راجیوگاندھی قتل کا مجرم 32 سال بعد ضمانت پر رہا
مجرم 30 سے زائد کی سزا کاٹ چکا ہے اس لیے وہ ضمانت کا حقدار ہے،عدالت
NEW DELHI:
بھارت کے سابق کپتان وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم اے جی پیراویلن 32 سال کی سزا کے بعد ضمانت پر رہا ہوگیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی کے قتل کے مجرم اے جی پیراویلن کو ضمانت دے دی ہے، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مجرم 30 سے زائد کی سزا کاٹ چکا ہے اس لیے وہ ضمانت کا حقدار ہے۔
سابق وزیراعظم کے قتل کیس کی سماعت بدھ کے روز ہوئی، جسٹس ایل ناگیشورا رائو اور جسٹس بی آر گاوائی پر مشتمل بینچ نے رہائی کا حکم نامہ جاری کیا۔ اس سے قبل مجرم نے سال 2016 میں خصوصی چھٹی کی درخواست دی تھی۔
مجرم نے مدراس ہائیکورٹ سے استدعا کی تھی کہ سزا کو کم کیا جائے تاہم عدالت نے انکار کردیا تھا۔ بنچ نے ریماکس دئیے کہ پیراویلن اس وقت پیرول پر ہے اور اس سے پہلے انہیں 3 بار پیرول دیا گیا تھا۔
سال 2014 میں سپریم کورٹ نے پیراویلن کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا، ملزم اے جی پیراویلن 1991 میں راجیو گاندھی کے قتل سے متعلق کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے 7 مجرمان میں سے ایک ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی 21 مئی سن 1991 میں تامل ناڈو کے شہر پیرم بدور میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے لیے وہاں پہنچے تھے اور اس خودکش حملے میں ان کے ساتھ دیگر 14 افراد بھی مارے گئے تھے۔
اس قاتلانہ حملے کے لیے تین افراد کو موت جبکہ چار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں عدالت عظمی نے موت کی سزا پانے والوں کی سزا کو بھی عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ اس جرم کے لیے جو افراد گزشتہ تیس برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان میں سے چار سری لنکا کے شہری ہیں۔