انسان جب اس دنیا میں آیا تھا تب وہ بولنا نہیں جانتا تھا نہ اُس کا کوئی مسکن و مکان تھا وہ جنگلوں میں جنگلی جانوروں کے درمیان زندگی گزار رہا تھا، پاؤں کے نیچے زمین اور سر کے اوپر کھلا آسمان سب کچھ اُسی کا تھا، ہر نیا دن اُس کے لیے نئی زندگی کی مانند تھا، زمینی سرحدوں سے آزاد، روز خوراک کی تلاش میں وہ ایک جگہ سے دوسری اور دوسری سے تیسری تک رسائی حاصل کرتا رہتا تھا۔
اُس وقت انسان کے کندھوں پر اپنی ذات کے علاوہ دوسرے انسان کی ذمے داری نہیں تھی، اُس کے اندر کسی قسم کے ڈر نہ دیگر انسانوں کے لیے منفی جذبات و احساسات موجود تھے۔
وقت بدلنے اور زمینی و موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ انسان میں شعور اُجاگر ہوا اور وہ جنگلوں سے باہر آکر بستیاں اور علاقے تشکیل دینے لگا جنھوں نے آگے چل کر شہروں اور ملکوں کی شکل اختیارکی۔
جب تک وہ جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹا رہا تھا تب تک وہ وابستگی کے احساس سے بالکل ناآشنا تھا لیکن جیسے ہی اُس نے شکار کو چھوڑ کر اپنی خوراک کے لیے زراعت پر انحصار کرنا شروع کیا، اُسے دوسرے انسان کی ضرورت پڑنے لگی اور ہر اکیلا انسان گروہ کا حصہ بننے لگا۔
انسان کے پاؤں پر شکار نے جو پہیے لگا رکھے تھے، زراعت نے اُن پر بیڑیاں ڈال دیں اور اب وہ آزاد فضا میں اُڑنے کے بجائے ایک جگہ ٹھہرنے لگا اور در و دیوار سے وابستہ ہونے لگا۔
جائے سکونت اور مختلف گروہوں کا وجود میں آنا، انسان کو خاندانی نظام کی جانب لے گیا اور اُس کے کندھوں پر ذمے داریوں کا بوجھ بڑھنے لگا، پہلے جو مفت میں خوراک میسر آرہی تھی، اب اُس کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی تھی، محنت مزدوری یا اپنے پاس موجود کسی قیمتی شے کی صورت میں۔
انسان جب اکیلا تھا تب اُس کا کسی سے کوئی اختلاف تھا نہ جھگڑا لیکن گروہوں میں تقسیم ہونے اور حصولِ خوراک کے لیے مل کر محنت کرنے میں جہاں تصورِ زندگی بدلا وہیں ان گنت آپسی اختلافات نے بھی جنم لیا اور اُن اختلافات کو افہام و تفہیم سے سلجھانے کی غرض سے سربراہ کا منصب معاشرے کا حصہ بنا، ہرگروہ میں موجود افراد باہمی رضامندی سے اپنے میں سے سب سے قابل انسان کو سردار کے طور پر چننے لگے۔
سردار کا منصب اپنے تمام تر سردارانہ جاہ و جلال کے ساتھ معروضِ وجود میں آیا تھا۔ انسان کو جب اپنے ہی جیسے دیگر انسانوں پر حکمرانی کا موقع ملا تو وہ اپنے اختیارکے خمار میں وہ کچھ کرگزرا جس سے شیطان تک شرما گیا۔ اختیار درحقیقت طاقت کا پیش خیمہ ہے اور طاقت انسان سے اکثر ہی سنبھالے نہیں سنبھلتی ہے۔
حاکمِ وقت جب اپنی جائز حدود سے تجاوزکرکے اُنھیں عزت سے تخت پر بٹھانے والوں کا ہی استحصال کرنے لگے تو پھر اس دنیا نے بغاوت کا وہ دور بھی دیکھا جس میں ہر عروج کو زوال نصیب ہوا اور انسانوں کے درمیان فرق پیدا کرنے والی ہر لکیر مٹ گئی۔
ہر قسم کی تفریق کو ختم کرنے میں تعلیم نے اہم کردار ادا کیا، علم و دانش کے موتی جب معاشرے میں بکھرے تو انسان نے اپنی ذات پر زیادتی کرنے والے ہر در پر قفل لگایا ساتھ علم و تجربے کے میدان میں اپنی کامیابی کے ایسے جھنڈے گاڑے جن سے نہ صرف اُس دور کے انسانوں کو فائدہ حاصل ہوا بلکہ اُس کے بعد آنے والی نسلیں بھی اُن سے استفادہ حاصل کرتی رہیں۔
وقت کا پہیہ اس تیزی سے گھوما کہ جنگلوں، بیابانوں میں زندگی بسر کرنے والا انسان جدیدیت کی زندہ جاوید مثال بنے شہروں کے پختہ مکانوں و عمارتوں میں سائنسی ایجادات کے درمیان اپنی ذات کو آسانی در آسانی پہنچانے لگا۔
سائنس کی ارتقاء کے بعد دنیا یکسر تبدیل ہوگئی، ہر شے کو نئے معنی مل گئے، انسانی معاشروں کے مابین پہلے جو لڑائیاں زورِ بازو پر انحصارکرتی تھیں وہ سائنسی علم، تجربات و ایجادات اور تعلیم کے معیارکی مقابلے بازی کو بنیاد بنا کر ہونے لگیں۔
علم و عقل کے امتزاج نے جنگ کے ہتھیاروں کی ہیت بھی بدل کر رکھ دی، تلوارکی جگہ جب خطرناک کیمیکلز سے تیارکردہ بموں اورگولا بارود نے لی تو باشعور اور تعلیم یافتہ اقوام نے اپنے حصولِ مقاصد کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے انسانوں کا وہ حشر نشرکیا جو ناخواندگی کے اندھیرے میں ڈوبی ماضی کی تہذیبوں میں بھی ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔
ہر فائدہ پہنچانے والے شے اپنے وجود میں منفی اثرات بھی سموئے ہوئے ہوتی ہے، سائنس کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا اور رہی سہی کسر ٹیکنالوجی کی آمد نے پوری کردی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ہماری دنیا کو بہتر سے بہترین کی جانب لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہاں بھی انسان نے مثبت عوامل پر منفی عوامل کو ترجیح دی اور خود کو ٹیکنالوجی کے جہان کا خدا تصورکرتے ہوئے اپنا ہی متبادل تشکیل دے ڈالا جسے پہلے روبوٹ کہا گیا پھر اُس میں مزید جدیدیت پیدا کرکے ٹیکنالوجی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بنا کر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا لقب دے کر اُس کی وضع قطع بڑھائی گئی۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اے آئی ٹولز یا چیٹ بوٹز انسان کو مدد فراہم کرنے کی غرض سے وجود میں لائے گئے تھے مگر یہ مدد کم اور نقصان کا باعث زیادہ بن رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسان کی انٹیلیجنس کو بہت تیزی سے زنگ لگا رہا ہے، اُس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر رہا ہے اور اُس کو لوگوں کی بھیڑ بھاڑ سے دورکرکے تنہا در تنہا کر رہا ہے۔
اے آئی کی آمد کے بعد انسان علم اور ہر طرزکی معلومات کے حصول، اپنی زندگی کے اہم فیصلے لینے کے لیے رہنمائی یہاں تک کہ اپنا اکیلا پن دورکرنے کے لیے بھی اس پر بے انتہا انحصار کرنے لگ گیا ہے۔
یہ سب دنیا کے مستقبل کے حوالے سے کوئی اچھے اشارے نہیں ہیں بلکہ آیندہ آنے والے وقتوں کی بھیانک تصویر دکھلا رہے ہیں۔ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب انسان کو اپنی بقاء کی جنگ دیگر انسانوں سے نہیں بلکہ بے جان مگر اپنے اندر تباہی کا عنصر رکھنے والی مشینوں سے لڑنی پڑے گی۔