اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب سال 2025 کے دوران 69 ہزار سے زائد افراد نے اسرائیل چھوڑ دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسلسل دوسرے سال بھی اسرائیل میں منفی ہجرت ریکارڈ کی گئی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق غزہ جنگ، سیاسی بے چینی، داخلی عدم استحکام اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات ملک چھوڑنے کی بڑی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران صرف 24 ہزار 600 نئے مہاجرین اسرائیل آئے، جو ملک چھوڑنے والوں کی تعداد کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی مجموعی آبادی بڑھ کر ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار ہو گئی، تاہم آبادی میں اضافہ صرف 1.1 فیصد رہا، جو ملکی تاریخ کی سست ترین شرحِ نمو میں سے ایک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگی صورتحال، سیاسی کشمکش اور سکیورٹی عدم تحفظ نے عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں شہری بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آئندہ برسوں میں اسرائیل کو مزید آبادی اور افرادی قوت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔