’سندھ میں3صوبےبناکرمسائل حل کیےجاسکتےہیں،‘نئےصوبوں کی تشکیل سےمتعلق آئی پی پی کےلائحہ عمل کا اعلان

سندھ کی حکمران پارٹی تین صوبوں میں عوامی مسائل کا حل اور ترقی کا دورشروع کرسکتی ہے،عبدالعلیم خان


ویب ڈیسک December 10, 2025

نئے صوبوں کی تشکیل پر استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا نئے صوبے بننے کا فائدہ عوام کے علاوہ حکمران سیاسی پارٹیوں کوبھی ہوگا، اگرسندھ میں تین صوبے بنتے ہیں توحکمران جماعت تین وزرائے اعلیٰ نامزدکرسکتی ہے، سندھ کی حکمران پارٹی تین صوبوں میں عوامی مسائل کا حل اور ترقی کا دورشروع کرسکتی ہے۔

صدرآئی پی پی نےمزید کہا تین صوبوں میں نئے آئی جی،نئے چیف سیکرٹریز اورنئے ہائی کورٹس بن سکتے ہیں،اس سے وہاں کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا اور حکومتیں گڈ گورننس کرسکیں گی،اسی طرح پنجاب میں بھی حکمران پارٹی تین سے چارمزید صوبے تشکیل دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بھی حکمران جماعت کو مزید وزرائے اعلیٰ نامزد کرنے اورعوامی مسائل کے فوری حل کا موقع ملےگا،کسی صوبے کا نام تبدیل نہیں ہوگا، نئے صوبے شمالی، جنوبی، مغربی اور مشرقی صوبے کے نام سے ہونگے۔

صدر آئی پی پی نے کہا نئے صوبوں کے قیام سے  ملک بھر میں لوگوں کےمسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں گے، بلوچستان میں کوئٹہ سے گوادر کا فاصلہ ایک ہزارکلومیٹر کے لگ بھگ ہے، دور دراز کے شہریوں کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے مزید صوبے بنانا ہوں گے،بلوچستان کے دور انداز علاقوں میں حل طلب مسائل زیادہ ہیں، بلوچستان میں لوگوں کو صوبائی دار الحکومت پہنچنے میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں،

انہوں نےکہاکے پی کے اورپنجاب میں بھی شہریوں کی دادرسی مزید بہترکرنےکی ضرورت ہے،نئے صوبوں کا قیام درحقیقت عوامی مشکلات کے حل کی طرف درست اقدام ہوگا،ہمیں تعصب کی عینک اتار کر عوامی مشکلات حل کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا، یہ قدم پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا،دل بڑا کریں، نئے صوبوں کی تجویز عوام کی فلاح و بہبود کے پس منظر میں دی جا رہی ہے،عبدالعلیم خان

کسی جماعت کو ایک کی بجائے تین تین وزرائے اعلیٰ مل جائیں تو اس میں کیا حرج ہے،اگر لوگوں کے مسائل زیادہ حل ہوں تو سیاسی جماعت بھی زیادہ مقبول ہو جائے گی۔

مقبول خبریں