بھارتیہ جنتا پارٹی کے متنازع اور انتہا پسند رہنما سنگیت سوم نے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں ’غدار‘ قرار دے دیا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب شاہ رخ خان کی ملکیت آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔
اُتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن سنگیت سوم نے میرٹھ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ رخ خان نے بنگلادیشی کھلاڑی کو خرید کر ملک سے غداری کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک طرف بنگلادیش میں ہندوؤں پر تشدد کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور دوسری جانب بھارتی لیگ میں وہاں کے کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے دے کر خریدا جارہا ہے۔
سنگیت سوم نے الزام لگایا کہ شاہ رخ خان نے مستفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل 2026 کی نیلامی کے دوران تقریباً 9 کروڑ روپے میں خریدا، جو ان کے بقول ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ایسے لوگوں کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے جو ملک کے جذبات کے خلاف فیصلے کریں۔
بی جے پی رہنما نے شاہ رخ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو مقام اور دولت حاصل کی ہے وہ اسی ملک کی بدولت ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جنہیں وہ ملک سے غداری کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق دولت کمائی جا رہی ہے بھارت سے، مگر فائدہ ایسے لوگوں کو دیا جا رہا ہے جن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سنگیت سوم نے مزید سخت بیان دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر مستفیض الرحمٰن جیسے کھلاڑی، جنہیں 16 دسمبر کو ہونے والی آئی پی ایل 2026 کی نیلامی میں 9.2 کروڑ روپے میں خریدا گیا، بھارت آئے تو وہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں اس معاملے کو کھیل، سیاست اور انتہاپسندی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔