آپریشن ضرب عضب ناقابل قبول ہے افغانستان کا واویلا

حقانی نیٹ ورک کو نشانہ نہیں بنایا جارہا، آپریشن صرف پاکستانی طالبان کیخلاف ہو رہا ہے، افغان وزارت خارجہ کا الزام


این این آئی July 22, 2014
حقانی نیٹ ورک کو نشانہ نہیں بنایا جارہا، آپریشن صرف پاکستانی طالبان کیخلاف ہو رہا ہے، افغان وزارت خارجہ کا الزام فوٹو: فائل

افغانستان نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کوناقابل قبول قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اس آپریشن میں حقانی نیٹ ورک کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے اور یہ آپریشن ضرب عضب صرف پاکستانی طالبان کے خلاف استعمال ہورہا ہے، بلاتفریق کارروائی کی جائے۔

صوبہ پکتیکا میں حالیہ بم دھماکے میںحقانی نیٹ ورک کا ہاتھ تھا جس کو پاکستانی سیکیورٹی ایجنسی کی حمایت حاصل ہے، ہمارے سیکیورٹی اداروں کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ادارے مبینہ طور پر حقانی نیٹ ورک کا ساتھ دے رہے ہیں۔

صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے بہت سے دورے کیے اورہر موقع پر یہ مسائل اٹھائے ہیں لیکن یہ تمام کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں،پیر کو افغان وزارت خارجہ کے ترجمان احمد شکیب نے ہفتہ وارپریس بریفنگ میں کہا کہ افغانستان نے گزشتہ13 سال سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سہ فریقی اوربین الااقوامی فورمز اوربین الااقوامی برادری کے ساتھ پاکستان کے کردارکے حوالے سے بات چیت کی ہے تاہم افغانستان مین حالات مزید خراب ہوئے ہیں، واضح رہے کہ پاکستان افغانستان کے الزامات کو مستردکرتاہے رہا ہے اور کہتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن حقانی نیٹ ورک سمیت تمام مسلح گروہوں کے خلاف ہورہاہے۔

مقبول خبریں