بدترین معاشی صورت حال

پاکستان میں معاشی اور سیاسی بحران ابھی تک جاری ہے


Editorial April 22, 2022
فوٹوفائل

پاکستان میں معاشی اور سیاسی بحران ابھی تک جاری ہے۔مرکزی میں تو معاملات سیدھے ہوگئے ہیں، وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے کام شروع کردیا ہے لیکن پنجاب میں تاحال صورتحال واضح نہیں ہے، بہرحال ایک دو روز میں یہاں بھی معاملات درست ہوجائیں گے۔

وفاقی حکومت کو ورثے میں جو مسائل ملے ہیں ، ان میں ملکی معیشت کو بریک ڈاؤں سے بچانا سب سے اہم ہے۔معیشت کی حالت انتہائی خراب ہے اور تشویش کے بادل انتہائی گہرے ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا، اس اجلاس میں جو حقائق سامنے آئے ہیں، ان سے حکومت کی مشکلات اور ملک کی معاشی حالت کا بخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضع کیا ہے کہ معیشت تباہ حال ہے اور ملک کو مفلوک الحالی سے بچانا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ پونے چار برس میں جو کچھ ہوا ہے ، وہ ناقابل یقین ہے۔

انھوں نے اپنی کابینہ ارکان سے کہا کہ آپ نے میری رہنمائی کرنی ہے، یہ کرسی آپ کی ہے، میں آپ کی امانت کا امین ہوں، مجھے مشورے دینے ہیں، چاہے وہ تلخ ہوں۔قوم کو قرضوں کے جال سے نکالنا ہے۔وزیراعظم کی باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کس حد تک پتلی ہوچکی ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاشی اور توانائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، وفاقی کابینہ نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا کو اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دی۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بحٹ کے حوالے سے امید افزاء لہجے میں کہا کہ انشاء اللہ عوام دوست بجٹ دیں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امسال مئی اور جون میں پٹرول سبسڈی کا96 ارب روپے تک کا خرچہ ہے، جو پاکستان کی سویلین حکومت چلانے کے خرچے سے دوگنا ہے،لہٰذا ہم پٹرول پر سبسڈی جاری نہیں رکھ سکتے تاہم انھوں نے وضاحت کی اس پر وزیراعظم کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس سے بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے۔

مفتاح اسماعیل نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان ملک کی معیشت کے لیے بارودی سرنگ نہیں بلکہ ایٹم بم لگاکر گئے ہیں کیونکہ ان کی حکومت نے ڈیزل اور پٹرول پر ٹیکس نہیں لیا، عمران خان نے شہباز شریف کی حکومت کو مشکل میں ڈالا ہے، پٹرول سستا کرنا کوئی مہربانی نہیں ہوتی کیونکہ عوام کے ہی پیسے ہوتے ہیں۔ انھوں نے اعدوشمار کا حوالہ دے کر کہا کہ 52 روپے ڈیزل پر سبسڈی ہے اور 21روپے پٹرول پر ہے، اپریل میں سبسڈی کی مد میں 68 ارب روپے کا خرچہ ہوا ہے جو کل منظور کیا گیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے یوریا اتنی سستی تھی کہ برآمد کرنی کی بات کی گئی پھر اسمگل کردی گئی، وزیراعظم شہباز شریف نے یوریا کی کمی پر تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے، انکوائری کے بعد کمیشن کی رپورٹ اوپن کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ آئی ایم ایف حکام سے ملاقات کرنے کے لیے امریکا روانہ ہوچکے ہیں، وہاں وہ آئی ایم ایف حکام سے پاکستان کی معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کریں ۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ آئی ایم ایف سے پروگرام بحال کرنے کے لیے درمیانی راستہ نکالیں۔

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی بحالی کے لیے فیول سبسڈیز اور ٹیکس ایمنسٹی کی واپسی سمیت پانچ بڑی شرائط عائد کی ہیں۔ ان شرائط میں پٹرول، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، نئے ٹیکسوں کا نفاذ اور مالیاتی بچتیں یقینی بنانا شامل ہے تاکہ 1.3ٹریلین روپے کے بجٹ خسارے میں 25 ارب روپے کی کمی لائی جا سکے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے امریکا روانگی سے قبل سینئر اکنامک جرنلسٹس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا حکومت کا چین سے مالی امداد اور قطر سے مؤخر ادائیگی پر ایل این جی لینے کا بھی منصوبہ ہے۔ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا، ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر اور حکام سے ملاقاتوں میں ان وعدوں میں زیادہ سے زیادہ رعایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جو سابق پی ٹی آئی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے سے کیے تھے۔

وزیر خزانہ نے کہا پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں جا رہا ہے اور وزیراعظم نے پروگرام کی بحالی کی صورت میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان نے ابھی تک آئی ایم ایف کی مذکورہ پانچ شرائط تسلیم نہیں کیںاس حوالے سے آئی ایم ایف حکام سے مذاکرات کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ یہ شرائط 960 ملین ڈالر کی اگلی قسط کے لیے عائد کی گئی ہیں۔

امید ہے کہ آئی ایم ایف بجلی قیمتوں میں فوری اضافے پر زور نہیں دے گا۔ انھوں نے فوری چیلنج زرمبادلہ کے ذخائر کو پائیدار بنانا بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے مزید چار ارب ڈالر کا انتظام کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا ان کی پہلی کوشش یہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر آجائے۔ توقع ہے کہ آئی ایم ایف مان جائے گا اور ہم آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط لینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

امریکا میں سعودی، ترک وزراء خزانہ اور ایشیائی ترقیاتی بینک حکام سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام ٹریک پر لانے کے ساتھ ساتھ پلان بی بھی تیار کررکھا ہے لیکن اس مرحلے پر پلان بی شیئر نہیں کیا جا سکتا۔

چین کی جانب سے 2.4 ارب ڈالر کا قرضہ اگلے چند روز میں رول اوور ہوجائے گا، اسی طرح چین کی جانب سے اسٹیٹ بینک میں رکھوائے جانے والے دو ارب ڈالر کے سیف ڈیپاذٹ بھی رول اور کروالیں گے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب نے پاکستان کو کریڈٹ کی سہوت دے رکھی ہے جو کہ استعمال نہیں ہوپارہی تھی اس کریڈٹ سہولت کو بھی استعمال میں لایا جائے گا۔

میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں سرکاری قرضوں کاحجم 24953 ارب روپے سے بڑھ کر42745 ارب روپے ہو چکا ہے جب کہ مجموعی غیرملکی قرضوں کاحجم 75.4ارب ڈالر سے بڑھ کر102.3 ارب ڈالرہوگیا ہے، تجارتی خسارہ 43 ارب ڈالر کی سطح پرہے ، بے روزگارافرادکی تعداد 35 لاکھ سے بڑھ کر95 لاکھ ہوگئی۔

حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 20 ارب ڈالر اورتجارتی خسارہ 30.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر43 ارب ڈالرکی سطح پر پہنچ گیا ہے، تحریک انصاف کے دور حکومت میں بے روزگارافرادکی تعداد 35 لاکھ سے بڑھ کر95 لاکھ ہوگئی جب کہ خط غربت سے نیچے رہنے والے افراد کی تعداد55 سے بڑھ کر75 ملین کی سطح پرپہنچ گئی ہے۔

معیشت کی یہ صورت حال اور اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ نئی حکومت کے لیے معاشی مسائل پر قابو پانا آسان کام نہیں ہو گا۔ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے روایتی پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ غیر معمولی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ سخت قسم کا مالیاتی ڈسپلن قائم کرنا ہو گا۔ ماضی میں ریاستی عہدے داروں کو جو استحقاقی اور صوابدیدی اختیارات دیے گئے تھے اور جو کسی نہ قسم شکل میں اب تک چلے آ رہے ہیں ۔

اب وقت آ گیا ہے کہ انھیں مکمل طور پر قانون سازی کے ذریعے ختم کر دیا جائے۔ جیسے توشہ خانہ میں موجود تحائف کا معاملہ ہے۔ شہباز شریف حکومت کو ان تحائف کے حوالے سے قانون میں موجود چور دروازے مکمل طور پر بند کر دینے چاہئیں ۔

صدر مملکتاور وزیراعظم کے عہدے ملک کے عوام اور ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انھیں اس ملک کے شہری سے وصول ہونے والے ٹیکسوں کی آمدنی میں سے تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔ ان عہدوں کو جو تحائف ملتے ہیں وہ ریاست اور عوام کی ملکیت ہوتے ہیں۔

صدر 'وزیراعظم یا کوئی اور بڑا عہدے دار انھیں خریدنے 'اپنے پاس رکھنے ' کسی کو گفٹ دینے یا فروخت کرنے کا مجاز نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی معیشت آج جس حال میں ہے اس کی وجہ پہلے سے مراعات یافتہ طبقات کو استحقاق اور صوابدیدی اختیارات کے تحت قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کا اختیار ملنا ہے۔ اگر قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک صرف سربراہان حکومت کو ملنے والے تحائف کی مالیت کا تعین کیا جائے تو وہ اربوں ڈالر تک چلی جائے گی۔ اب پاکستان کو ایک طبقے کے مفادات پورے کرنے کے لیے چلانا بند کرنا ہو گا۔

مقبول خبریں