فوج اورعوام کو لڑانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہونگی اشرفی

جس نے آئی ایس آئی کو بدنام کیا وہ اکیلا ایک طرف، باقی سارا میڈیا دوسری طرف کھڑا ہے، ایاز خان


Monitoring Desk May 01, 2014
آرمی چیف نے بیلنس تقریرکی، تمام اہم ایشوز کو ڈسکس کیا، خبر سے آگے میں نبیلہ سندھو سے گفتگو ۔ فوٹو: فائل

سینئر تجزیہ کار ایاز خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے بہت بیلنس تقریر کی جس میں انھوں نے تمام اہم ایشوز کو ڈسکس کیا ہے۔

انھوں نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ ہم میڈیا کی آزادی کے حق میں ہیں لیکن یہ آزادی ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ایک عرصے کے بعد '' کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے '' سنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت بھارت کیساتھ بہت تیزی سے قریب ہو رہی ہے اس میں حکومت کیلیے پیغام ہے کہ کشمیر پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ اپنی تقریر میں حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کی تائید کی ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہنا چاہئے کہ ہم ان سے نمٹنے کی بھرپورصلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام خبر سے آگے میں میزبان نبیلہ سندھو سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی پر جو تنقید کی گئی یہ ایسا موقع تھا کہ حکومت فائدہ اٹھا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا آج عوام شدید گرمی کے باوجود سڑکوں پر نکل کر فوج سے اظہاریکجہتی کر رہے ہیں۔

فوج کو جو رسپانس ملا ہے اس کا اس حدتک اندازہ نہیں تھا۔ جس نے آئی ایس آئی کو بدنام کیا وہ آج اکیلا ایک طرف کھڑا ہے، باقی سارا میڈیا دوسری طرف کھڑا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دیا جائے لیکن کوئی بھی ساتھ نہیں دے رہا۔ عوام کا غصہ ابھی تک کم نہیں ہوا کیونکہ وہ مسلسل اسی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ میڈیا گروپ پر جو الزامات تھے یشونت سنہا کے خط نے ان کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ اس میڈیا گروپ نے بھارتی آرمی چیف کی لائیو پریس کانفرنس دکھا دی تھی۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ یشونت سنہا کو جواب دیتے کہ تم کون ہوتے ہو ہمارے اندرونی معاملات میں دخل دینے والے۔ افسوس یہ بھی ہے کہ جیو نے اپنی غلطی کو تسلیم ہی نہیں کیا، وہ مسلسل اپنے موقف پر قائم ہیں ۔ ہم نہیں کہتے کہ جیو ٹی وی کو بند کردیں لیکن لوگ یہی کہہ رہے ہیں۔ نوازشریف نے یوم شہداکے حوالے سے بہت مثبت پیغام دیا ہے۔

جنرل راحیل میں فیصلہ سازی کی قوت ہے جو اشفاق کیانی میں نظر نہیں آرہی تھی۔ یوم شہدا پر جنرل راحیل کی تقریر کو ساری قوم نے پوری توجہ سے سنا ہے، اس سے قبل بھی سابق آرمی چیف اشفاق کیانی تقریر کیا کرتے تھے لیکن اس پر عوام کا اتنا فوکس نہیں ہوتا تھا۔ جب بھی کوئی معاملہ ہوتا ہے کوئی حادثہ یا کوئی بری خبر آتی ہے تو سب سے پہلے ردعمل ایم کیو ایم کے رہنما الطاف بھائی کی طرف سے آتا ہے اور سب سے آخر میں عمران خان کا ردعمل آتا ہے اس کی سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کیوں ہے۔ عمران کو بہت دیر سے سمجھ آئی کی سابق چیف جسٹس کس جگہ پر کھیل رہے ہیں۔اب ان کو احساس ہوا ہے کہ پی ایم ایل این، افتخار چودھری اور جیو نے مل کر ان کو ہرایا ہے۔

عمران نے فوج کے حق میں بیان بھی بہت دیر سے دیا شاید وہ اس وجہ سے ڈر گئے کہ اگر وہ کچھ بولیں گے تو ان پر پہلے ہی آئی ایس آئی کی سپورٹ کا الزام ہے کہیں ان پر پھر سے تنقید نہ کی جائے۔ عمران خان اور طاہرالقادری دونوں ہی سٹریٹ پاوررکھتے ہیں۔ حکومت کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ جتنے بھی نادہندہ تھے چاہے وہ حکومت کے ادارے ہی کیوں نہ ہوں ان کی بجلی کاٹ دی ہے اور جبتک ان سے پیسے نہیں نکلوا لیتے کنکشن بحال نہیں ہو رہے۔ سندھ اسمبلی سے وفاق کیخلاف آنیوالی آواز خطرناک ہے، میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے پہلے ہوم ورک نہیں کیا ان کو پہلے آپس میں بیٹھ کربات کرلینی چاہیے تھی۔

عابد شیر علی جو کر رہے ہیں وہ فول پروف ہونا چاہیے۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب قوم پر پھر سے نازل ہو رہا ہے اور تمام صوبوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاک فوج کی وجہ سے ہمارا ملک کئی مسائل سے بچا ہوا ہے، پاکستان شہدا کی قربانیوں سے بنا تھا اور آج شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہی پاکستان بچ رہا ہے۔ ہماری افواج ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں پاک فوج اور عوام کو آپس میں لڑانے کیلیے بڑی دیر سے کوششیں ہو رہی ہیں لیکن یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔

مقبول خبریں