دوست ملکوں سے پاکستان کو ملنے والی رقم پر تحفظات ہیںایشیائی ترقیاتی بینک

روپے کی قدروقتی مستحکم ہوئی،کوئی نہیں جانتایہ رقم کب تک پاکستان کے پاس رہے گی، اس سال معاشی شرح ترقی3.4فیصدمتوقع ہے


پاکستان بڑے بحران سے نکل آیا،درست سمت میں اصلاحات خوش آئندہیں،حکومت کیلیے غربت کم کرنامشکل ہوگا،کنٹری ڈائریکٹرورنرلی پیک ۔ فوٹو: فائل

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ دوست ممالک سے آنے والی رقم سے وقتی طورپرزرمبادلہ کے ذخائربڑھے اورروپے کی قدر مستحکم ہوئی لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ غیرملکی رقوم کب تک پاکستان کے پاس موجودرہے گی۔

اس طرح کی غیرملکی رقوم پرہمیں کچھ تحفظات ہیں،2014 میں جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح سب سے کم رہنے کا امکان ہے، پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو3.4 فیصد متوقع ہے جوجنگ زدہ ملک افغانستان اورنیپال سے بھی کم ہے، پاکستان میں اشیائے ضرورت کی قیمتیں9 فیصدتک بڑھ سکتی ہیں۔ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری بہت کم ہے، ایشیائی ممالک امیر اورغریب میں بڑھتے ہوئے فرق کوکم کرنے کیلیے عوامی فلاح وبہبود پر زیادہ رقم خرچ کریں۔

بینک کی خطے کی معیشت سے متعلق جاری کردہ رپورٹ ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک 2014 کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال معیشت کی کارکردگی میں قدرے بہتری کاامکان ہے تاہم سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کاخدشہ ظاہرکیاگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے بعض شعبوں خصوصاً توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث قدرے اقتصادی بہتری آئی ہے تاہم ملک میں امن وامان کی ناقص صورتحال اور اخراجات میں بدستوراضافے کی وجہ سے کئی مسائل درپیش ہیں۔اے ڈی بی کی پاکستانی مشن میں ماہراقتصادیات فرزانہ نوشاب نے غیرملکی میڈیا کو بتایا سیلزٹیکس، بجلی، گیس اورغذائی اشیا کی قیمتیں بڑھانے سے مہنگائی کی شرح بڑھی ہے۔ اگرچہ روپے کی قدرمیں بہتری معیشت کے لیے اچھاہے تاہم یہ ایک مرتبہ ملنے والی رقوم ہیں کوئی نہیں جانتایہ آئندہ سال ملیں گے بھی یانہیں۔

مقبول خبریں