ہمارا ساتھ دینے کے بجائے بھارت اور دیگر ملک دشمن عناصر کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ کٹھ پتلی افغان حکومت کی معاونت سے بھارتی دہشت گردوں نے پاکستان میں جو وحشت و دہشت کا بازار گرم کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔

افغانستان میں کچھ بھی ہو اس کے اثرات ہم پر ہی ہوں گے۔ اس حوالے سے دنیا کے لیے پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں ایک مستحکم، پُرامن اور خوش حال افغانستان دیکھنا چاہتا ہے۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ افغان طالبان نے چین کے ''بیلٹ اینڈ روڈ'' تعاون کو افغانستان اور خطے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے سازگار قرار دیا ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان اس میں فعال طور پر شرکت کرے گا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پرلائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت وبربریت اور مسئلہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے ظلم وستم کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا ہے لیکن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کو بھارت نے ہی اپنی ہٹ دھرمی کی باعث ناکام کیا اور ہمیشہ مذاکرات سے فرار کی راہ اختیارکرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو طوالت بخشی ہے، جیساکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہ انسانی تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن گزشتہ دو برس سے جاری ہے ۔

خطے میں قیام امن کے لیے افغانستان کے انسانی بحران سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے اب اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو سنجیدہ بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ افغانستان میں جو حالیہ تبدیلی آئی ہے اس سے خطے میں جہاں امریکی مفادات پر بڑی بھاری زد پڑی ہے وہیں تبدیل شدہ صورتحال میں پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات بھی مزید بڑھ چکے ہیں لہٰذا پاکستان کے پالیسی سازوں کو بہت زیادہ چوکنا رہنے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر اور مربوط حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو مشکل دور کا سامنا ہے۔ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں