جڑواں شہروں میں 600 سے زائد غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا انکشاف
اسلام آباد کے سارے برساتی نالے سیوریج کے نالے بن چکے ہیں، ماحولیاتی ایجنسی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں جڑواں شہروں میں 600 سے زائد غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کا انکشاف ہو ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی نزہت پٹھان کی زیر صدارت سی ڈی اے سیکرٹریٹ میں ہوا جس میں چیئرمین سی ڈی اے نور الامین مینگل نے انکشاف کیا کہ جڑواں شہروں میں 600 سے زائد غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں جن میں اسلام آباد میں 150، راولپنڈی میں 318، فتح جنگ اور اٹک میں 100 کے قریب سوسائٹیز موجود ہیں۔
ممبران کمیٹی نے کہا کہ غیرقانونی ہاوسنگ سوسائٹیاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ سی ڈی اے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، سمندر پار پاکستانیز جعلی سوسائٹیوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے غیرقانونی سوسائٹیوں کیخلاف کیا کررہا ہے؟، سی ڈی اے غیرقانونی سوسائٹیوں کی فہرست جاری کرے، اشتہار کے ذریعے عوام کو غیرقانونی سوسائٹیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے، ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) فرزانہ الطاف نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے ماحولیاتی رپورٹ طلب کرلی ہیں، ایک ہفتے میں ماحولیات کے معیار پر پورا نہ اترنے والی سوسائٹیوں کے این او سی کینسل کردیے جائیں گے۔
ای پی اے حکام نے کہا کہ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو 3 کروڑ 30 لاکھ کا جرمانہ ہوا ہے، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں سیوریج نالوں میں پھینک رہی ہیں، اس وقت اسلام آباد میں کچرا پھینکنے کی کوئی سائیٹ نہیں ہے جہاں جس کا دل چاہتا ہے وہاں کچرا ڈال رہا ہے، اسلام آباد کے سارے برساتی نالے سیوریج کے نالے بن چکے ہیں۔
کمیٹی میں مارگلہ ہلز پر لائٹس لگانے کے معاملے پر بحث میں سی ڈی اے نے لائٹس لگانے سے انکار کردیا، چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں روڈ ایریا پر لائٹس لگانی چاہئیں، زیادہ تر لوگ اسلام آباد کا ویو دیکھنے جاتے ہیں۔ کچھ جانور روشنی سے ڈرتے ہیں، بہت سارے لوگ وہاں جا کر بیٹھتے ہیں ان پر حملے بھی ہوتے ہیں۔
چیئرپرسن کمیٹی کو وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ ٹریلز پر دن کے اوقات میں بے شمار لوگ جاتے ہیں۔ سڑک پر رات کے اوقات میں روشنی ہوتی ہے ہمارے پاس عملے کے کمی ہے مگر پیٹرولنگ کی جاتی ہے، ایف نائن پارک اور نیشنل پارک میں واضح فرق ہے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ ایف نائن پارک میں تو بچیوں کے ریپ ہوتے ہیں، رکن کمیٹی صابر قائم خانی نے کہا کہ کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ نیشنل پارک میں عوام نہیں جا سکتی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اس سال آگ لگانے کے واقعات میں بھی کمی آئی ہے، مارگلہ ہلز پر ہم نے دفعہ 144 نافذ کی۔ اس بار خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف جرمانہ نہیں کیا، جیل بھیجا گیا۔
سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ اسلام آباد میں 63 ہاوسنگ اسکیمز ہیں، سی ڈی اے نے 43 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو این او سی جاری کیا ہے، 10 اسکیمز کے این او سی منظوری کے عمل میں ہیں، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سی ڈی اے کی کسی کمیٹی کا حصہ نہیں۔
رکن کمیٹی رومینہ خورشید نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات کی اجازت سی ڈی اے کی جانب سے دی جاتی ہے، سی ڈی اے تعمیرات کی اجازت دیکر معمولی جرمانہ کردیتا ہے، کمیٹی نے سی ڈی اے بورڈ میں ایک انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کا نمائندہ شامل کرنے کی سفارش کردی۔
رکن کمیٹی شاہد رحمانی نے کہا کہ ایف نائن پارک میں جا کر دیکھیں بدترین صورتحال ہےایف نائن پارک میں آنے والا پانی ای سیکٹر کے نالوں کا ہے، نالے صاف کرنا ای پی اے کا کام نہیں سی ڈی اے کا کام ہے۔