حکمرانوں کی ذمے داری اور سگ گزیدگی کے واقعات

حکمرانوں کو اس بات سے استثنیٰ بالکل نہیں ہے، کہ وہ اسلامی قوانین اور تعلیمات کو نظر انداز کردیں


نسیم انجم January 11, 2026

ہمارے ملک پاکستان میں اندھیر نگری چوپٹ راج کی حکمرانی اس وقت سے قائم ہے جب پاکستان کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا دوسرے ممالک بتدریج ترقی کی راہوں پرگامزن رہے اور ہم برق رفتاری کے ساتھ تنزلی کی طرف رواں دواں ہیں اور پوری دنیا تماشا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان میں چشم نم وہ نظارے دیکھنے پر مجبور ہے جس کے بارے میں نہ کبھی سنا تھا اور نہ دیکھا تھا۔

 حکمرانوں کی نااہلی کی تصویر ضروردیکھیں اور ان منصفین کی، جن کی ناانصافی کی وجہ سے آج بے قصور مرد و زن قیدی اور ان کے لواحقین اذیت سے دوچار ہیں اور جیل کی چار دیواری میں مقید ہیں۔

یہ یقینا بے حد قابل مذمت اور مظلومیت کی داستان ہے، جس کی رسی دراز ہو رہی ہے لیکن ساتھ میں ظالموں کے لیے اللہ نے فی الحال ڈھیل دی ہوئی ہے، جس طرح تاریخ کے جنگجوؤں اور بے رحم و سفاک بادشاہوں کو دی تھی کسی نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور کسی نے جنت و دوزخ اس دنیا میں ہی بنا لی تھی۔ 

میرا اشارہ فرعون و شداد کی طرف ہے، فرعون نے محض اپنی حکومت کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لیے مصرکے نوزائیدہ سیکڑوں لڑکوں کو قتل کروا دیا لیکن وہ اس بات کو بھول گیا کہ طاقت کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ ہے وہ بڑی حکمت والا یکتا اور واحد ہے، کس طرح اس نے اپنی قدرت کاملہ سے زمین و آسمان پیدا کیے۔

آج کے حالات بھی بڑے خطرناک ہیں ہر لمحہ خیر کی دعا کرنے کی ضرورت کے ساتھ اپنے روز مرہ کے کاموں کو عمل صالحہ کے تحت انجام دینا ناگزیر ہے۔

یہ اسی وقت ممکن ہے جب قرآن پاک کی تعلیمات کو اپنا رہنما بنایا جائے۔ حکمرانوں کو اس بات سے استثنیٰ بالکل نہیں ہے، کہ وہ اسلامی قوانین اور تعلیمات کو نظر انداز کردیں، جب صاحبان اقتدار وہ ہر کام قرآن کی روشنی میں انجام دیں گے، تب اس کے اثرات رعایا بھی قبول کرے گی۔

اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے حکمرانوں کی ذمے داریوں اور ان کے تدبر و اوصاف و انصاف کی پاسداری کا ذکر فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کا بھی ذکر کیا ہے، اللہ نے سورۃ ’’ص‘‘ کی آیت نمبر 20 میں فرمایا ہے کہ ’’ اور ہم نے مضبوط کردی اس کی بادشاہی اور ہم نے دی اسے حکمت اور فیصلہ کن گفتگو کی (صلاحیت) ۔‘‘

حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے کہ اے داؤد! (بے شک) ہم نے بنایا ہے تجھے زمین پر خلیفہ تو، تو فیصلہ کر لوگوں کے درمیان، حق کے ساتھ اور نہ پیروی کر خواہش (نفس) کی ورنہ شیطان تجھے گمراہ کر دے گا، تجھے اللہ کی راہ سے، بے شک (وہ لوگ) جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس وجہ سے (کہ) انھوں نے بھلا دیا یوم حساب کو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر کام کی حد مقررکی ہے جس کا مقصد جرائم کا خاتمہ اور ملک میں امن و امان کو قائم کرنا ہے۔ قرآن پاک کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ہر کو اپنی ذمے داریوں کو بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دینا چاہیے تاکہ عوام سکون بھری زندگی بسر کر سکیں۔ 

ان کی تنخواہیں، علاج معالجہ، تعلیم اور حفظان صحت کے لیے گلیوں محلوں کی صفائی اور اس کے ساتھ ہی جنگلی جانوروں، آوارہ اور پاگل کتوں سے بچاؤ کے لیے ان کی تعداد کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

ایک خبر نے مجھے نہ کہ چونکایا بلکہ ایک حد تک پریشان بھی رکھا، خبر یہ تھی کہ پانچ دن یعنی صرف پانچ دنوں میں ماہ و سال نہیں، 850 کم عمر بچے سگ گزیدگی کا شکار ہوئے۔

یہ حکومت سندھ نے نئے سال کا تحفہ اپنے شہریوں کو زخموں اور غموں کی شکل میں دیا ہے، معصوم بچوں کے چہروں اور جسموں کو خون آلود کر دیا گیا ہے، ایک شخص کا انگوٹھا اس لیے کاٹا گیا تاکہ ریبیز سے بچاؤ ہو سکے۔

ہمارے پاکستان کی عوام اور ادارے قابل تحسین ہیں کہ وہ ہر برے وقت میں آگے بڑھتے ہیں اور بغیر کسی مفاد کے اپنا کام فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں مذکورہ زخمیوں کا علاج کورنگی کے ایک اسپتال میں کیا گیا۔ اسپتال میں 300 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اسپتال کے منیجر ریبیز آفتاب گوہر کے بقول کراچی کے مختلف علاقوں میں کتوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ قابل غور مسئلہ آج کا یہ دو چار روز پرانا نہیں ہے، بلکہ پندرہ بیس سال قبل سے آوارہ کتوں کا راج گلیوں اور محلوں میں پابندی سے قائم ہے۔

بڑے بڑے دل دہلانے والے واقعات رونما ہو جاتے ہیں لیکن حکومت اپنے فرائض سے چشم پوشی کرکے عوام کو مزید مشکلات میں مبتلا کرتی ہے۔

اعلیٰ افسران، وزیر، مشیر ،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اور میئر کراچی کی یہ ذمے داری نہیں ہے کہ وہ غریب و بے بس امرا و غربا کے جان و مال کی حفاظت کرے، خود نہیں کرسکتے تو ہمارے صوبے میں بے شمار اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت کے لیے دھکے کھا رہے ہیں انھیں اپنا منیجر مقرر کریں۔ 

وہ کراچی اور اندرون سندھ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پابند ہوں اس طرح سے سو، پچاس یا اس سے زیادہ باصلاحیت حضرات کے لیے نوکری کے مواقع میسر آجائیں گے۔ مقتدر حضرات کے اس کارخیر سے ثواب اور دعائیں ملیں گی، دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں، حادثات سے بچاتی ہیں، بیماری سے محفوظ رکھتی ہیں، میرا خیال ہے حکومت سندھ اس منافع بخش سودے سے محروم نہیں رہے گی، اگر وہ عوام کی خدمت کرنا چاہے تو۔۔۔!

مقبول خبریں