میاں صاحب کی حسین سیاست
کسی جمہوری منتخب حکمران کے لیے عوام کی نظروں سے ایک دن بھی اوجھل ہونا عجیب لگتا ہے
وزیر اعظم جناب میاں نواز شریف اب رفتہ رفتہ باہر آرہے ہیں، یعنی گھر سے باہر نکل رہے ہیں۔ نئے اقتدار کے آٹھ نو ماہ کے اعتکاف کے بعد اب ایوان اقتدار سے باہر بھی آتے جاتے ہیں۔ کسی جمہوری منتخب حکمران کے لیے عوام کی نظروں سے ایک دن بھی اوجھل ہونا عجیب لگتا ہے۔ کجا کہ اس کی پردہ نشینی پر کئی ماہ گزر جائیں بہر کیف یہ سب رموز مملکت ہیں اور ہم رعایا کے لوگ ان اسرار و رموز سے بے خبر۔ ہمارے پاس صرف خوشامد اور دعا ہے اور وہ ہم کرتے رہتے ہیں۔ میاں صاحب کے ایک معاصر سیاستدان نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور اس کے لیے وقت مانگا لیکن یہ میاں صاحب کی فراخدلی کہ انھوں نے کہا نہیں میں آؤں گا اور سنا ہے کہ وہ کسی روایتی پروٹوکول اور حفاظتی دستوں کے تام جھام کے بغیر ہی اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ خود ہی عمران کے ہاں پہنچ گئے۔ اس شریفانہ رویے سے میاں صاحب کا سیاسی مرتبہ مزید بلند ہو گیا۔ انھیں عمران خان کا گھر پسند آیا ان کے بقول جیسے وہ مری میں ہوں۔ میاں صاحب کے اس دورے سے عمران کا یہ فائدہ ہوا کہ جب اس نے میاں صاحب کو اپنے گھر کے بارے میں بتایا کہ پہلے یہاں جنگل تھا جس کو میں نے منگل بنایا ہے لیکن اس کے باہر کی زمین پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ میاں صاحب نے حکم دیا کہ یہ قبضہ فوراً ختم کرایا جائے۔ تازہ اطلاع یہ کہ اس پر عمل شروع ہو چکا ہے اور سی ڈی اے کے افسر سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس واقعے سے مجھے اندازہ ہوا کہ عمران خان واقعی سیاستدان بن گئے ہیں کہ ایک نجی سی سماجی ملاقات بھی انھوں نے بے سود نہیں جانے دی۔ اس سلسلے میں مزید کچھ عرض نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ میاں صاحب اسلام آباد جیسے خطر ناک شہر اور اس کے ایک خطر ناک علاقے سے بخیر و عافیت واپس آ گئے جس شہر میں کچہریاں تک محفوظ نہیں وہاں کسی دور کے گھر کا راستہ کیسے محفوظ ہو سکتا ہے مگر کسی گمنام سفر میں ایسا راستہ وزیر اعظم پر بھی محفوظ ہو سکتا ہے حالانکہ وزیر داخلہ ان کی گاڑی چلا رہے تھے جو بذات خود ایک خطرناک وجود ہیں اور شاید کسی دہشت گرد کے نشانے پر بھی۔
ہمارے حکمرانوں کو سیکیورٹی کھا گئی ہے۔ ان کو یہ حاصل ہو تب بھی وہ خوفزدہ نہ ہو تو پھر بھی خوفزدہ جیسے ان کے خیال میں زندگی کی حفاظت صرف یہ تھکے ہوئے چند سپاہی کر سکتے ہیں اور زندگی اور موت خدا کے اختیار میں ہے والا فیصلہ فی الحال معطل ہے۔ حکمرانوں کے عوام کے قریب تر رہنے کی پالیسی اس سیکیورٹی کے خوف نے ختم کر دی ہے۔ ہماری تو تین سب سے بڑی ہستیاں عوام کی قربت کی وجہ سے ختم ہو گئیں۔ انھوں نے اپنی سیکیورٹی کی پروا نہ کی بلکہ اسے اسلامی طرز حکومت کے خلاف سمجھا۔ حضرت عمرؓ کہیں اکیلے جا رہے تھے کہ کسی نے روک کر کہا کہ کسی کو ساتھ لے لیتے تو بہتر تھا جواب دیا کہ میں لوگوں کی حفاظت کے لیے ہوں وہ میری حفاظت کے لیے نہیں ہیں۔ مخالفین کو علم تھا کہ حضرت عثمانؓ اس وقت کہاں ہیں اور اسی طرح سب جانتے تھے کہ حضرت علیؓ کی مسجد میں آنے جانے کے اوقات کیا ہیں یہ ان دونوں کو بھی معلوم تھا مگر انھوں نے عوام سے دور رہنا بلکہ آج کے زمانے کے مطابق ان سے چھپ کر رہنا جائز نہ سمجھا۔ حضرت عمرؓ نے مسجد میں ایک آدمی کو دیکھ کر کہا کہ یہ مجھے قتل کر دے گا۔ سننے والوں نے کہا کہ اسے ابھی پکڑ لیتے ہیں مگر انھوں نے کہا کہ کیسے پکڑ لیتے ہیں ابھی تک تو اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ بعد میں اسی نے ان کو شہید کر دیا تھا۔ زندگی اور موت کے سلسلے میں حضرت خالد بن ولید کی بات بہت مشہور ہے انھوں نے آخری وقت میں فرمایا تھا کہ موت لکھی ہوئی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے اور جب موت مقدر ٹھہرے تو زندگی دوڑتی ہوئی خود ہی موت سے لپٹ جاتی ہے۔ زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا۔ دنیا کے بزدلوں کو میرا یہ پیغام سنا دو کہ اگر جہاد کے میدان میں موت ہوتی تو خالد کو بستر پر موت نہ آتی۔ سو سے زیادہ جنگوں میں حصہ لیا جسم کا کوئی حصہ نہیں کہ جس پر زخم کا نشان نہ ہو لیکن شہادت مقدر میں نہ تھی۔ اب بستر پر ہوں''۔
اللہ کی تلوار کے پیغمبرانہ لقب سے متصف نے بڑی سادگی کے ساتھ ایک اٹل حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے حیرت ہے کہ ہمیں بتایا گیا کہ رزق اور زندگی اور موت' عزت اور بے عزتی سب اللہ کے اختیار میں ہے مگر ہم نے رزق کو رشوت میں تلاش کیا ہے زندگی اور موت کو پولیس کے حفاظتی سپاہیوں کے سپرد کر دیا ہے اور عزت اور بے عزتی حکمرانوں کی خوشنودی اور قربت سے وابستہ کر لی ہے۔ جب کوئی انسان ان دنیاوی سہاروں سے محروم ہوتا ہے تو وہ ایک زندہ عبرت بن جاتا ہے۔ عبرت کے ایسے نمونے میں نے بھی دیکھے ہیں۔
بات شروع دو لیڈروں کی خوشگوار ملاقات سے ہوئی تھی جو پوری قوم کے لیے ایک خوشخبری تھی۔ خود مجھے تو یہ توقع بالکل نہ تھی کہ میاں صاحب اس قدر فراخدلی کا ثبوت دیں گے۔ قوم کو اس واقعی نازک وقت میں اپنے اتحاد کی ضرورت ہے بھارت جیسے دشمن کی خوشنودی کی نہیں جس کے لیے ہم مرے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں چلتے چلتے عرض کر دوں کہ یہ قوم دشمن بھارت کے ساتھ دوستی کر کے اپنی موت کے پروانے پر دستخط نہیں کرے گی۔ ہمارے سادہ دل یا لالچی حکمرانوں کو اس حقیقت کا احساس ہونا چاہیے۔ خدا نے انھیں قوم کا بھاری اعتماد دیا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا کر قوم کو آزاد اور باعزت بنانے کی کوشش کریں جو سب سے زیادہ آسان کام ہے۔ بھارت کے ساتھ دوستی تو نا ممکن ہے۔ میاں صاحب نے پاکستانی قومی سیاسی لیڈروں کے ساتھ تعلقات کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ بہت مبارک اور باعزت ہے۔ اسے وہ اور آگے بڑھائیں۔ دوسری بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کے بہت خوشگوار تعلقات ہیں عوام میں موجود ایک بڑی جماعت کے لیڈر کے ساتھ انھوں نے برادرانہ ملاقات کر کے بڑی خوبصورت سیاست کی ہے۔ وہ اپنی سیاست کے اس حسن کو برقرار رکھیں اور اسے مبارک سمجھیں۔